ٹیپو سلطان
(از: شاکر میرٹھی - 1905ء)
جنوبی ہندوستان کی ریاست میسور میں حیدر علی ایک بڑا مشہور اور بہادر سردار تھا جس کے حُسنِ لیاقت کے باعث اس ریاست کو بڑی قوت اور وقعت حاصل ہوگئی تھی۔ ابتدا میں حیدرعلی اس ریاست میں فوج کا کپتان تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اُس کا رسوخ یہاں تک بڑھ گیا کہ 1761ء...
نوحہء حیات
(محشر لکھنوی)
مار ڈالا حسرتوں کے غم نے اے محشر ہمیں
چند دن میں ختم ہے اپنا بھی دورانِ حیات
گھٹ گیا زورِ جوانی ،ہوگئے عضا ضعیف
کون اب سر پر اُٹھائے بار احسانِ حیات
خیریت سے جیتے جیتے ہوگئے چالیس سال
اب کہاں وہ روز و شب کہئے جنہیں جانِ حیات
کان میں آخر صدائے الرحیل آنے...
غزل
(جگر مُراد آبادی)
ستم کوشیاں ہیں، ستم کاریاں ہیں
بس اک دل کی خاطر یہ تیاریاں ہیں
چمن سوز، گلشن کی گلکاریاں ہیں
یہ کس سوختہ دل کی چنگاریاں ہیں
نہ بے ہوشیاں اب، نہ ہشیاریاں ہیں
محبت کی تنہا فسوں کاریاں ہیں
نہ وہ مستیاں ہیں، نہ سرشاریاں ہیں
خودی کا ہی احساس خودداریاں ہیں...
غزل
(سید محمد حنیف اخگر)
غم ترک وفا ہی غم کا پیمانہ نہیں ہوتا
ہر آنسو دل کی بیتابی کا افسانہ نہیں ہوتا
کوئی ساغر پہ ساغر پی رہا ہے کوئی تشنہ ہے
مرتب اس طرح آئین میخانہ نہیں ہوتا
شناسا ہے دل اس کی ہر ادائے بے نیازی سے
وہ بیگانہ بھی ہوکر ہم سے بیگانہ نہیں ہوتا
نقاب رخ الٹ کر وہ...
غزل
(راج کمار قیس)
نوائے دل نے کرشمے دکھائے ہیں کیا کیا
مری اذاں نے نمازی جگائے ہیں کیا کیا
جمالِ یار تری آب و تاب کیا کہئے
نظر نظر کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا
ادائے ناز کو اندازِ دلبری سمجھے
فریب اہل محبت نے کھائے ہیں کیا کیا
زمیں زمیں نہ رہی اور فلک فلک نہ رہا
مقام و وَقت...
غزل
(محترمہ جنابہ زینب بی صاحبہ بنتِ جناب علی اکبر صاحب - 1910ء)
اللہ اللہ بیخودی بھی کیا تحیر خیز ہے
جلوہ ہائے عالم حیرت سے دل لبریز ہے
دل کی ہستی کا میں احساسِ تغیر کیا کروں
اب تو اس کا اُف تصور بھی جنوں انگیز ہے
محو حیرت ہوں میں جب سے کھل گئی ہے میری آنکھ
ہر جھلک رنگِ مجازی کی...
غزل
(محترمہ پروین صاحبہ - 1922ء)
کچھ اس کے منانے میں الجھن تو نہیں ہے
دنیا کوئی روٹھی ہوئی دُلہن تو نہیں ہے
جب چاہیں گے دیکھیں گے تجھے معبد دل میں
دشوار کچھ ایسا ترا درشن تو نہیں ہے
جاتے ہیں سوئے ملکِ عدم اتنا بتادو
اس راہ میں دل کا کوئی رہزن تو نہیں ہے
بے دیکھے ہوئے حوروں پہ...
زمزمہء تغزل
(مسعود الرحمن خاں صاحب - اثر)
یہ دل بھی وقفِ شیون ہے ابھی درد آشنا ہوکر
مزا تب تھا کہ رگ رگ بول اُٹھتی ہمنوا ہو کر
وہ صورت جو کبھی کاشانہء حسرت کی زینت تھی
وہ اب تک آنکھ میں پھرتی ہے تصویر وفا ہوکر
قیامت دیکھئے کل تک جو گلزارِ تمنّا تھا
وہ افسردہ ہوا آخر دل بے مدعا ہوکر...
تجلیاتِ منیر
( منیر الہ آبادی)
قبل اس کے کہ اصلیّت اغیار کی کچھ جانے
لازم ہے یہ انساں کو آپ اپنے کو پہچانے
روشن ہے خداخانہ جس نور کے پرتو سے
لاریب اسی جلوہ سے معمور ہیں بتخانے
یہ عقدہء لایخل ، حل کر نہ سکا کوئی
کیوں شمع ہوئی ٹھنڈی کیوں جل گئے پروانے
ہوش آیا تو کب آیا، عقل آئی تو...