خلیل الرحمن،

  1. خ

    غزل برائے اصلاح :: اب جائیں ہم کہاں دلِ ویراں لیے ہوئے

    استاد محترم برائے مہربانی اصلاح فرمائیں الف عین عظیم درد اور یاس حسرت و حرماں لیے ہوئے رہتا ہوں اپنے ساتھ یہ ساماں لیے ہوئے ہم کاٹ لیں گے عمر فقیری میں لیکن جیتے نہیں کسی کا بھی احساں لیے ہوئے بزمِ جہاں سے گزرے نہ ہم نے کیا قیام آئے تھے ساتھ عمرِ گریزاں لیے ہوئے یہ سوچ کر کہ قیس کے ہوجائیں...
  2. خ

    غزل برائے اصلاح :مری حیات عجب اضطراب میں گزری

    اساتذۂ اکرم سے اصلاح کی گزارش ہے برائے مہربانی اصلاح فرمائیں الف عین سر عظیم یہ میری عمر عجب اضطراب میں گزری جو پورا ہو نہ سکا ایسے خواب میں گزری رہے ہیں جن میں خفا آدمی سے یزداں سے کچھ ایسی گھڑیاں بھی ہم پر شباب میں گزری سحر ہو کے بھی نہیں ان کا غم گسار کوئی کہ جن کی رات مسلسل...
  3. تنظیم اختر

    غزل برائے اصلاح

    غزل برائے اصلاح بنا آپ کے یہ صنم دیکھ لینا کسی کے بھی ہوں گے نہ ہم دیکھ لینا کبھی تم ہمارے جو ہو نہ سکوگے تو مر جائیں گے، ہے قسم دیکھ لینا سہوں گا محبت میں تیری میں سب کچھ جو چاہے وہ کرکے ستم دیکھ لینا کہ انگلی اٹھانے سے پہلے کسی پر گریباں میں اپنے بھی تم دیکھ لینا پھسلنے کا ڈر ہے یہاں ہر...
  4. ا

    حمد باری تعالٰی اصلاح کیلئے

    زمین و آسماں تعریفِ ذوالجلال کرتے ہیں تری خدایٔ ہر پل با زبانِ حال کرتے ہیں تجھے ہی ڈھونڈنا ہے آرزو کہاں ہے تو لیکن یہ دل کی دھڑکنوں سے روز ہم سوال کرتے ہیں کسی نے دنیا چاہی تو کسی نے مانگی ہے جنت تری ہے دید کافی ہم یہی خیال کرتے ہیں تو ہی ہے سب کا ملجا تو ہے آسرا مرے مولا فرشتے رات دن بس حمد بے...
  5. ا

    اصلاح فرمایے

    یوں تیرے قرب کے قابل تو نہیں ہیں ہم نیکی سے خالی دامن کب ہے خطا کا غم رحم و کرم سے تیرے منزل مجھے ملی پر خار راستے میں ملتے اگر نہ تم
  6. خ

    اصلاحِ سخن : ہم اس کا رنج نہ کرتے اگر تو کیا کرتے:

    اساتذۂ اکرم سے اصلاح کی گزارش ہے برائے مہربانی اصلاح فرمائیں نہ ہم یوں اشک بہاتے نہ التجا کرتے اگر نہ دل تری الفت میں مبتلا کرتے چلا گیا جو ہمیں چھوڑ کر خفا ہو کر ہم اس کا رنج نہ کرتے اگر تو کیا کرتے بدل رہا تھا زمانہ تو یہ بتاؤ ہمیں بدلتے ہم نہ اگر پھر تو اور کیا کرتے رہا...
  7. خ

    اصلاحِ سخن: خواب ہو جائیں گے ہم یا پھر گماں ہوجائیں گے،

    سر الف عین و دیگر اساتذہ سے اصلاح کی گزارش ہے فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن سب نشاں مٹ جائیں گے اور بے نشاں ہو جائیں گے ہیں حقیقت آج جو کل داستاں ہو جائیں گے بادشاہی اور امیری دو دنوں کی بات ہے بادشاہ و گدا سب پھر ہم عناں ہو جائیں گے کانپتے ہیں سب جزا کے دن کے اس دستور سے جرم خود بولیں گے...
  8. خ

    اصلاحِ سخن : لہجے کو تیرے دیکھا یہ حاجت نہیں رہی

    استاتذۂ اکرم سے اصلاح کی گزارش ہے مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن لہجے کو تیرے دیکھا تو حاجت نہیں رہی کہدے تو یہ کہ تیری ضرورت نہیں رہی اب خال خال ہی ہیں محبت سناش لوگ ظاہر ہے ایسے کاموں سے رغبت نہیں رہی مردہ سا ہو گیا ہے یہ تہذیب کا بدن اس کے لہو میں اب وہ حرارت نہیں رہی اب تو بہار...
  9. خ

