حبیب جالب شہر دہلی - حبیب جالیب

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 3, 2013

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    شہر دہلی
    (حبیب جالیب)
    دیارِ داغ و بیخود شہر دہلی چھوڑ کر تجھ کو
    نہ تھا معلوم یوں روئے گا دل شام و سحر تجھ کو
    کہاں ملتے ہیں دنیا کو کہاں ملتے ہیں دنیا میں
    ہوئے تھے جو عطاء اہلِ سخن اہلِ نطر تجھ کو
    تجھے مرکز کہا جاتا تھا دنیا کی نگاہوں کا
    محبت کی نظر سے دیکھتے تھے سب نگر تجھ کو
    بقولِ میر اوراقِ مصور تھے ترے کوچے
    مگر ہائے زمانے کی لگی کیسی نظر تجھ کو
    نہ بھولے گا ہماری داستاں تو بھی قیامت تک
    دلائیں گے ہماری یاد تیرے رہگزر تجھ کو
    جو تیرے غم میں بہتا ہے وہ آنسو رشکِ گوہر ہے
    سمجھتے ہیں متاع دیدہ و دل دیدہ ور تجھ کو
    میں جالب دہلوی کہلا نہیں سکتا زمانے میں
    مگر سمجھا ہے میں نے آج تک اپنا ہی گھر تجھ کو
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,601
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دیارِ داغ و بیخود، شہرِ دہلی چھوڑ کر تجھ کو
    نہ تھا معلوم یوں روئے گا دل شام و سحر تجھ کو
    کہاں مِلتے ہیں دنیا کو کہاں مِلتے ہیں دنیا میں!
    ہُوئے تھے جوعطا، اہلِ سُخن اہلِ نطر تجھ کو
    کیا کہنے!​
    تشکّر شیئر کرنے پر​
    بہت خوش رہیں​
     
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    شکریہ! خوش رہیئے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر