غزل
(ضرر وصفی)
اِک جبر، جور، ظُلم دغا میرے ساتھ ہے
میں مطمئن ہوں جیسے خدا میرے ساتھ ہے
چادر سی تانے سر پہ گھٹا میرے ساتھ ہے
صحرا میں آج ماں کی دعا میرے ساتھ ہے
سورج، زمین ، چاند ، ستارے یہ آسماں
شاہ کار میں ہوں سب کی بقا میرے ساتھ ہے
کرتا ہوں کسبِ نور اسی روشنی سے میں
روشن...
غزل
(عالیہ تقوی - الہ آباد)
کب کسی کی یہ دنیا مستقل ٹھکا نا ہے
ایک در سے آ نا ہے دوسرے سے جانا ہے
یہ فقط سراۓ ہے اور ہم مسافر ہیں
رات بھر ٹھہرنا ہے صبح لوٹ جا نا ہے
کویٔ اپنی دولت پر چاھے جتنا اتراۓ
خالی ہاتھ آیا تھا خالی ہاتھ جانا ہے
پھر کسی نے چھیڑا ہے میرے دل کے تاروں کو...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
میرے پیامبر سے اُنہیں برہمی ہوئی
یارب کسی کی بات نہ بگڑے بنی ہوئی
دل کی لگی ہوئی بھی کوئی دل لگی ہوئی
بُجھتی نہیں بجھائے سے ایسی لگی ہوئی
میّت پہ میری آکے دل اُن کا دہل گیا
تعظیم کو جو لاش مری اُٹھ کھڑی ہوئی
وقتِ شگافِ سینہ مکدّر جو تھا یہ دل...
غزل
(داغ دہلوی)
دل میں فرحت جو کبھی آتی ہے
اپنے رونے پہ ہنسی آتی ہے
کیوں صبا کو نہ بناؤ ں قاصد
ابھی جاتی ہے ابھی آتی ہے
کیا ہے گِنتی مرے ارمانوں کی
فوج کی فوج چلی آتی ہے
یہ سبب کیا ہے جدھر جاتا ہوں
سامنے تیری گلی آتی ہے
پیشوائی کو تری گلشن میں
نکہتِ گل بھی اُڑی آتی ہے
جان...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
خرید کر دلِ عاشق کو یار لیتا جا
نہ ہوں جو دام گرہ میں، اُدھار لیتا جا
نہ چھوڑ طائر دل کو ہمارے اے صیاد
یہ اپنے ساتھ ہی اپنا شکار لیتا جا
نکل کے جلد نہ جا اس قدر توقف کر
دعائے خیر دلِ بیقرار لیتا جا
عدم کو جانے لگا میں تو بولی یہ تقدیر
کہ داغِ...
غزل
(حکیم آزاد انصاری)
اب ہم کو خوفِ قیدِ زماں و مکاں کہاں
اب جس جہاں میں ہم ہیں وہاں یہ جہاں کہا
اب قلب میں وہ برقِ محبت طپاں کہاں
اب جسم میں وہ روحِ رواں و دواں کہاں
اب جورِ گاہ گاہ کا احساں بھی کم نہیں
اب وہ توقعِ کرمِ بیکراں کہاں
جورِ فلک سے تو مفر آساں ہے، مگر
تیری نگاہِ...
جزاک اللہ جزاک اللہ۔ بہت ہی خوب جناب۔۔جیتے رہیں خوش رہیں۔۔۔
کہاں ممکن بھلا اُس کی ثنا ہے
کہ جس کا مدح خواں خود کبریا ہے
نہ میں کچھ ہوں نہ کچھ میری ثنا ہے
قصیدہ فاطمہ علیہ السلام کا ہل اتیٰ ہے
عدوات اور بنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
نہیں تیری، بزرگوں کی خطا ہے
غزل
(محسن امرتسری)
ہو رہے ہیں عہدوپیماں کچھ نیاز و ناز سے
دل کا محسن اب خدا حافظ ہے بزمِ راز میں
انتہا بیتاب ہو کر آگئی آغاز میں
سر کا جُھکنا تھا کہ دل پہنچا حریمِ ناز میں
دل میں کچھ ہے اور زباں پر کچھ ،کہاں سے ہو اثر
ساز ہم آہنگ ہوں تو سوز ہو آواز میں
فرقِ ناقوس و اذاں نقصِ...