حبیب جالب لوک گیتوں کا نگر یاد آیا ۔ حبیب جالب

فرخ منظور

لائبریرین
غزل

لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
آج پردیس میں گھر یاد آیا

جب چلے آئے چمن زار سے ہم
التفاتِ گُلِ تر یاد آیا

تیری بیگانہ نگاہی سرِ شام
یہ ستم تابہ سحر یاد آیا

ہم زمانے کا ستم بھول گئے
جب ترا لطفِ نظر یاد آیا

تو بھی مسرور تھا اُس شب سرِ بزم
اپنے شعروں کا اثر یاد آیا

پھر ہوا دردِ تمنّا بیدار
پھر دلِ خاک بسر یاد آیا

ہم جسے بھول چُکے تھے جالب
پھر وہی راہ گزر یاد آیا

از حبیب جالب
 

نایاب

لائبریرین
السلام علیکم
محترم سخنور جی
کلام حبیب جالب سے نوازنے پر
بہت شکریہ
"میں نہیں مانتا "
مگر
" جالب جالب کہتے ہیں "
سدا خوش رہیں آمین
نایاب
 

محمد وارث

لائبریرین
جب چلے آئے چمن زار سے ہم
التفاتِ گُلِ تر یاد آیا

پھر ہوا دردِ تمنّا بیدار
پھر دلِ خاک بسر یاد آیا

واہ واہ واہ، لاجواب!

شکریہ فرخ صاحب!
 
Top