فرخ منظور

لائبریرین
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں​
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں​
تیری محفل میں بیٹھنے والے​
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں​
پھول دامن میں چند رکھ لیجئے​
راستے میں فقیر ہوتے ہیں​
زندگی کے حسین ترکش میں​
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں​
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں​
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں​
دیکھنے والا اک نہیں ملتا​
آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں​
جن کو دولت حقیر لگتی ہے​
اُف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں​
جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو​
قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں​
ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن​
غم بڑے دلپذیر ہوتے ہیں​
اے عدم احتیاط لوگوں سے​
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں​
---- عبدالحمید عدم​
 

رضوان

محفلین
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں


واہ صاحب وا
کیا عمدہ کلام شریکِ سخن کیا ہے!
 

محمداحمد

لائبریرین
سخنور صاحب

یہ غزل مجھے بے حد پسند ہے ، کتنی سادہ اور کتنی بھرپور، یقیناً یہ سادگی اور پُرکاری ہی عدم کا خاصہ ہے.

یہ غزل ہر دفعہ وہی لطف دیتی ہے جو پہلی بار پڑھنے پر ملا تھا، یہاں پڑھ کر بھی بہت لطف آیا، آپ کی عنایت کے آپ نےاسے محفل میں پیش کیا۔

شکریہ،

مخلص
محمد احمد
 

فرحت کیانی

لائبریرین
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں



بہت خوب۔۔۔ شکریہ سخنور :)
 

فاتح

لائبریرین
شکریہ فرخ صاحب! میرے پاس گلشن آرا سید کی آواز میں موجود ہے۔ وقت ملتے ہی اپلوڈ کروں گا۔
 
غزل
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں
تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں
زندگی کی حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں
اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
خالد ابن عدم
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھائی!

یہ پوسٹ دیکھ کر خیال آیا کہ آپ کو یاد دہانی کروادی جائے۔ :)
بہت شکریہ جناب۔ میرے پاس کسی کیسٹ میں تھی جو مل نہیں سکی۔ جیسے ہی کیسٹ ہاتھ لگتی ہے میں اپلوڈ کر دوں گا۔۔۔ تب تک اسی غزل کےچار مزید اشعار پڑھ کر لطف اٹھائیے:

دیکھنے والا اک نہیں ملتا​
آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں​
جن کو دولت حقیر لگتی ہے​
اُف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں​
جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو​
قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں​
ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن​
غم بڑے دلپذیر ہوتے ہیں​
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ واہ
فاتح بھائی بہت خوب ! یہ چار شعر بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔

خاص طور پر یہ شعر

جن کو دولت حقیر لگتی ہے​
اُف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں​
خوش رہیے۔​
 
Top