ہمارا سینہ ہے مسکن خدا کا
(شایق مفتی - 1915ء)
ہمارا سینہ ہے مسکن خدا کا
دل پُرداغ ہے گلشن خدا کا
یہ سچ ہے “مَن لہ المولٰی لہُ الکُل“
تماشا دیکھ تو بھی بن خدا کا
محبت بڑھتے بڑھتے عشق ہوجائے
یہی دانہ بنے خرمن خدا کا
تجلی سے عیاں میدانِ دل میں
یہی ہے وادیِ ایمن خدا کا
خدا کا دوست...
اگر دل کو ٹھیس پہنچا ہے تو معذرت ۔۔ مندررجہ بالا اشعار میں نے صرف ٹائپ کیئے ہے میرے خود کے لکھے ہوئے نہیں ہیں۔۔ بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔
آپ کو زیادہ علم ہے۔۔
میں عام سا بندہ ہوں۔ اس لیئے مجھے علم نہیں۔۔
ذکر دوزخ نہ سُنا اے واعظ
(شایق مفتی)
ذکر دوزخ نہ سُنا اے واعظ
بس مرا دل نہ جلا اے واعظ
حور و جنت سے نہیں کام ہمیں
ذکر احمد صلی اللہ علیہ وسلم تو سُنا اے واعظ
نہ کسی شے سے مطلب نہ غرض
عشق احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اے واعظ
عشق نے گھر کیا جب سے دل میں
ہوں گرفتار بلا اے واعظ...
غزل
(شایق مفتی)
آرزو کوئی تو بر لائیے آپ
وصل میں مجھ سے نہ شرمائیے آپ
غم دوری سے نہ تڑپائیے آپ
میرے پہلو سے نہ اُٹھ جائیے آپ
غیر کے گھر نہ گئے تھے شب کو
خیر بہتر ہے قسم کھائیے آپ
حال قاصد سے زبانی کہیئے
خط نہ اغیار سے لکھوائیے آپ
دیکھ لوں عارض پر نور کو میں
رخ سے آنچل کو...
پابندیاں لگانے والوں کے نام معذرت کے ساتھ - :)
غزل
(ساغر صدیقی)
چشم ساقی کی عنایات پہ پابندی ہے
ان دنوں وقت پہ، حالات پہ پابندی ہے
بکھری بکھری ہوئی زلفوں کے فسانے چھیڑو
مے کشو! عہد خرابات پہ پابندی ہے
دل شکن ہو کے چلے آئے تری محفل سے
تیری محفل میں تو ہر بات پہ پابندی ہے...
غزل
(ساغر صدیقی)
تن سلگتا ہے من سلگتا ہے
جب بہاروں میں من سلگتا ہے
نوجوانی عجیب نشہ ہے
چھاؤں میں بھی بدن سلگتا ہے
جب وہ محو خرام ہوتے ہیں
انگ سرو سمن سلگتا ہے
جانے کیوں چاندنی میں پچھلے رات
چپکے چپکے چمن سلگتا ہے
تیرے سوزِ سخن سے اے ساغر
زندگی کا چلن سلگتا ہے
غزل
(ساغر صدیقی)
ہر شے ہے پر ملال بڑی تیز دھوپ ہے
ہر لب پہ ہے سوال بڑی تیز دھوپ ہے
چکرا کے گر نہ جاؤں میں اس تیز دھوپ میں
مجھ کو ذرا سنبھال بڑی تیز دھوپ ہے
دے حکم بادلوں کو خیاباں نشیں ہوں میں
جام و سبو اچھال بڑی تیز دھوپ ہے
ممکن ہے ابر رحمت یزداں برس پڑے
زلفوں کی چھاؤں ڈال بڑی...
چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو؟
چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو؟
جوبھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو
چودھویں کا چاند ہو
زلفیں ہیں جیسے کاندھوں پہ بادل جھکے ہوئے
زلفیں ہیں جیسے کاندھوں پہ بادل جھکے ہوئے
آنکھیں ہیں جیسے مئے کے پیالے بھرے ہوئے
مستی ہے جس میں پیار کی تم وہ شراب ہو
چودھویں کا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
لطف آرام کا نہیں ملتا
آدمی کام کا نہیں ملتا
کیسے حاضر جواب ہو کہ جواب
میرے پیغام کا نہیں ملتا
اُس نے جب شام کا کیا وعدہ
پھر پتہ شام کو نہیں ملتا
جستجو میں بہت ہے وہ کافر
بھید اسلام کا نہیں ملتا
مل گیا میں تمہیں وگرنہ غلام
کوئی بے دام کا نہیں...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ستم ہے کرنا، جفا ہے کرنا، نگاہِ اُلفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی، ہمارے حق میں کمی نہ کرنا
ہماری میّت پہ تم جو آنا تو چار آنسو گرا کے جانا
ذرا ہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
کہاں کا آنا کہاں کا جانا، وہ جانتے ہیں تھیں یہ رسمیں...