سرکشی اہلِ تواضع سے کوئی چلتی ہے
پست دروازہ سے خود آتا ہے انساں جھک کر
مرتبہ پیشِ خدا ہوتا ہے اتنا ہی بلند
جس قدر چلتا ہے انساں سے انساں جھک کر
(امیر مینائی)
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
چھوڑو نہیں اے بتو حیا کو
کیا منہ نہ دکھاؤ گے خدا کو
لٹکاؤ نہ گیسوئے رسا کو
پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو
ظالم تجھے دل دیا، خطا کی
بس بس میں پُہنچ گیا، سزا کو
کانٹوں سے کہو سنبھال لینا
آتا ہے غش اک برہنہ پاکو
بلبل کو ملی جو باغ بانی
روکے در باغ پر...
دل بچے کس طرح حسینوں سے
مِل کے سب چھین چھان لیتے ہیں
میری ہر بات پر ہیں سو سو عذر
غیر کی خوب مان لیتے ہیں
ہائے کیا دلبری کی ہیں گھاتیں
دم دلاسے میں جان لیتے ہیں
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
وا کردہ چشم دل صفتِ نقش پا ہوں میں
ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
مطلب جو اپنے اپنے کہے عاشقوں نے سب
وہ بُت بگڑ کے بول اُٹھا ، کیا خدا ہوں میں
اے انقلابِ دہر، مٹاتا ہے کیوں مجھے
نقشے ہزار وں مٹ گئے ہیں تب بنا ہوں میں
محنت یہ کی کہ فکر کا...
گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے - آتش
غزل
(آتش)
گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بلند آج نہایت غبار راہ میں ہے
شباب تک نہیں پُہنچا ہے عالمِ طفلی،
ہنوز حُسنِ جوانی ِ یار راہ میں ہے
عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار، راہ میں ہے
نہ بدرقہ ہے، نہ کوئی رفیق...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں خمار ہوتا
مرے اتقا کا باعث...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
اِن شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہےوہ، دل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے،...
ہم بُرے اعمال کر کر مر چلے
شایق مفتی
ہم بُرے اعمال کر کر مر چلے
اُمت ، احمد کو رسوا کر چلے
ڈر نہیں کیا تیرگیء حشر کا
نور عشق مصطفی لے کر چلے
یاد ابروئے نبی بسمل نہ چھوڑ
حلق پر جلدی سےمرے خنجر چلے
رحمت حق نے بلایا پیارے
ہم جو روتے جانب محشر چلے
راہ طیبہ میں تھکے جو اپنے پاؤں...