غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
دل پُر اضطراب نے مارا
اسی خانہ خراب نے مارا
میری آنکھوں سے ہے عیاں پسِ مرگ
نرگسِ نیم خواب نے مارا
دیکھ لینا کہ حشر کا میدان
میرے حاضر جواب نے مارا
یاد کرتے ہو غیر کے اشعار
ہائے اس انتخاب نے مارا
دل لگاوٹ نے کردیا بسمل
اور پھر اجتناب نے...
نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
(افتخار راغب)
خواہش نہیں ذرا بھی مجھے نام وام کی
میرے قلم کو پیاس ہے کوثر کے جام کی
یہ دل کہ جس میں پیار بسا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا
اِک چیز بس یہی ہے مِرے پاس کام کی
پیغامِ شاہِ دیں صلی اللہ علیہ وسلم کی محتاج کائنات
رحمت ہے سب کے واسطے...
کچھ اشارا جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت
ٹال کر کہنے لگے دن ہے ابھی، رات کے وقت
گرچہ مے پینے سے، کی توبہ ہے، میں نے ساقی
بھول جاتا ہوں ولے تیری مدارات کے وقت
موسمِ عیش ہے یہ عہدجوانی، انشا
دور ہیں تیرے ابھی زہد و عبادات کے وقت
(انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ علیہ)
جھوٹا نکلا قرار تیرا
اب کس کو ہے اعتبار تیرا؟
دل میں سو لاکھ چٹکیاں لیں
دیکھا بس ہم نے پیار تیرا
انشا سے نہ روٹھ، مت خفا ہو
ہے بندہء جاں نثار تیرا
(انشا اللہ خاں انشا)
باتیں ناصح کی سُنیں، یار کے نظارے کیے
آنکھیں جنت میں رہیں، کان جہنم میں رہے
اُن کے تڑپانے کی طاقت جو نہیں ہم میں نہ ہو
کاش اپنے ہی تڑپنے کی سکت ہم میں رہے
(امیر مینائی)
غزل
(امیر مینائی)
ہم لوٹتے ہیں، وہ سو رہے ہیں
کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں
پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت
جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں
پیری میں بھی ہم ہزار افسوس
بچپن کی نیند سو رہے ہیں
روئیں گے ہمیں رُلانے والے
ڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں
کیوں کرتے ہیں غمگسار تکلیف
آنسو مرے مُنہ...
اشعارِ اثر
(اثر - تخلص ہے، میر محمد نام، شاہ جہاں آبادی ، چھوٹے بھائی تھے خواجہ میر درد مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ کے، واقف تھے فن تصوف سے اورآگاہ تھے علم معرفت سے۔)
بے وفا تجھ سے اب گلا ہی نہیں
تو تو گویا کہ آشنا ہی نہیں
یا خدا پاس، یا بتاں کے پاس
دل کبھی اپنا یاں رہا ہی نہیں...
غزل
(آرزو - تخلص ہے، سراج الدین علی خاں نام، متوطن اکبر آباد کے)
آتا ہے صبح اُٹھ کے تیری برابری کو
کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشیدخاوری کو
دل مارنے کا نسخہ پُہنچا ہے عاشقوں تک
کیا کوئی جانتا ہے اس کیمیا گری کو
اس تندخو صنم سے ملنے لگا ہے جب سے
ہر کوئی مانتا ہے میری دلاوری کو
اپنی...