اصلاح درکار ہے

محمد شکیل خورشید نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 15, 2018

  1. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    229
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    درد ظاہر نہ یوں کیا کیجے
    بے سبب مسکرا لیا کیجے
    ہوش میں ضبطِ غم نہیں ممکن
    آپ مدہوش ہی جیا کیجے
    سر پہ تہمت جنوں کی آئے نہ
    چاک دامن کے خود سیا کیجے
    خامشی الجھنیں بڑھاتی ہے
    بات جو بھی ہو کہہ دیا کیجے
    میکدے سے تو لوٹ آئے شکیل
    ان کی آنکھوں سے اب پیا کیجے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    229
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    محترم الف عین صاحب سے نظرِ التفات کی درخواست ہے
     
  3. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    229
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    محترم الف عین صاحب سے نظرِ التفات کی درخواست ہے
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,150
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے ۔ بس ایک مصرع پر اعتراض کیا جا سکتا ہے
    سر پہ تہمت جنوں کی آئے نہ
    بول چال کی زبان میں تو اسی طرح کہتے ہیں لیکن 'نہ' کو 'نا' تقطیع ہونا درست نہیں
    کچھ اور سوچیں
     

اس صفحے کی تشہیر