غزل
(شاگرد خصوصی بلبل ہند فصیح الملک حضرت داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ جناب حضرت احسن مارہروی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
مرحوم کی آخری غزل جو انہوں نے جولائی 1940ء میں لکھی تھی
دامنوں کو باندھ لیتے کیوں گریبانوں کے پاس
عقل اگر ہوتی گرہ کی تیرے دیوانوں کے پاس
بے تکلف برہمن...
غزل
(شاگرد خصوصی بلبل ہند فصیح الملک حضرت داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ جناب حضرت احسن مارہروی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)
اور کیا محبت میں حال زار ہستی ہے
سر وبالِ گردن ہے، جان بارِ ہستی ہے
دل اِدھر ہے پژمردہ، جاں اُدھر ہے افسردہ
کس کو ان حوادث پر اعتبار ہستی ہے
آسماں اسے...
غزل
(داغ دہلوی)
زباں ہلاؤ تو ہو جائے فیصلہ دل کا
اب آچکا ہے لبوں پر معاملہ دل کا
خدا کے واسطے کر لو معاملہ دل کا
کہ گھر کے گھر ہی میں ہو جائے فیصلہ دل کا
تم اپنے ساتھ ہی تصویر اپنی لے جاؤ
نکال لیں گے کوئی اور مشغلہ دل کا
قصور تیری نگہ کا ہے کیا خطا اُس کی
لگاوٹوں نے بڑھایا ہے...
غزل
(داغ دہلوی)
اب دل ہے مقام بے کسی کا
یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا
کس کس کو مزا ہے عاشقی کا
تم نام تو لُو بھلا کسی کا
پھر دیکھتے عیش آدمی کا
بنتا جو فلک مری خوشی کا
گلشن میں ترے لبوں نے گویا
رس چوس لیا کلی کلی کا
لیتے نہیں بزم میں مرا نام
کہتے ہیں خیال ہے کسی کا
جیتے ہیں...
عیدِ غریباں
( ڈاکٹر سکندر شیخ مطرب)
اپنے سیلاب زدگان بھائیوں اور بہنوں کے نام
اس کے دل پہ بھی اداسی کی گھٹا چھائے گی
دور تک جب اسے ویرانی نظر آئے گی
شہرِ خاموش کو دیکھے گی تو ڈر جائے گی
کیا ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ کچھ نہ سمجھ پائے گی
عید چپ چاپ دبے پاؤں گزر جائے گی
کتنے مجبور کسانوں کے...
عید
(مومن خاں شوق)
بہارِ بے خزاں ہے عید کا دن
گُلوں کا کارواں ہے عید کا دن
مسرت رقص فرما ہر طرف ہے
نشاطِ جاوداں ہے عید کا دن
-----
روزِ روشن ، بہارِ صبح عید
روزہ داروں کو رحمتوں کی نوید
چاند کو ہم نے یوں بھی دیکھا ہے
چاند کی دید اپنے یار کی دید
-----
لبِ شیریں پہ مسرت کے ترانے آئے...