    اصلاحِ سخن :جس کو رنج والم نے گھیرا ہے

    اساتذۂ اکرام سے اصلاح کی گزارش ھے بخش دے گا جسے وہ چاہے گا جس کو چاہے گا وہ عذاب کرے جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے خواہشوں سے وہ اجتناب کرے خود بھی اپنا حساب کر لینا اس سے پہلے کہ وہ حساب کرے حق و باطل ہو چکا ہے عیاں جسے چاہے تو انتخاب کرے زندگی ایک امتحان ہے دوست رب تجھے اس میں کامیاب...
  10. محمد شکیل خورشید

    اصلاح درکار ہے

    رہ بدلتا رہا ہوں ساری عمر پھر بھی چلتا رہا ہوں ساری عمر غم چھپاتا رہا ہوں سینے میں خوں اُگلتا رہا ہوں ساری عمر ہر قدم پر بھٹکنا چاہا تھا پر سنبھلتا رہا ہوں ساری عمر وقت نے جو سکھائے تھے کردار ان میں ڈھلتا رہا ہوں ساری عمر خار بن کر سبھی کی آنکھوں میں جیسے کَھلتا رہا ہوں ساری عمر ایک...
  11. محمد شکیل خورشید

    اصلاح درکار ہے

    لوچ تیری ادا میں کچھ بھی نہیں پیچ بندِقبا میں کچھ بھی نہیں کتنا سادہ مرض ہے چارہ گرو درد ہے اور دوا میں کچھ بھی نہیں حاصلِ عمر ہاتھ آیا کیا اک خلا اور خلا میں کچھ بھی نہیں زلف کھولی ہے تم نے شائد آج ورنہ خوشبو ہوا میں کچھ بھی نہیں کیسے پرنم ہو کوئی آنکھ شکیلؔ سوز تیری نوا میں کچھ بھی نہیں
  12. محمد شکیل خورشید

    اصلاح درکار ہے

    درد ظاہر نہ یوں کیا کیجے بے سبب مسکرا لیا کیجے ہوش میں ضبطِ غم نہیں ممکن آپ مدہوش ہی جیا کیجے سر پہ تہمت جنوں کی آئے نہ چاک دامن کے خود سیا کیجے خامشی الجھنیں بڑھاتی ہے بات جو بھی ہو کہہ دیا کیجے میکدے سے تو لوٹ آئے شکیل ان کی آنکھوں سے اب پیا کیجے
  13. محمد شکیل خورشید

    طالبِ اصلاح

    عشق کرنے لگا ہوں میں پھر سے تم پہ مرنے لگا ہوں میں پھر سے زہر آلود ہو گیا لہجہ خود سے ڈرنے لگا ہوں میں پھر سے ضبط کے توڑ کر سبھی بندھن آہ بھرنے لگا ہوں میں پھر سے سیکھ لی ہے روش زمانے کی کہہ مکرنے لگا ہوں میں پھر سے اس کے آنے کی ہے نوید شکیل لو سنورنے لگا ہوں میں پھر سے
  14. محمد شکیل خورشید

    اگلی غزل برائے اصلاح

    آنکھ میں اک سوال ہوتا ہے بس یونہی عرضِ حال ہوتا ہے بات میں بھی تھکن جھلکتی ہے اور لہجہ نڈھال ہوتا ہے بس کسی دن وہ یاد آتے ہیں اور وہ دن کمال ہوتا ہے ایک لمحہ تری جدائی میں جیسے فرقت کا سال ہوتا ہے رنج تو عشق نے اٹھائے ہیں حسن کیوں پُر ملال ہوتا ہے شہر میں یہ سکوت ہے یا حبس سانس لینا محال ہوتا...
  15. فاخر

    اصلاح سخن

    تین شعر ناقدین کی خدمت میں بغرض تنقید پیش ہیں ؏ رومیؔ کا کیف ہے تو، حافظؔ کی جان ہے تو سعدیؔ کی روح ہے تو ،خسروؔ کی شان ہے تو تیرے جلو میں بستے اقبالؔ کےتخیل تجسیم فکر ہے، شاہیں کی اڑان ہے تو بحرو عروض کی لے، سازو رباب کی دھن اے شاہد ِ مہ رخ ! فاخرؔ کی زبان ہے تو
Top