غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا
ابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا
بتو! دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کو
خدا کا بھروسا، سہارا تمہارا
اُن آنکھوں کی آنکھوں سے لوں میں بلائیں
میسر ہے جن کو نظارا تمہارا
محبت کے دعوے ملے خاک میں سب
وہ کہتے ہیں کیا ہے اجارا تمہارا...
غزل
(صمد یار خاں ساغر چشتی نظامی سیمابی - علیگڑھ)
قوم کیوں اِس دَور میں آسودہء منزل نہیں
میں بتا دوں پہلے دل پہلو میں تھا، اب دل نہیں
وہ کرم جس میں ترا لطف ستم شامل نہیں
کیوں گوارا ہو کہ ہم رنگِ مذاقِ دل نہیں
رونقِ محفل اگر کچھ ہے تو پروانوں سے ہے
شمع کا جلنا فروغِ گرمیء محفل نہیں...
غزل
(ابوالفاضل راز چاند پوری)
اب وہ شوق بزم آرائی کہاں
اب وہ ذوقِ بادہ پیمائی کہاں
مضطرب ہے قلب محزوں، مضطرب
اب فضائے حسن و رعنائی کہاں
سرد ہے اب سرد جوش ِانبساط
اب خیالِ رنجِ تنہائی کہاں
مطلعِ اُمید ہے ظلمت فروز
اب وہ فکر عالم آرائی کہاں
محفل شعرو سخن برہم ہوئی
اب وہ لطف...