عبدالحمید عدم

  1. معاویہ وقاص

    عدم خط کے سوا وجود دو عالم تھا بے نشاں - عبدالحمید عدم

    خط کے سوا وجود دو عالم تھا بے نشاں اس محویت سے خط ترا پڑھتا رہا ہوں میں نکلا تھا اک حسیں کے تعاقب میں پیار سے اب تک اسی نشے میں چلا جا رہا ہوں میں اس سمت کھینچ لائی تھی دل کی تڑپ مجھے برہم نہ ہو ، ٹھہرتا نہیں ، جا رہا ہوں میں پہلے میں ناصحوں کے ستم کا شکار تھا اب اپنی جاں پہ آپ غضب ڈھا رہا...
  2. معاویہ وقاص

    عدم اٹھو ، سبو اٹھاؤ اٹھو ساز و جام لو - عبدالحمید عدم

    اٹھو ، سبو اٹھاؤ اٹھو ساز و جام لو دو دن کی زندگی ہے کوئی نیک کام لو یا تم بھی میرے ساتھ ہی گر جاؤ جھوم کر یا پھر مجھے بھی فرط محبت سے تھام لو یہ بھی سلام لینے کا ہے قاعدہ کوئی؟ آنکھیں ملاؤ ہاتھ بڑھا کر سلام لو آتی ہے لوٹ کر کہاں عمر گریز پا اس خانماں خراب سے خوب انتقام لو کیوں چپ کھڑے ہو حشر...
  3. معاویہ وقاص

    عدم وہ روشنی ، وہ رنگ ، وہ حدّت ، وہ آب لا - عبدالحمید عدم

    وہ روشنی ، وہ رنگ ، وہ حدّت ، وہ آب لا ساقی طلوع ہوتا ہوا آفتاب لا زلفوں کے جال ہوں کہ بھنوؤں کے ہلال ہوں اچھی سی چیز کر کے کوئی انتخاب لا ساقی کوئی بھڑکتی ہوئی سی شراب دے مطرب کوئی تڑپتا ہوا سا رباب لا ہلکی سی بے حسی بھی بہاروں کی موت ہے تھوڑی سی دیر بھی نہیں واجب ، شراب لا ساقی عدم نے...
  4. معاویہ وقاص

    عدم کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

    کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نہ خدا کے ساتھ کہتے ہیں جس کو حشر ، اگر ہے ، تو لازماً اٹھے گا وہ بھی آپ کی آواز پا کے ساتھ اے قلب نامراد مرا مشورہ یہ ہے اک دن تو آپ خود بھی چلا جا دعا کے ساتھ پھیلی ہے جب سے خضر و سکندر کی داستاں ہر با وفا کا ربط ہے اک بے وفا کے...
  5. معاویہ وقاص

    عدم دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات

    دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات ایسی ہے جیسے موسم گل میں خزاں کی بات اچھا! وہ باغ خلد جہاں رہ چکے ہیں ہم ہم سے ہی کر رہا ہے تو زاہد وہاں کی بات زاہد ترا کلام بھی ہے با اثر مگر پیر مغاں کی بات ہے پیر مغاں کی بات اک زخم تھا کہ وقت کے ہاتھوں سے بھر گیا کیا پوچھتے ہیں آپ کسی مہرباں کی بات ہر...
  6. معاویہ وقاص

    عدم میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا

    میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا ہنستا ہنساتا ،پیتا پلاتا ، چلا گیا نقش و نگار زیست بنانے کا شوق تھا نقش و نگار زیست بناتا چلا گیا اتنے ہی اختلاف ابھرتے چلے گئے جتنے تعلقات بڑھاتا چلا گیا طوفاں کے رحم پر تھی فقیروں کی کشتیاں طوفاں ہی کشتیوں کو چلاتا چلا گیا دنیا مری خوشی کو بہت گھورتی...
  7. معاویہ وقاص

