نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ہیمنت کمار بیقرار کر کےہمیں یوں نہ جائیے

    معصوم لوگ ہمیشہ معصوم سا ہی گیت شریکِ محفل کرتے ہیں۔۔ :) آپ نو ں ویلکم
  2. کاشفی

    میری تحریریں آج نیوزبلاگس پر

    وعلیکم السلام فرحان بھائی۔۔ بہت ہی سچی تحریر ہے۔۔ کراچی پاکستان کے بارے میں لکھتے رہیں۔۔ خوش رہیں سدا۔ آمین
  3. کاشفی

    ٹیپو سلطان - از: شاکر میرٹھی

    ٹیپو سلطان (از: شاکر میرٹھی - 1905ء) جنوبی ہندوستان کی ریاست میسور میں حیدر علی ایک بڑا مشہور اور بہادر سردار تھا جس کے حُسنِ لیاقت کے باعث اس ریاست کو بڑی قوت اور وقعت حاصل ہوگئی تھی۔ ابتدا میں حیدرعلی اس ریاست میں فوج کا کپتان تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اُس کا رسوخ یہاں تک بڑھ گیا کہ 1761ء...
  4. کاشفی

    نوحہء حیات - محشر لکھنوی

    نوحہء حیات (محشر لکھنوی) مار ڈالا حسرتوں کے غم نے اے محشر ہمیں چند دن میں ختم ہے اپنا بھی دورانِ حیات گھٹ گیا زورِ جوانی ،ہوگئے عضا ضعیف کون اب سر پر اُٹھائے بار احسانِ حیات خیریت سے جیتے جیتے ہوگئے چالیس سال اب کہاں وہ روز و شب کہئے جنہیں جانِ حیات کان میں آخر صدائے الرحیل آنے...
  5. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    قوم کی شیرازہ بندی کا گلہ بیکار ہے طرزِ ہندو دیکھ کر، رنگِ مسلماں دیکھ کر (منشی برج نرائن چکبست لکھنوی)
  6. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    جو پائی ہے زباں، کچھ قوتِ تقریر پیدا کر بیاں میں تازگی ، الفاظ میں تاثیر پیدا کر (منشی برج نرائن چکبست لکھنوی)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جانتا ہوں ہورہا ہے جو نہ ہونا چاہئے بحث یہ ہے کب تلک اس غم میں رونا چاہئے (جلال الدین اکبر)
  8. کاشفی

    جگر ستم کوشیاں ہیں، ستم کاریاں ہیں - جگر مُراد آبادی

    شکریہ جناب سخنور صاحب! شکریہ جناب فاتح صاحب! شکریہ ناعمہ عزیز صاحبہ!
  9. کاشفی

    غم ترک وفا ہی غم کا پیمانہ نہیں ہوتا - سید محمد حنیف اخگر

    شکریہ جناب سخنور صاحب! شکریہ جناب فاتح صاحب!
  10. کاشفی

    جگر ستم کوشیاں ہیں، ستم کاریاں ہیں - جگر مُراد آبادی

    غزل (جگر مُراد آبادی) ستم کوشیاں ہیں، ستم کاریاں ہیں بس اک دل کی خاطر یہ تیاریاں ہیں چمن سوز، گلشن کی گلکاریاں ہیں یہ کس سوختہ دل کی چنگاریاں ہیں نہ بے ہوشیاں اب، نہ ہشیاریاں ہیں محبت کی تنہا فسوں کاریاں ہیں نہ وہ مستیاں ہیں، نہ سرشاریاں ہیں خودی کا ہی احساس خودداریاں ہیں...
  11. کاشفی

    غم ترک وفا ہی غم کا پیمانہ نہیں ہوتا - سید محمد حنیف اخگر

    غزل (سید محمد حنیف اخگر) غم ترک وفا ہی غم کا پیمانہ نہیں ہوتا ہر آنسو دل کی بیتابی کا افسانہ نہیں ہوتا کوئی ساغر پہ ساغر پی رہا ہے کوئی تشنہ ہے مرتب اس طرح آئین میخانہ نہیں ہوتا شناسا ہے دل اس کی ہر ادائے بے نیازی سے وہ بیگانہ بھی ہوکر ہم سے بیگانہ نہیں ہوتا نقاب رخ الٹ کر وہ...
  12. کاشفی

