حبیب جالب

  1. سیما علی

    حبیب_جالب صاحب“ کا یومِ ولادت... آج - 24؍مارچ 1928

    آج - 24؍مارچ 1928 مقبول انقلابی پاکستانی شاعر ، سیاسی جبر کی مخالفت کے لئے مشہور اور معروف شاعر ”#حبیب_جالب صاحب“ کا یومِ ولادت... #حبیب_جالبؔ کا اصل نام #حبیب_احمد، اور تخلص #جالبؔ تھا۔ 24؍مارچ 1928ء کو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی...
  2. سیما علی

    12۔مارچ_یوم_وفات_حبیب_جالب۔

    12##مارچ_یوم_وفات_حبیب_جالب۔ #تعارف۔ شاعر انقلاب حبیب جالب 1928 کو بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہو ئے ان کا اصل نام حبیب احمد تھا اینگلوعربک ہائی سکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی اور ایک نجی روزنامہ سے...
  3. محمد تابش صدیقی

    حبیب جالب غزل: کٹی اب کٹی منزلِ شامِ غم

    کٹی اب کٹی منزلِ شامِ غم بڑھائے چلو پافگارو قدم ہمیں سے فروزاں ہے شمعِ وفا ہمیں نے بھرا ہے محبت کا دم کہیں یاس کے حوصلے بڑھ نہ جائیں کہیں آس کے رک نہ جائیں قدم پڑھے گا زمانہ بڑے شوق سے کیے جاؤں دل کی کہانی رقم بدل جائے گا دیکھتے دیکھتے یہ عہدِ خرابی، یہ عہدِ ستم نکلنے کو ہے آفتابِ سحر شبِ...
  4. محمد تابش صدیقی

    حبیب جالب غزل: آج اس شہر میں، کل نئے شہر میں، بس اسی لہر میں

    آج اس شہر میں، کل نئے شہر میں، بس اسی لہر میں اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا، شوقِ آوارگی اس گلی کے بہت کم نظر لوگ تھے، فتنہ گر لوگ تھے زخم کھاتا رہا، مسکراتا رہا، شوقِ آوارگی کوئی پیغام گل تک نہ پہنچا مگر، پھر بھی شام و سحر ناز بادِ چمن کے اٹھاتا رہا، شوقِ آوارگی کوئی ہنس کے ملے، غنچۂ دل...
  5. نیرنگ خیال

    رات کلہنی از حبیب جالؔب

    دنیاں بھر دے کالے چٹے چور لٹیرے سوچیں پے گئے - کی ہویا رات جے مکّ گئی جے دھرتی دے کامیاں اگے گردن جھکّ گئی کی ہووےگا ؟ رات نوں روکو روشنیاں دے ہڑ دے اگے اچیاں اچیاں کندھاں چقو رات نوں روکو ہڑ دی گونج تے گھوکر سن کے تاجاں تے تختاں دی دنیاں کمب اٹھی اے اک مٹھی اے جدوں ایہناں دی لٹکھسٹّ نوں خطرہ...
  6. نیرنگ خیال

    اچیاں کندھاں والا گھر سی ( حبیب جالب)

    اچیاں کندھاں والا گھر سی، رو لیندے ساں کھل کے ایسی 'وا وگائی او ربا رہِ گئی جندڑی رل کے چار چپھیرے درد انھیرے، ہنجھو ڈیرے ڈیرے دکھیارے ونجارے آ گئے کدھر رستہ بھلّ کے یاد آئیاں کچھ ہور وی تیرے شہر دیاں برساتاں ہور وی چمکے داغ دلاں دے نال اشکاں دے دھل کے اپنی گلّ نہ چھڈیں 'جالب' شاعر کجھ وی...
  7. نیرنگ خیال

    جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گلّ کہہ جاندا اے (حبیب جالبؔ)

    جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گلّ کہہ جاندا اے لکھ پوجو چڑھدے سورج نوں، آخر ایہہ لہہ جاندا اے باجھ تیرے او دل دے ساتھی، دل دی حالت کی دساں کدی کدی ایہہ تھکیا راہی رستے وچّ بہہ جاندا اے ساندل بار وسیندیئے ہیرے وسدے رہن تیرے ہاسے دو پل تیرے غم دا پراہنا اکھیاں وچ رہِ جاندا اے ہائے دوآبے دی اوہ...
  8. کاشفی

    حبیب جالب شہر دہلی - حبیب جالیب

    شہر دہلی (حبیب جالیب) دیارِ داغ و بیخود شہر دہلی چھوڑ کر تجھ کو نہ تھا معلوم یوں روئے گا دل شام و سحر تجھ کو کہاں ملتے ہیں دنیا کو کہاں ملتے ہیں دنیا میں ہوئے تھے جو عطاء اہلِ سخن اہلِ نطر تجھ کو تجھے مرکز کہا جاتا تھا دنیا کی نگاہوں کا محبت کی نظر سے دیکھتے تھے سب نگر تجھ کو بقولِ میر...
  9. محمدعمرفاروق