    عدم دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر

    دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر میں غور کر رہا ہوں کسی اور بات پر دیکھا ہے مسکرا کے جو اس مہ جبیں نے جوبن سا آگیا ہے ذرا واقعات پر دیتے ہیں حکم خود ہی مجھے بولنے کا آپ پھر ٹوکتے ہیں آپ مجھے بات بات پر میں جانتا تھا تم بڑے سفاک ہو مگر انسان کو اختیار نہیں حادثات پر جینا ہے چار روز تو...
  8. معاویہ وقاص

    عدم مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے

    مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے نگاہ سے بھی بدن پر نشان پڑتا ہے حرم کا عزم پنپتا نظر نہیں اتا کہ راستے میں صنم کا مکان پڑتا ہے فقیہ شہر کو جب کوئی مشغلہ نہ ملے تو نیک بخت گلے میرے آن پڑتا ہے ہمیں خبر ہے حصول مراد سے پہلے خراب ہونا بھی اے مہربان پڑتا ہے عدم نشیمن دل بدگمان نہ ہوجاے...
  9. معاویہ وقاص

    عدم یکدم تعلقات کہاں تک پہنچ گئے

    یکدم تعلقات کہاں تک پہنچ گئے اس کے نشان پا مری جاں تک پہنچ گئے آخر ہمارے عجز نے پگھلا دیا انہیں انکار کرتے کرتے وہ ہاں تک پہنچ گئے گو راہ میں خدا نے بھی روکا کئی جگہ ہم پھر بھی اس حسیں کے مکاں تک پہنچ گئے ہم چلتے چلتے راہ حرم پر خدا خبر کس راستے سے کوئے مغاں تک پہنچ گئے ان کی نظر اٹھی نہ...
  10. معاویہ وقاص

    عدم ساقی کے گیسو کی ہوا کھا رہا ہوں

    ساقی کے گیسو کی ہوا کھا رہا ہوں اور اس ہوا کے ساتھ اڑا جا رہا ہوں میں اے وحشت خیال نتیجہ تیرے سپرد ساغر کو کائنات سے ٹکرا رہا ہوں میں جاتا ہوں بزم حشر میں اس بے دلی کے ساتھ جیسے کسی رقیب کے گھر جا رہا ہوں میں دیر و حرم کی گرد بہت دور رہ گئی شاید کے مے کدے کے قریب آ رہا ہوں میں مجھ سا بھی...
  11. معاویہ وقاص

    عدم تم میرے پاس جب نہیں ہوتے

    تم میرے پاس جب نہیں ہوتے مجھ میں کوئی کمی سی ہوتی ہے پیار بھی وہ اس طرح کرتے ہیں جس طرح دشمنی سی ہوتی ہے بندہ پرور ملا کرو ہم سے تم کو مل کر خوشی سی ہوتی ہے اس کے چلنے کی طرز ایسی ہے جس طرح راگنی سی ہوتی ہے بات کا حسن ختم ہے ان پر بات پہلے سے بنی ہوتی ہے مے کدے کی شناخت یہ ہے عدم ہر طرف...
  12. معاویہ وقاص

    عدم احوال زندگی کو لباس بہار دے

    احوال زندگی کو لباس بہار دے ساقی معاملات کا چہرہ نکھار دے توہین زندگی ہے کنارے کی جستجو منجھدھار میں سفینہ ہستی اتار دے پھر دیکھ اس کا رنگ نکھرتا ہے کس طرح دوشیزہ خزاں کو خطاب بہار دے عمر طویل دے کے نہ مجھ کو خراب کر دو چار جھومتے ہوے لیل و نہار دے اک وعدہ اور کر کے طبیعت پھڑک اٹھے...
  13. کاشفی

