حبیب جالب

  1. علی فاروقی

    حبیب جالب بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئ پیارے۔۔ حبیب جالب

    بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئ پیارے نئے چراغ جلا رات ہو گئ پیارے تِری نگاہِ پشیماں کو کیسے دیکھو ں گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئ پیارے نہ تیری یاد ،نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال عجیب صورتِ حالات ہو گئ پیارے اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر یہ کیسی شامِ خرابات ہو گئ پیارے کبھی کبھی تیری...
  2. علی فاروقی

    حبیب جالب یہ سوچ کر نہ مائلِ فریاد ہم ہوے ۔۔۔ حبیب جالب

    یہ سوچ کر نہ مائلِ فریاد ہم ہوے آباد کب ہوے تے کہ برباد ہم ہوے ہوتا ہے شاد کام یہاں کون باضمیر ناشاد ہم ہوے تو بہت شاد ہم ہوے پرویز کے جلال سے ٹکراے ہم بھی ہیں یہ اور بات ہے کہ نہ فرہاد ہم ہوے کچھ ایسے بھا گئے ہمیں دنیا کے رنج و غم کوے بتاں میں بھولی ہوئ یاد ہم ہوے جالب تمام عمر ہمیں یہ...
  3. محمد امین

    حبیب جالب اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں: حبیب جالب

    برگِ‌آوارہ سے لی گئی۔ اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں، اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں، اب تذکرہء خندہء گل بار ہے جی پر، جاں وقفِ غمِ گریہء شبنم ہے مری جاں، رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلفِ‌سیہ تاب، تصویر پریشانیِ عالم ہے مری جاں، یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت، یہ...
  4. محمد امین

    حبیب جالب نظم- شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں: حبیب جالب

    برگِ آوارہ سے لی گئی۔۔ شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں اے نظامِ کہن کے فرزندو! اے شبِ تار کے جگر بندو! یہ شبِ تار جاوداں تو نہیں، یہ شبِ تار جانے والی ہے، تا بکے تیرگی کے افسانے، صبحِ نو مسکرانے والی ہے، اے شبِ تار کے جگر گوشو! اے سحر دشمنو، ستم کوشو! صبح کا آفتاب چمکے گا، ٹوٹ جائے گا جہل کا جادو،...
  5. پ

    حبیب جالب غزل - میر و غالب بنے یگانہ بنے - حبیب جالب

    میر و غالب بنے یگانہ بنے آدمی اے خدا خدا نہ بنے موت کی دسترس میں کب سے ہیں زندگی کا کوئی بہانہ بنے اپنا شاید یہی تھا جرم اے دوست باوفا بن کے بے وفا نہ بنے ہم پہ اک اعتراض یہ بھی ہے بے نوا ہو کے بے نوا نہ بنے یہ بھی اپنا قصور کیا کم ہے کسی قاتل کے ہمنوا نہ بنے کیا گلہ سنگدل...
  6. پ

    حبیب جالب کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں - حبیب جالب

    کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں یہ وقت جیسے بھی گزرے گزار لو سائیں وہ اس طرح سے ہیں بچھڑے کہ مل نہیں سکتے وہ اب نہ آئیں گے ان کو صدا نہ دو سائیں تمہیں پیام دئیے ہیں صبا کے ہاتھ بہت تمہارے شہر میں ہیں تم جو آ سکو سائیں نہ مال و زر کی تمنا نہ جاہ حشمت کی ملیں گے پیار سے ہم ایسے لوگ...
  7. پ

    حبیب جالب جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے- حبیب جالب

    جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے برگِ آوارہ کی صورت رنگِ خشک و تر دیکھا ہے ٹھنڈی آہیں بھرنے والو ٹھنڈی آہیں بھر دیکھا ہے تیری زلفوں کا افسانہ رات کے ہونٹوں پر دیکھا ہے اپنے دیوانوں کا عالم تم نے کب آ کر دیکھا ہے انجُم کی خاموش فضاء میں میں نے تمہیں اکثر دیکھا...
  8. مغزل

    شاعرِ عوام حبیب جالب 16 واں یادگاری جلسہ دعوت ِ عام

    شاعرِ عوام حبیب جالب 16 واں یادگاری جلسہ اردو شاعر کے معروف مزاحمتی شاعرحبیب جالب 1928میں دسوہہ ضلع ہوشیار پور ”بھارتی پنجاب“ میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عربک ہائی سکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ 15 سال کی عمر سے مشق سخن شروع کی۔ ابتدا میں جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیں...
  9. فرخ منظور

    حبیب جالب لوک گیتوں کا نگر یاد آیا ۔ حبیب جالب

    غزل لوک گیتوں کا نگر یاد آیا آج پردیس میں گھر یاد آیا جب چلے آئے چمن زار سے ہم التفاتِ گُلِ تر یاد آیا تیری بیگانہ نگاہی سرِ شام یہ ستم تابہ سحر یاد آیا ہم زمانے کا ستم بھول گئے جب ترا لطفِ نظر یاد آیا تو بھی مسرور تھا اُس شب سرِ بزم اپنے شعروں کا اثر یاد آیا پھر ہوا دردِ تمنّا بیدار پھر...
  10. فرخ منظور

