نتائج تلاش

  1. کاشفی

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی عرف غالب شکن۔۔۔۔از ڈاکٹر ظہور احمد اعوان

    مرزا یگانہ چنگیزی لکھنوی فرماتے ہیں ۔ پڑھتا ہے کوئی شعر، کوئی سنتا ہے مُنہ تکتا ہے کوئی، کوئی سر دُھنتا ہے اربابِ نگاہ، رولتے ہیں موتی اندھا نقاد، کنکری چُنتا ہے! (مرزا یگانہ چنگیزی لکھنوی)
  2. کاشفی

    تری بزمِ ناز میں تھا جو دل کبھی شمعِ روشنِ آرزو - رضا علی وحشت

    فاتح صاحب - سخنور صاحب - سید محمد نقوی صاحب آپ تینوں احباب کا بیحد شکریہ - خوش رہیں
  3. کاشفی

    حُسن کی جلوہ پاشیاں جب ہوں نظر کے سامنے - شاکر صدیقی

    غزل (شاکر صدیقی) حُسن کی جلوہ پاشیاں جب ہوں نظر کے سامنے دل ہو ہزار مرمریں خس ہے شرر کے سامنے رنگ جمال خواب تھا یاد ہے اسقدر مجھے کوند گئی تھیں بجلیاں میری نظر کے سامنے عشق کی فتنہ کوشیاں، آنکھ کی خون فروشیاں لالہ و گل ہیں داغ داغ قلب و جگر کے سامنے دونوں جہاں کی چاندنی میری نظر...
  4. کاشفی

    درسِ خود داری - آغا حشر کاشمیری

    سخنور صاحب فاتح صاحب آپ دونوں کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔
  5. کاشفی

    ساغر چڑھائے پھول کے ہرشاخسار نے - ریاض خیرآبادی

    بہت بہت شکریہ جناب سخنور صاحب!
  6. کاشفی

    درود بر حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 25

    صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  7. کاشفی

    افتخار عارف سورج تھے ، چراغِ کفِ جادہ میں نظر آئے ( افتخار عارف )

    عمدہ انتخاب ہے جناب! بہت خوب دنیا تھی رگ و پے میں سمائی ہوئی ایسی ضد تھی کہ سبھی کچھ اسی دنیا میں نظر آئے
  8. کاشفی

    ساغر چڑھائے پھول کے ہرشاخسار نے - ریاض خیرآبادی

    غزل (ریاض خیر آبادی) ساغر چڑھائے پھول کے ہرشاخسار نے دریا بہا دئے خم ابر بہار نے روشن کئے چراغِ لحد لالہ زار نے اس مرتبہ تو آگ لگادی بہار نے اودی گھٹائیں چھائی ہیں اے میکشو چلو پریوں کے تخت روک لئے سبزہ زار نے اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں ایک آہ کی بے آس ہو کے اس دل امیدوار نے...
  9. کاشفی

    ساغر نظامی مقسوم دل کروں خلش نشتر کو میں - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) مقسوم دل کروں خلش نشتر کو میں اب کے تری نظر سے لڑادوں نظر کو میں میرا مذاق عشق زمانے پہ کھل گیا اب کیا کہوں چھپا نہ سکا چشم تر کو میں خاموشیء جمود میں پھونکونگا صورِ حشر تیری خبر سنا کے دلِ بے خبر کو میں یا آرزو نے عمرِ محبت سنوار دی یا دستِ آرزو سے گیا عمر بھر کو میں...
  10. کاشفی

    درسِ خود داری - آغا حشر کاشمیری

    درسِ خود داری (از: آغا حشر کاشمیری) یقین اُن کی عنایت کا زینہار نہ کر بہشت بھی جو یہ بُت دیں تو اعتبار نہ کر ہر ایک اشک تماشائے صد گلستان ہے امیدِ عیش کو شرمندہء بہار نہ کر وہ مرگ عشق کی لذت سے آشنا ہی نہیں دعائے خضر پہ آمین بار بار نہ کر ترانہ جنگ کا شور شکست دل کو سمجھ کبھی اطاعتِ...
  11. کاشفی

    اردو رباعیات

    کیا افسرِ جمشید ہے کیا دولت کَے بیکار ہے زرفشانیء حاتم طَے میں بادہ گسار ہوں مجھے کافی ہے یا ساغر ماہتاب یا ساغر مَے (عابد لاہوری)
  12. کاشفی

    احمقوں کا خاندان

    آپ کا بھی بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔۔
  13. کاشفی

    احمقوں کا خاندان

    یارا کاشفی کی تو کافی احمقانہ باتیں ہیں۔۔ ویسے ڈیر ڈیر تھینکو ۔ خوش رہیں۔۔
  14. کاشفی

    احمقوں کا خاندان

    شکریہ جناب خوش رہیں۔
  15. کاشفی

    احمقوں کا خاندان

    فرحان بھائی شکریہ۔۔ اپنا دھیان رکھا کریں۔۔خوش رہیں۔
  16. کاشفی

    احمقوں کا خاندان

    خوشی جی لکھنے والے کا نام ہے۔ ا - ب - کاشفی یعنی احمق بیوقوف کاشفی:battingeyelashes:
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یہ تری چشم فسون گر میں کمال اچھا ہے ایک کا حال بُرا ایک کا حال اچھا ہے (داغ) دل مرا، آنکھ تری، دونوں ہیں بیمار مگر ایک کا حال بُرا ایک کا حال اچھا ہے (جلال) وہ عیادت کا مرے آتے ہیں لو اور سنو آج ہی خوبیء تقدیر سے حال اچھا ہے (داغ) موت کیوں پوچھے گی پھر آنکھ کے بیماروں کو جب تمہیں...
  18. کاشفی

    احمقوں کا خاندان

    عارف کریم آپ کا شکریہ
Top