    عدم مضطرب ہوں جلوہءِ اُمید باطل دیکھ کر - سید عبدالحمید عدم

    غزل (سید عبدالحمید عدم) مضطرب ہوں جلوہءِ اُمید باطل دیکھ کر لرزہ بر اندام ہوں بیتابئ دل دیکھ کر ناخدائے دل کو موجوں سے یہ کیسا ربط ہے ماہیء بے آب ہو جاتا ہے ساحل دیکھ کر وقتِ آخر ہم نہ ٹھہرے بارِ دوشِ دوستاں رُوح خوش ہے مرگِ غربت کا یہ حاصل دیکھ کر زعمِ عقل و فہم اِک نادانئ...
  14. کاشفی

    عدم رہرو اور رہزن - سید عبدالحمید عدم

    رہرو اور رہزن (سید عبدالحمید عدم) رواں ہیں رہروؤں کے قافلے صحرائے وحشت سے یہ کیسے لوگ ہیں لڑنے چلے ہیں دیو فطرت سے وہ ظُلمت ہے کہ ہیبت کا فرشتہ کانپ جاتا ہے وہ تاریکی ہے شیطانوں کا دل بھی خوف کھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی سنسان تاریکی کے وسعت گیر دامن میں اسی سنسان خاموشی کے بے تنویر مسکن...
  15. کاشفی

    عدم سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا - عدم

    تغزل (عدم) سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا مرنے کا ہے موسم یہی، جی بھر کے مروں گا آغاز طلب ہے مرا افسانہء ہستی بنیاد تِری آنکھ کی مستی پہ دھروں‌گا حالات مجھے خوابِ پریشان بنالیں حالات کو کچھ میں بھی پریشان کروں گا تو رُوپ میں انساں کے مرے سامنے آجا اللہ! تجھے صدق بھرا...
  16. مغزل

    عدم شب کی بیداریاں نہیں اچھی-------عبد الحمید عدم

    غزل شب کی بیداریاں نہیں اچھی اتنی مے خواریاں نہیں اچھی وہ کہیں کبریا نہ بن جائے ناز برداریاں نہیں اچھی ہاتھ سے کھو نہ بیٹھنا اس کو اتنی خودداریاں نہیں اچھی کچھ رواداریوں‌کی مشق بھی کر صرف ادا کاریاں نہیں اچھی اے غفور الرحیم سچ فرما کیا خطا کاریاں نہیں اچھی عبد الحمید عدم
  17. پ

    عدم غزل-خالی ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں(عبدالحمید عدم

    خالی ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں اے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو پو گی ساغر کو ذرا تھام ، میں کچھ سوچ رہا ہوں پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتا دے بادہ گلفام ، میں کچھ سوچ رہا...
  18. فاروقی

    عدم غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا.......عد م...

    غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا ہر منظرِ حسیں پہ دھندلکا سا چھا گیا دل میں مکیں تھا کوئی تو جلتے رہے چراغ جاتے ہوئے وہ شوخ انہیں بھی بجھا گیا دل تھا، مسرتیں تھیں، جوانی تھی، شوق تھا لیکن غمِ زمانہ ہر اک شئے کو کھا گیا برباد دل میں جوشِ تمنا کا دم نہ پوچھ صحرا میں جیسے کوئی بگولے اڑا گیا...
  19. فرخ منظور

    عدم وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں - عدم

    وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں آدمی بے نظیر ہوتے ہیں تیری محفل میں بیٹھنے والے کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں پھول دامن میں چند رکھ لیجئے راستے میں فقیر ہوتے ہیں زندگی کے حسین ترکش میں کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں دیکھنے والا اک نہیں ملتا آنکھ والے...
  20. خ

    عدم فرط رقابت(عبدلمجید عدم)

    یوں جستجوئے یار میں آنکھوں کے بل گئے ہم کوئے یار سے بھی کچھ آگے نکل گئے واقف تھے تیری چشمِ تغافل پسند سے وہ رنگ جو بہار کے سانچے میں ڈھل گئے اے شمع! اُن پتنگوں کی تجھ کو کہاں خبر جو اپنے اشتیاق کی گرمی سے جل گئے وہ بھی تو زندگی کے ارادوں میں تھے شریک جو حادثات تیری مروّت سے ٹل...
Top