غزل
(جگر مُراد آبادی)
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں
شروعِ راہِ محبت، ارے معاذ اللہ
یہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
یہ نازِ حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر
نظر ملاتے نہیں، مسکرائے جاتے ہیں
مرے جنون تمنا کا کچھ خیال نہیں
لجائے جاتے...
ویل ڈن فرحان بھائی۔۔ مبارک ہو جناب بہت بہت۔
اللہ رب العزت آپ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔۔آمین
آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ۔
ہمارے عزم و حوصلے ٹوٹے نہیں
جدوجہد کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔انشاء اللہ
(حصہ اوّل )
بہت اُکتا چُکا ہے آج کا انسان مُلا بس
ابھی نکلا نہیں،دل کا ترے ارمان مُلا بس
کبھی تُو اشرف المخلوق تھا کچھ یاد ہے تجھ کو
پتہ اب مانگتے ہیں تجھ سے سب حیوان مُلا بس
تجھے رشک و حسد سے دیکھتا رہتا ہے بے چارہ
کہ تیری رِیس کر سکتا نہیں شیطان مُلا بس
بہت کی خدمتِ اسلام مُلا...
غزل
(ساغر صدیقی)
ذرا کچھ اور قربت زیر داماں لڑکھڑاتے ہیں
مئے شعلہ فگن پی کر گلستاں لڑکھڑاتے ہیں
تخیل سے گزرتے ہیں تو نغمے چونک اُٹھتے ہیں
تصور میں بہ انداز بہاراں لڑکھڑاتے ہیں
قرار دین و دنیا آپ کی بانہوں میں لرزاں ہیں
سہارے دیکھ کر زلف پریشاں لڑکھڑاتے ہیں
تری آنکھوں کے افسانے...
دل عبادت سے چُرانا اور جنت کی طلب؟
کام چور، اس کام پر، کس منہ سے اُجرت کی طلب؟
حشر تک دل میں رہی اُس سروقامت کی طلب
یہ طلب ہے اپنی یارب، کس قیامت کی طلب؟
(ذوق)
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ
منظور تو ہے میری ملاقات سے توبہ؟
بیعت بھی جو کرتا ہے، تو وہ دستِ سبو پر
چکراتی ہے کیا رندِ خرابات سے توبہ؟
خود ہم نہ ملیں گے نہ کہیں جائیں گے مہماں
کی آپ نے واللہ نئی گھات سے توبہ
وہ آئی گھٹا جھوم کے للچانے...
فرحان بھائی اچھا لکھا ہے جناب نے۔۔ اہلِ کراچی کی بہترین نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ کی نشاندہی بہتر طریقے سے کی ہے آپ نے ۔۔۔ شکریہ بیحد۔ جیتے رہیں اور خوش رہیں۔۔