    نوائے دل نے کرشمے دکھائے ہیں کیا کیا - راج کمار قیس

    غزل (راج کمار قیس) نوائے دل نے کرشمے دکھائے ہیں کیا کیا مری اذاں نے نمازی جگائے ہیں کیا کیا جمالِ یار تری آب و تاب کیا کہئے نظر نظر کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا ادائے ناز کو اندازِ دلبری سمجھے فریب اہل محبت نے کھائے ہیں کیا کیا زمیں زمیں نہ رہی اور فلک فلک نہ رہا مقام و وَقت...
  13. کاشفی

    مدح امام باقر علیہ السلام - علامہ ذیشان حیدر جوادی

    تمام اراکینِ محفل کا شکریہ۔ خوش رہیں۔
  14. کاشفی

    اللہ اللہ بیخودی بھی کیا تحیر خیز ہے - جنابہ زینب بی

    غزل (محترمہ جنابہ زینب بی صاحبہ بنتِ جناب علی اکبر صاحب - 1910ء) اللہ اللہ بیخودی بھی کیا تحیر خیز ہے جلوہ ہائے عالم حیرت سے دل لبریز ہے دل کی ہستی کا میں احساسِ تغیر کیا کروں اب تو اس کا اُف تصور بھی جنوں انگیز ہے محو حیرت ہوں میں جب سے کھل گئی ہے میری آنکھ ہر جھلک رنگِ مجازی کی...
  15. کاشفی

    کچھ اس کے منانے میں الجھن تو نہیں ہے - محترمہ پروین صاحبہ 1922ء

    غزل (محترمہ پروین صاحبہ - 1922ء) کچھ اس کے منانے میں الجھن تو نہیں ہے دنیا کوئی روٹھی ہوئی دُلہن تو نہیں ہے جب چاہیں گے دیکھیں گے تجھے معبد دل میں دشوار کچھ ایسا ترا درشن تو نہیں ہے جاتے ہیں سوئے ملکِ عدم اتنا بتادو اس راہ میں دل کا کوئی رہزن تو نہیں ہے بے دیکھے ہوئے حوروں پہ...
  16. کاشفی

    اس تجاہل سے مدعا کیا ہے - قدرت علی صاحب عزت

    شکریہ سخنور صاحب!
  17. کاشفی

    یہ دل بھی وقفِ شیون ہے ابھی درد آشنا ہوکر - مسعود الرحمن خاں صاحب - اثر

    زمزمہء تغزل (مسعود الرحمن خاں صاحب - اثر) یہ دل بھی وقفِ شیون ہے ابھی درد آشنا ہوکر مزا تب تھا کہ رگ رگ بول اُٹھتی ہمنوا ہو کر وہ صورت جو کبھی کاشانہء حسرت کی زینت تھی وہ اب تک آنکھ میں پھرتی ہے تصویر وفا ہوکر قیامت دیکھئے کل تک جو گلزارِ تمنّا تھا وہ افسردہ ہوا آخر دل بے مدعا ہوکر...
  18. کاشفی

    قبل اس کے کہ اصلیّت اغیار کی کچھ جانے - منیر الہ آبادی

    تجلیاتِ منیر ( منیر الہ آبادی) قبل اس کے کہ اصلیّت اغیار کی کچھ جانے لازم ہے یہ انساں کو آپ اپنے کو پہچانے روشن ہے خداخانہ جس نور کے پرتو سے لاریب اسی جلوہ سے معمور ہیں بتخانے یہ عقدہء لایخل ، حل کر نہ سکا کوئی کیوں شمع ہوئی ٹھنڈی کیوں جل گئے پروانے ہوش آیا تو کب آیا، عقل آئی تو...
Top