نتائج تلاش

  1. کاشفی

    16 دسمبر 1971 - مشرقی پاکستان

    16 دسمبر 1971 - مشرقی پاکستان
  2. کاشفی

    ہم پاکستانیوں میں ایمانداری باقی ہے۔۔ ۔ جیوے پاکستان، جیوے پاکستانی

    الحمداللہ۔ ایک ایماندار پاکستانی نے دو لاکھ سعودی ریال سے بھرا بریف کیس وآپس کیا۔ اللہ اسے دنیا و آخرت میں کامیاب کرے۔۔آمین پاکستانی زندہ ہیں۔۔ جیوے پاکستان - جیوے پاکستانی 200,000 Saudi riyals found in taxi Sharjah: A taxi driver was surprised to discover 200,000 Saudi riyals (Dh200,000) had...
  3. کاشفی

    پاکستانیوں کو نیا وزیرِ اعظم مبارک ہو۔۔

    فوج سیاستدانوں کوکنٹرول کرنے کی پالیسی ختم کرے،عمران خان واشنگٹن‘ لاہور (ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہناہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاک فوج اپنی آئینی حدودمیں رہتے ہوئے سیاستدانوں کو پتلیوں کی طرح کنٹرول کرنے کی پالیسی ختم کرے،ان خیالات کااظہارانہوں نے الجزیرہ ٹی وی کوانٹرویو...
  4. کاشفی

    فانی وہ نظر کامیاب ہو کے رہی - فانی بدایونی

    غزل (فانی بدایونی) وہ نظر کامیاب ہو کے رہی دل کی بستی خراب ہو کے رہی عشق کا نام کیوں کریں بدنام زندگی تھی عذاب ہو کے رہی نگہ شوق کا حال نہ پوچھ سربسر اضطراب ہو کے رہی چشم ساقی کی تھی کبھی مخمور خود ہی آخر شراب ہو کے رہی تابِ نطارہ لا سکا نہ کوئی بے حجابی، حجاب ہو کے رہی ہم سے فانی...
  5. کاشفی

    فانی جمال خود رخ بے پردہ کا نقاب ہوا - فانی بدایونی

    غزل (فانی بدایونی) جمال خود رخ بے پردہ کا نقاب ہوا نئی ادا سے نئی وضع کا حجاب ہوا ملا ازل میں مجھے میری زندگی کے عوض وہ ایک لمحہء ہستی کہ صرف خواب ہوا وہ جلوہ مفت نظر تھا، نظر کو کیا کہیئے کہ پھر بھی ذوقِ تماشا نہ کامیاب ہوا اُلٹ گئی مری اُمید و بیم کی دنیا یہ کیا نظامِ تمنّا میں انقلاب...
  6. کاشفی

    فانی دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے - فانی بدایونی

    غزل (فانی بدایونی) دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں جو اُجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے عجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت کامل کے جلوے پستی ہے تو بلندی ہے راز بلندی پستی ہے جان سی شئے بک جاتی ہے ایک...
  7. کاشفی

    اصغر گونڈوی جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے - اصغر گونڈوی

    غزل (اصغر حسین اصغر گونڈوی) جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے جنت ہے ایک خونِ تمنّا کہیں جسے اس جلوہ گاہ حسن میں چھایا ہے ہرطرف ایسا حجاب چشم تماشا کہیں جسے ہر موج کی وہ شان ہے جامِ شراب میں برق فضائے وادیء سینا کہیں جسے میں ہوں ازل سے گرم رو عرصہء وجود میرا ہی کچھ غبار ہے، دنیا کہیں جسے...
  8. کاشفی

    حسرت موہانی سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں - حسرت موہانی

    غزل (حسرت موہانی) سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں سیرِ گلشن وہ کریں شوق سے، تنہا نہ کریں اب تو آتا ہے یہی جی میں کہ اے محو جفا کچھ بھی ہو جائے مگر تری تمنّا نہ کریں میں ہوں مجبور تو مجبور کی پرسش ہے ضرور وہ مسیحا ہیں تو بیمار کو اچھا نہ کریں دردِ دل اور نہ بڑھ جائے تسلی سے...
  9. کاشفی

    حسرت موہانی چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک - حسرت موہانی

    غزل (حسرت موہانی) چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ قدر تو کرتے مرے اظہارِ وفا کی شاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک یوں غیر سے بےباک اشارے سرِ محفل کیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک عشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کی یا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے...
  10. کاشفی

    شاہ نیاز تونے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اُٹھا دیا - شاہ نیاز بریلوی

    غزل (نیاز بریلوی) تونے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اُٹھا دیا وہیں محو حیرتِ بیخودی مجھے آئینہ سا بنا دیا وہ جو نقشِ پا کی طرح رہی تھی نمود اپنے وجود کی سو کشش سے دامن ناز کی اسے بھی زمیں سے مٹا دیا کیا ہی چین خوابِ عدم میں تھا، نہ تھا زلفِ یار کا کچھ خیال سو جگا کے شور ظہور نے مجھے...
  11. کاشفی

