نتائج تلاش

  1. کاشفی

    لذت بادہ سے تلخی کا مزا یاد آیا - سید محمدحنیف اخگر

    بہت شکریہ جناب سخنور صاحب!
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اپنی تو پہچان یہی تھی اس پہچان سے پہلے بھی پاکستان کے شہری تھے ہم پاکستان سے پہلے بھی (سید حیدر عباس رضوی - ایم این اے پاکستان)
  3. کاشفی

    اردو رباعیات

    غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو مانند نظر ہم سے نہاں رہتے ہو ہر چند کہ آنکھوں میں ہو تم، دل میں ہو تم معلوم نہیں پر کہ کہاں رہتے ہو (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
  4. کاشفی

    اردو رباعیات

    کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں دیکھے نہ وہ دشمن بھی جو ہم دیکھتے ہیں اس ظلم پہ اس جور پہ خاموش رہے ایسا تو جہاں میں کوئی کم دیکھتے ہیں (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
  5. کاشفی

    امیر مینائی خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم - امیر مینائی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم الھم صلی علی محمد ﷺ وعلی آل محمد ﷺ نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم مرسل داور خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم نورمجسم، نیّر اعظم، سرور عالم، مونسِ آدم نوح کے ہمدم، خضر کے رہبر، صلی...
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دونوں عالم کے بکھیڑوں سے چھڑا دے یارب اپنے محبوب کو اک بار دکھا دے یارب زندگی ہند میں حسرت سے ہوئی ہے آخر اب تو وہ روضہء پُرنور دکھا دے یارب (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یا خدا جسم میں جب تک کہ مری جان رہے تجھ پہ صدقے ترے محبوب پہ قربان رہے قامت سرورکونین کے کشتوں میں اُٹھوں یا خدا ہاتھ مرے حشر کا میدان رہے (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جھونکا جو کوئی آئے مدینے کی ہوا کا ٹھنڈا ہو کلیجہ ترے مشتاقِ لقا کا بیمار ہوں میں الفت محبوب خدا کا اس درد میں ملتا ہے مزا مجھ کو دوا کا (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
  9. کاشفی

    لذت بادہ سے تلخی کا مزا یاد آیا - سید محمدحنیف اخگر

    غزل (سید محمد حنیف اخگر) لذت بادہ سے تلخی کا مزا یاد آیا حسب توفیق شفا زہر دوا یاد آیا جراءت ترک تمنا کا خیال آتے ہی عہد پابندیء آداب وفا یاد آیا اختصار شب وعدہ کی شکایت پہ اُسے شب ہجراں کی درازی کا گلہ یاد آیا دل کو احساس مسرت ہی بہت تھا لیکن تیرے غم میں تھی وہ لذت کہ خدا یاد...
  10. کاشفی

    امیر مینائی تیرے جوروستم اُٹھائیں ہم - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) تیرے جوروستم اُٹھائیں ہم یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہم دل کی طاقت بھی آزمائیں ہم نالے کرتے نہیں یہ الفت میں باندھتے ہیں تری ہوائیں ہم اب لب یار کیا ترے ہوتے لب ساغر کو منہ لگائیں ہم دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گم...
  11. کاشفی

    امیر مینائی جب یار ہوا جفا کے قابل - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) جب یار ہوا جفا کے قابل تب ہم نہ رہے وفا کے قابل ہے خوف سے سارے تن میں رعشہ اب ہاتھ کہاں دعا کے قابل آئے مجھے دیکھنے اطبّا جب میں نہ رہا دوا کے قابل بولے مرے دل پہ پیس کر دانت یہ دانہ ہے آسیا کے قابل کلفت سے امیر صاف کر دل یہ آئینہ ہے جلا کے...
  12. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    شمس العارفین شاعرِ مشرق شاعرِ ہند علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ اُمت کو نصیحت فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ نہیں بلکہ قرآن میں ڈوب جا اور قرآن پڑھ تو اس طرح کہ اس کے معنی و مطالب و احکام سمجھ کر اس طرح عمل کر کہ تو مجسم ِ قرآن بن جائے۔ فرماتے ہیں، یہ راز کسی کو نہیں...
  13. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے اس کو کیا جانے بیچارے یہ دورکعت کے امام (شمس العارفین شاعرِ مشرق شاعرِ ہند علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
  14. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    تیرا امام بے حضور، تری نماز بے سرور ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر (شمس العارفین شاعرِ مشرق شاعرِ ہند علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
  15. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    دل ہے مسلماں میرا نہ تیرا تو بھی نمازی میں بھی نمازی (شمس العارفین شاعرِ مشرق شاعرِ ہند علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
  16. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی روحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب (شمس العارفین شاعرِ مشرق شاعرِ ہند علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی روحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب (شمس العارفین شاعرِ مشرق شاعرِ ہند علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہوئی نہ قدر کبھی یہ ملال لے کے چلے لحد میں ساتھ ہم اپنا کمال لے چلے (حکیم میر ضامن علی صاحب جلال لکھنوی)
Top