طالبِ اصلاح

عشق کرنے لگا ہوں میں پھر سے
تم پہ مرنے لگا ہوں میں پھر سے
زہر آلود ہو گیا لہجہ
خود سے ڈرنے لگا ہوں میں پھر سے
ضبط کے توڑ کر سبھی بندھن
آہ بھرنے لگا ہوں میں پھر سے
سیکھ لی ہے روش زمانے کی
کہہ مکرنے لگا ہوں میں پھر سے
اس کے آنے کی ہے نوید شکیل
لو سنورنے لگا ہوں میں پھر سے
 

الف عین

لائبریرین
کہہ مکرنے لگا ہوں میں پھر سے
محاورہ یوں نہیں درست ہے 'کہہ کر مکرنا' کہہ مکرنی' ایک پہیلی کی قسم ضرور ہے جس کا جواب بھی اسی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
باقی اشعار درست ہیں
 
کہہ مکرنے لگا ہوں میں پھر سے
محاورہ یوں نہیں درست ہے 'کہہ کر مکرنا' کہہ مکرنی' ایک پہیلی کی قسم ضرور ہے جس کا جواب بھی اسی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
باقی اشعار درست ہیں
استادِ محترم
حوصلہ افزائی کا شکریہ،
میں نے تو پہیلی والے معنوں میں ہی استعمال کرنا چاہا تھا، زمانے کے دوغلے پن کی روش کے حوالے سے،
کیا اس طرح سے بھی استعمال درست نہ ہوگا؟
رہنمائی درکار ہے
والسلام
 

الف عین

لائبریرین
استادِ محترم
حوصلہ افزائی کا شکریہ،
میں نے تو پہیلی والے معنوں میں ہی استعمال کرنا چاہا تھا، زمانے کے دوغلے پن کی روش کے حوالے سے،
کیا اس طرح سے بھی استعمال درست نہ ہوگا؟
رہنمائی درکار ہے
والسلام
میرے خیال میں نہیں۔ بطور فعل استعمال کر کے بطور محاورہ خیال کرنا درست نہیں
 
میرے خیال میں نہیں۔ بطور فعل استعمال کر کے بطور محاورہ خیال کرنا درست نہیں
محترم الف عین !
یہ ایک پرانی غزل ہے جس کا ایک شعر غلط تھا
اب اسے یوں باندھا ہے کیا مناسب ہوگا
سیکھ لی ہے روش زمانے کی
اب سدھرنے لگا ہوں میں پھر سے
 
Top