حالی جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا - مولانا الطاف حسین حالی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 23, 2011

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,377
    غزل
    جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا
    یہ بھید ہےاپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا
    ہو لاکھ غیروں کا غیر کوئی نہ جانتا اس کو غیر ہرگز
    جو اپنا سایہ بھی ہو تو اس کو تصور اپنا نہ کیجئے گا
    اسی میں ہے خیر حضرت دل کہ یار بھولا ہوا ہے ہم کو
    کرے وہ یاد، اس کی بھول کر بھی کبھی تمنّا نہ کیجئے گا
    تمہارا تھا دوستدار حالی اور اپنے بیگانہ کا رضا جو
    سلوک اس سے کئے یہ تم نے تو ہم سے کیا کیا نہ کیجئے گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,788
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    لاجواب۔

    شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,377
    محمد وارث صاحب اور محمد یاسر علی آپ دونوں کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    شاعر الطاف حسین حالی رحمۃ اللہ علیہ میرے پسندیدہ شاعر ہیں
    ہمیشہ انہوں نے مسلمانوں کی راہنمائی فرمائی ہے
    بہت شکریہ کاشفی بھائی
     
  5. احسان اللہ سعید

    احسان اللہ سعید محفلین

    مراسلے:
    210
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    پوری غزل بے مثل ہےمگر اس شعرمیں کمال کا فلسفہ وتجربہ بیان کیا ہے۔
    عاجزانہ مشورہ ہےکہ شاعر کے نام کے ساتھ ساتھ وفات بھی لکھ دی جائےتوبارباردیکھنے سے ذہن نشین ہوجائےگی۔
    بہت بہت شکریہ، جزاکم اللہ
     

اس صفحے کی تشہیر