    فانی شوق سے ناکامی کی بدولت کوچہء دل ہی چھوٹ گیا - فانی بدایونی

    غزل (فانی بدایونی) شوق سے ناکامی کی بدولت کوچہء دل ہی چھوٹ گیا ساری اُمیدیں ٹوٹ گئیں، دل بیٹھ گیا، جی چھوٹ گیا فصلِ گل آئی یا اجل آئی، کیوں در زنداں کھلتا ہے کیا کوئی وحشی اور آپہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا کیجئے کیا دامن کی خبر اور دستِ جنوں کو کیا کہیئے اپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گذری...
  12. کاشفی

    جوش ذاکر سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    ذاکر(1) سے خطاب (جوش ملیح آبادی) ہوشیار اے ذاکر افسردہ فطرت! ہوشیار مردِ حق اندیشہ، اور باطل سے ہو زار و نزار ضعف کا احساس، اور مومن کو، یہ کیا خلفشار لافتیٰ اِلاَّ علی علیہ السلام، لاسیف اِلاّ ذوالفقار جو حُسینی ہے، کسی قوت سے ڈر سکتا نہیں موت سے ٹکرا کے بھی ساونت مرسکتا نہیں تو نہیں...
  13. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    سُوگوارانِ حسین علیہ السلام سے خطاب (جوش ملیح آبادی) (1) اِنقلابِ تُندخُو جس وقت اُٹھائے گا نظر کَروٹیں لے گی زمیں، ہوگا فلک زیر وزبر کانپ کر ہونٹوں پر آجائے گی رُوحِ بحرو بر وقت کا پیرانہ سالی سے بھڑک اُٹھے گا سر موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا ہاں مگر نامِ حسین علیہ السلام ابن...
  14. کاشفی

    جوش شمعِ ہدایت - جوش ملیح آبادی

    شمعِ ہدایت (جوش ملیح ابادی) اے کہ تِرے جلال سے ہِل گئی بزمِ کافری رَعشہء خوف بَن گیا رَقصِ بُتانِ آذرِی خُشک عرب کی ریگ سے لَہر اُٹھی، نیاز کی قُلزمِ نازِ حُسن میں، اُف ری تری شناوری اے کہ تِرا غُبارِ راہ، تابشِ رُوئے ماہتاب اے کہ تِرا نشان پا نازِشِ مَہرِ خاوری اے کہ تِرے بیان میں،...
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    عیدِ آئندہ تک رہے گا گلِا ہو چکی عید تو گلے نہ مِلا (میر محمد تقی میر)
  16. کاشفی

    جوش آکہ پھر آج ہم آہنگ ہوئی ہے لَب جُو - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) آکہ پھر آج ہم آہنگ ہوئی ہے لَب جُو نَے کی لَے، چاند کی تنویر، صبا کی خُوشبو مُنعقد پھر سے کروں محفلِ جمشید و قُباد دو گھڑی صدرنشینی پہ جو آمادہ ہو تُو وقتِ کُن جو دلِ یزداں میں ہوا تھا غلطاں میرے دل میں بھی وہی آکے جگا دے جادُو کُفر سجدے میں گرے، دین کی نبضیں چھُٹ...
  17. کاشفی

    جنت اور زرداری کے دور کا پاکستانی

    جنت اور زرداری کے دور کا پاکستانی جنت کے دروازے پہ تین لوگ کھڑے تھے فرشتہ: صرف ایک آدمی ہی اندر جا سکتا ہے- پہلا آدمی: میں مولوی ہوں ، ساری عمر دین کی خدمت کی ہے، میں جاؤں گا۔ دوسرا آدمی: میں ڈاکٹر ہوں، ساری عمر لوگوں کی خدمت کی ہے، میں جاؤں گا۔ تیسرا آدمی: میں زرداری - - - - کے دور...
  18. کاشفی

    جوش مری مجال، تیری بزم، اور لَن ترانیاں! - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) مری مجال، تیری بزم، اور لَن ترانیاں! میں نقشِ پائے رہرواں، تُو افسر جہانیاں سخن فروشیاں نہ کر جہانِ حُسن و عشق میں کہ یاں ہر ایک خال میں ہیں لاکھ نکتہ دانیاں وہ زیبِ انجمن ہوا تو کوئی بولتا نہیں معاشرانِ بزم کیا ہوئیں وہ گل فشانیاں؟ ذرا اثر نہ پڑسکا جنونِ ذوقِ دید...
  19. کاشفی

    ہجر میں یوں ہی جان کھوتے ہیں - محشر لکھنوی

    غزل (محشر لکھنوی) ہجر میں یوں ہی جان کھوتے ہیں روتے ہیں اور خوب روتے ہیں میں سمجھتا ہوں غم کی داد ملی جب وہ رونے پہ شاد ہوتے ہیں بزم میں آئے تھے نہ بیٹھیں گے کیوں خفا اتنا آپ ہوتے ہیں ناصح اپنی آنکھیں دل اپنا کچھ تو ہم سمجھتے ہیں جو روتے ہیں یاد جاناں میں بیخودی سی ہے ہم نہ ہشیار ہیں...
Top