نتائج تلاش

  1. کاشفی

    اردو رباعیات

    آغوشِ لحد میں جبکہ سونا ہوگا جُز خاک نہ تکیہ نہ بچھونا ہوگا تنہائی میں آہ کون ہووے گا انیس ہم ہووینگے اور قبر کا کونا ہوگا (میر انیس)
  2. کاشفی

    اردو رباعیات

    پیری سے بدن زار ہوا زاری کر دنیا سے انیس اب تو بیزاری کر کہتے ہیں زبانِ حال سے موئے سپید ہے صبحِ اجل کوچ کی تیاری کر (میر انیس)
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    پیری سے بدن ذرا ہوا زاری کر دنیا سے انیس اب تو بیزاری کر کہتے ہیں زبانِ حال سے موئے سپید ہے صبحِ اجل کوچ کی تیاری کر (میر انیس)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    غفلت میں نہ عمر کو بسر کر انجام پہ اک ذرا نظر کر اس طول عمل سے فائدہ کیا؟ کل کوچ ہے قصّہ مختصر کر (میر انیس)
  5. کاشفی

    کلیم عاجز ان کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے ۔ ڈاکٹر کلیم عاجز

    ان کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے ہم کو اتنا ہی دیوانا پن چاہیے بہت ہی خوب!
  6. کاشفی

    دل دیا ہے تو پھر اتنا کر دے (دو غزلہ) ۔ چوہدری محمد علی مضطرؔ

    بہت خوب اور بہت شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے
  7. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    لگی ہے مینا کی جھڑی، باغ میں چلو جھولیں کہ جھولنے کا مزا بھی اسی بہار میں ہے پھُوہار مینا کی خوش آئند ہے بہت اس وقت شراب پینے کا موقع اسی پھوہار میں ہے (انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ علیہ)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کیوں کر نہ لپٹ جاؤں صراحی کے گلو سے بیعت مجھے پھر تازہ ہوئی دستِ سُبو سے (انشا اللہ خان انشا)
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کوئی دُنیا سے کیا بھلا مانگے؟ وہ بیچاری تو آپ ننگی ہے (انشا اللہ خان انشا)
  10. کاشفی

    کلیم عاجز تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ۔ ڈاکٹر کلیم عاجز

    بہت عمدہ انتخاب ہے جناب فاتح صاحب! شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
  11. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کی بندہ پرور خیر آگے مہربانی آپ کی لے کے میں اوڑھوں ، بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں؟ روکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی دو گلابی لاکے ساقی نے کہا انشا کو رات زعفرانی میرا حصہ، ارغوانی آپ کی (انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ علیہ)
  12. کاشفی

    امیر مینائی میرے بس میں ، یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا - امیر مینائی

    شکریہ فاتح صاحب! آپ نے بالکل بجا فرمایا ہے۔ اِدھر پڑھیں۔۔
  13. کاشفی

    تین شاعر، ایک زمین، ایک بحر - غالب، امیر مینائی، داغ

    شکریہ خرم شہزاد خرم صاحب!
  14. کاشفی

    امیر مینائی یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس بولا وہ بُت سرہانے مرے آکے وقتِ نزع فریاد کو ہماری چلے ہو خدا کے پاس؟ توفیق اتنی دے مجھے افلاس میں خدا حاجت نہ لے کے جاؤں کبھی اغنیا کے پاس رہتے ہیں ہاتھ باندھے ہوئے...
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    سیہ کاری سے جی بھرتا نہیں پر شرم آتی ہے کہاں تک بوجھ رکھئیے کاتبِ اعمال کے سر پر (امیر مینائی)
Top