غزل
(خواجہ میر درد)
جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا
تو ہی نظر آیا جدھر دیکھا
جان سے ہوگئے بدن خالی
جس طرف تونے آنکھ بھر دیکھا
نالہ، فریاد، آہ اور زاری
آپ سے ہوسکا جو کر دیکھا
اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
زور عاشق مزاج ہے کوئی
درد کو قصہ مختصر دیکھا
غزل
(ابوالفاضل راز چاند پوری)
دہر سے ناآشنا ہے خلق سے بیگانہ ہے
کون کہہ سکتا ہے کہ کس دُھن میں تِرا دیوانہ ہے؟
ابتدا و انتہا کیا ہستیء موہوم کی
ابتدا اک داستاں ہے، انتہا افسانہ ہے!
ہوش میں جب تک رہا تنہا رہا غمگیں رہا
اب ہوں دیوانہ تو اِک عالم مِرا دیوانہ ہے
ساغر ِ اُمید کا یہ ظرف! اے...