    حبیب جالب مادرِ ملّت

    مادرِ ملّت ایک آواز سے ایوان لرز اُٹھے ہیں لوگ جاتے ہیں تو سلطان لرز اُٹھے ہیں آمدِ صبحِ بہاراں کی خبر سنتے ہی ظلمتِ شب کے نگہبان لرز اُٹھے ہیں دیکھ کے لہر مرے دیس میں آزادی کی قصرِ افرنگ کے دربان لرز اُٹھے ہیں مشعلیں لے کے نکل آئے ہیں مظلوم عوام غم و اندوہ میں ڈوبی ہے محلّات کی شام...
  10. کاشفی

    حبیب جالب کافی ہاؤس - حبیب جالب

    کافی ہاؤس حبیب جالبؔ کافی ہاؤس میں دن بھر بیٹھے، کچھ دُبلے پتلے نقّاد بحث یہی کرتے رہتے ہیں، سُست ادب کی ہے رفتار صرف ادب کے غم میں غلطاں، چلنے پھرنے سے لاچار چہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیمار اُردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر، میرؔ و غالبؔ، آدھا جوشؔ یا اِک آدھ کسی کا مصرعہ، یا...
  11. پ

    حبیب جالب غزل - دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا- حبیب جالب

    غزل دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا اپنا شریکِ درد بنائیں کسی کو کیا ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت اس انجمن میں خود پہ...
  12. پ

    حبیب جالب غزل-محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے -حبیب جالب

    غزل محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے ترے شہر میں اک جہاں چھوڑ آئے پہاڑوں کی وہ مست شاداب وادی جہاں ہم دلِ نغمہ خواں چھوڑ آئے وہ سبزہ ، وہ دریا، وہ پیڑوں کے سائے وہ گیتوں بھری بستیاں چھوڑ آئے حسیں پنگھٹوں کا وہ چاندی سا پانی وہ برکھا کی رت وہ سماں چھوڑ آئے بہت دور ہم آگئے اس گلی سے...
  13. پ

    حبیب جالب غزل-دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں -حبیب جالب

    غزل دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ ، موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں جن کی خاطر...
  14. پ

    حبیب جالب غزل-وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہو گا -حبیب جالب

    غزل وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہو گا مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہو گا اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہو گا کبھی نہ حدِ ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل وہ مجھ سے کس لیے کس بات پر خفا ہو گا مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک کسی سے بھی نہ وہ میری طرح...
  15. ع

    شکر ادا کرتا ہوں

    شکر ادا کرتا ہوں ناصر کاظمی اور حبیب جالب بے تکلف دوست تھے ۔ جالب نے کاظمی سے کہا: " آپ کی غزلیات سن کرمیری خواہش ہوتی ہے کہ کاش مجھ میں بھی ایسی غزل لکھنے کی استعداد ہوتی ۔ جب میں آپ کا کوئی کلام دیکھتا ہوں میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کاش اس پر میرا نام لکھا ہو۔" کاظمی نے جالب کی اس تعریف...
  16. فرحت کیانی

    حبیب جالب نظم- مولانا

    مولانا بہت میں نے سُنی ہے آپ کی تقریر مولانا مگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولانا خدارا شُکر کی تلقین اپنے پاس ہی رکھیں یہ لگتی ہے مرے سینے پہ بن کے تیر مولانا نہیں میں بول سکتا جھوٹ اس درجہ ڈھٹائی سے یہی ہے جُرم میرا اور یہی تقصیر مولانا حقیقت کیا ہے یہ تو آپ جانیں یا خدا جانے سنا ہے جِمی...
  17. پ

    حبیب جالب غزل-مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں - حبیب جالب

    غزل مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں ہم محو تماشائے سرِ راہ گزر ہیں حسرت سی برستی ہے در و بام پہ ہر سو روتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارے وہ چاند،وہ سورج،وہ شب و روز کدھر ہیں سوئے ہو گھنی زلف کے سائے میں ابھی تک اے راہ رواں کیا یہی اندازِ سفر...
  18. dxbgraphics

    جنرل ضیاء الحق کی برسی

    آج جنرل ضیاء الحق کی برسی کے موقع پر اسلام آباد حکومت نے سیکیورٹی کا مسئلہ کہہ کر تقریبات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ربط
  19. علی فاروقی

    حبیب جالب یہ وزیرانِ کرام،، حبیب جالب

    کوئ ممنونِ فرنگی ،کوئ ڈالر کا غلام دھڑکنیں محکوم ان کی لب پہ آزادی کانام ان کو کیا معلوم کس حالت میں رہتے ہیں عوام یہ وزیرانِ کرام ان کو فرصت ہے بہت اونچے امیروں کے لیے ان کے ٹیلیفون قائم ہیں سفیروں کے لیے وقت ان کے پاس کب ہے ہم فقیروں کے لیے چھو نہیں سکتے انہیں ہم ان کا اونچا ہے مقام یہ...
  20. علی فاروقی

    حبیب جالب بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئ پیارے۔۔ حبیب جالب

    بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئ پیارے نئے چراغ جلا رات ہو گئ پیارے تِری نگاہِ پشیماں کو کیسے دیکھو ں گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئ پیارے نہ تیری یاد ،نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال عجیب صورتِ حالات ہو گئ پیارے اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر یہ کیسی شامِ خرابات ہو گئ پیارے کبھی کبھی تیری...
Top