    حبیب جالب دستور از حبیب جالب

    دستور از حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات...
  11. فرخ منظور

    حبیب جالب یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم ۔ حبیب جالب

    یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدّت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہوچکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اُس کے...
  12. محمد امین

    حبیب جالب سحاب: حبیب جالب

    اے سحاب اے سحاب، اے ردائے آفتاب، آگ ہے برس رہی، جل رہی ہے زندگی، اور دل کی تشنگی، دیکھتی ہے تیرے خواب، اے سحاب اے سحاب، خشک خشک ہے زمیں، دور تک نمی نہیں، ہر نفس ہے آتشیں، ہر طرف ہے اک سراب، اے سحاب اے سحاب، یہ نہیں کہ غم نہیں، پھر بھی آنکھ نم نہیں، یہ ستم بھی کم نہیں،...
  13. محمد امین

    حبیب جالب ہم دیکھتے ہیں:‌حبیب جالب

    (برگِ آوارہ سے لی گئی) نابیناوں کے لیے کہی گئی وہی عالم ہے جو تم دیکھتے ہو، نہیں کچھ مختلف عالم تمہارا، جلائے ہم نے پلکوں پر دیے بھی، نہ چمکا پھر بھی قسمت کا ستارہ، وہی ہے وقت کا بے نور دھارا، وہی سر پر مسلط ہے شبِ‌غم، اندھیرے ہر طرف چھائے ہوئے ہیں، نہیں ملتی خوشی کی اک کرن بھی، مہ و خورشید...
  14. ب

    حبیب جالب نیلو حبیب جالب

    تو کہ ناوا قفِ آدابِ شہنشاہی تھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی جرّات جو ہوئ تو کیونکر سایہ ِءشاہ میں اسطرح جیا جاتا ہے اہلِ ثروت کی یہ تجویز ہے، سر کش لڑکی تجھکو دربار میں کوڑوں سے نچایا جاے ناچتے ناچتے ہو جاے جو پائل خاموش پھر نہ تازیست تجھے ہوش میں لایا جاے لوگ...
  15. ب

    حبیب جالب عشق میں نام کر گئے ہو ں گے - حبیب جالب

    عشق میں نام کر گئے ہو ں گے جو ترے غم میں مر کئے ہوں گے اب وہ نظریں ادھر نہیں اٹھتی ہم نظر سے اتر گئے ہوں گئے کچھ فضاؤں میں انتشار سا ہے ان کے گیسو بکھر گئے ہوں گے نور بکھرا ہے راہ گزاروں میں وہ ادھر سے گزر گئے ہوں گے میکدے میں کہ بزم جاناں تک اور جالب کدھر گئے ہوں گے[/size]
  16. ب

    حبیب جالب اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا - حبیب جالب

    اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گيا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ کہا شائد آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا اس...
  17. ب

    حبیب جالب غزل ۔ حبیب جالب ۔۔نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائے گا

    نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائے گا عصا اٹھاو کہ فرعون اسی سے جائے گا اگر ہے فکر گریباں تو گھر میں جا بیٹھو یہ وہ عذ اب ہے دیوانگی سے جائے گا بجھے چراغ ، لٹیں عصمتیں ، چمن اجڑ ا یہ رنج جس نے ديئے کب خوشی سے جائے گا جیو ہماری طرح سے مرو ہماری طرح نظام زر تو اسی سادگی...
  18. ب

    حبیب جالب نظم۔ حبیب جالب ۔ضابطہ

    یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازو ئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دےیہ دل یہ ضابطہ ہے کہ غم کو نہ غم کہا جائے یہ ضابطہ ہے ستم کو کرم کہا جائے بیاں کروں نہ کبھی اپنی دل کی حالت کو نہ لاؤں لب پہ کبھی شکوہ و شکایت کو...
  19. ب

    حبیب جالب غزل۔۔ جبیب جالب۔۔اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے

    اس دورِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے زندہ ہیں یہی ، بات بڑی بات ہے پیارے یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے تابندہ و پائندہ ہیں ذ ر و ں کے سہارے حسرت ہے کو ئ غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے ارماں ہے کوئ پھول ہمیں دل سے پکارے ہر صبح میری صبح پہ روتی رہی شبنم ہر رات میری رات پہ ہنستے رہے تارے کچھ اور بھی...
  20. سارہ خان

    حبیب جالب نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

    نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے ہزار غنچہ و گُل ہیں صبا کے رستے میں خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں ملےہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں کہیں سلاسلِ تسبیح کہیں زناّر بچھے ہیں دام بہت مُدعا کے رستے میں...
Top