1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

اصلاحِ سخن :جس کو رنج والم نے گھیرا ہے

خورشید نیر نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 3, 2019

  1. خورشید نیر

    خورشید نیر محفلین

    مراسلے:
    13
    موڈ:
    Brooding
    اساتذۂ اکرام سے اصلاح کی گزارش ھے

    بخش دے گا جسے وہ چاہے گا
    جس کو چاہے گا وہ عذاب کرے
    جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
    خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
    خود بھی اپنا حساب کر لینا
    اس سے پہلے کہ وہ حساب کرے
    حق و باطل ہو چکا ہے عیاں
    جسے چاہے تو انتخاب کرے
    زندگی ایک امتحان ہے دوست
    رب تجھے اس میں کامیاب کرے
    علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
    پیدا ہستی میں انقلاب کرے
     
  2. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    بہت خوبصورت خیالات ہیں۔ تکنیکی لحاظ سے اساتذہ چیک کر لیں گے
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 4, 2019
    • متفق متفق × 1
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    بخش دے گا جسے وہ چاہے گا
    جس کو چاہے گا وہ عذاب کرے
    ۔۔۔۔'جسے وہ' میں روانی کی کمی لگ رہی ہ۔
    بخش دے گا وہ جس کو چاہے گا
    میرا خیال ہے کہ بہتر ہو گا
    اور دوسرے میں صرف 'کرے' نہیں 'کرے گا' کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
    مکمل شعرمیرا خیال ہے کہ یوں درست ہو گا
    بخش دیتا ہے جس کو چاہتا ہے
    چاہے جس کو بھی وہ عذاب کرے

    جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
    خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
    ۔۔اچھا شعر ہے

    خود بھی اپنا حساب کر لینا
    اس سے پہلے کہ وہ حساب کرے
    ۔۔۔بہت خوب ہے، دوسرے میں 'اس سے' میں تنافر دور کرنے کے لیے
    قبل اس کے کہ وہ حساب کرے
    کیا جا سکتا ہے مگر اس میں بھی 'کے کہ' تنافر محسوس ہو رہا ہے

    حق و باطل ہو چکا ہے عیاں
    جسے چاہے تو انتخاب کرے
    ۔۔۔پہلے میں شاید 'تو' ٹائپ نہیں ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ 'یوں' ہونا چاہیے
    مثلاً حق و باطل یوں ہو چکا ہے عیاں
    اور دوسرا مصرع بھی
    جس کا چاہے تو انتخاب کرے
    ہو تو بہت خوب ہے

    زندگی ایک امتحان ہے دوست
    رب تجھے اس میں کامیاب کرے
    ۔۔واہ!

    علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
    پیدا ہستی میں انقلاب کرے
    ۔۔۔بہت اچھا لگا یہ شعر بھی
     
  4. خورشید نیر

    خورشید نیر محفلین

    مراسلے:
    13
    موڈ:
    Brooding
    شکریہ عظیم صاحب مشورے کیلئے
     
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    توجہ فرمائیے! عذاب کرنا درست محاورہ نہیں ہے ۔
     
  6. خورشید نیر

    خورشید نیر محفلین

    مراسلے:
    13
    موڈ:
    Brooding
    تبدیلیوں کے بعد دوبارہ پیشِ خدمت ہے
    خود بھی اپنا حساب کر لینا
    اس کے پہلے کہ وہ حساب کرے
    حق و باطل یوں ہو چکا ہے عیاں
    جس کو چاہے تو انتخاب کرے
    جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
    خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
    زندگی ایک امتحان ہے دوست
    رب تجھے اس میں کامیاب کرے
    علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
    پیدا ہستی میں انقلاب کرے
     
  7. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    خود بھی اپنا حساب کر لینا
    اس کے پہلے کہ وہ حساب کرے
    ۔۔'اس کے' عجیب لگ رہا ہے، میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی دیکھیں ، شاید کسی طرح یہی مطلب ادا ہو جائے

    حق و باطل یوں ہو چکا ہے عیاں
    جس کو چاہے تو انتخاب کرے
    ۔۔یہ درست ہو گیا ہے

    جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
    خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
    ۔۔۔اس شعر کی جگہ بدل دیں، پچھلے شعر کے دوسرے مصرع میں اور اس میں 'جس' کی تکرار اچھی نہیں لگ رہی

    زندگی ایک امتحان ہے دوست
    رب تجھے اس میں کامیاب کرے

    علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
    پیدا ہستی میں انقلاب کرے
    ۔۔یہ تو ماشاء اللہ پہلے ہی درست تھے
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,523
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جس 'کو' عذاب دینا درست ہے،
    جس 'پر' عذاب کرے درست ہو سکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    اس شعر کے دوسرے مصرع کے بارے میں بھی میرا خیال تھا کہ 'جس کا چاہے تو انتخاب کرے' بہتر ہو گا۔ اگر 'جس کو چاہے تو انتخاب کرے' رکھنا ہے تو پہلے مصرع میں 'یوں' کی جگہ 'تو' بہتر ہو گا
     
  10. خورشید نیر

    خورشید نیر محفلین

    مراسلے:
    13
    موڈ:
    Brooding
    سر شکریہ اپ کا مشورہ دینے کے لیے مجھے امید ہے اپ آگے بھی اپنے مشوروں سے نوازتے رہیں گے
     

اس صفحے کی تشہیر