نتائج تلاش

  1. کاشفی

    کب سے پکارتا ہوں جوانی کدھر گئی - سید علی شاد مرحوم

    غزل (خانبہادر سید علی محمد شاد مرحوم عظیم آبادی) کب سے پکارتا ہوں جوانی کدھر گئی کیا زندگی کی راہ میں کمبخت مر گئی ناحق ہے دل کو صبح شبِ غم کا انتظار تھوڑی سی اب ہے رات بہت کچھ گذر گئی عمررواں کی تیز روی کا بیاں کیا اک برق کوند کر ادھر آئی اُدھر گئی اس سے تو تھا مرے لئے بہتر کہیں...
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نہیں معلوم دنیا جلوہ گاہِ ناز ہے کس کی ہزاروں اُٹھ گئے پھر بھی وہی رونق ہے مجلس کی (شاعر: اگر کسی کو معلوم ہے تو بتائیں)
  3. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    جنونِ عشق میں احساس اتنا تیز ہوجاتا جو چھو جاتی ہوا، دل درد سے لبریز ہوجاتا یہ ساری لذتیں ہیں میرے شوق نامکمل تک قیامت تھی یہ پیمانہ اگر لبریز ہوجاتا نہ رکھا دل کو احساسِ گناہ نے مستقل ورنہ یہی ظلمت کدہ اک دن تجلی خیز ہوجاتا (جگر مراد آبادی)
  4. کاشفی

    اس تجاہل سے مدعا کیا ہے - قدرت علی صاحب عزت

    غزل (جناب قدرت علی صاحب ، تخلص عزت) اس تجاہل سے مدعا کیا ہے تیری یہ ہر گھڑی کی “کیا“ کیا ہے اب وہ بیتابیاں نہیں مجھ میں جانے آنکھوں سے بہ گیا کیا ہے درد دل ہوگیا دوا آخر ہم نہیں جانتے دوا کیا ہے بیقراری یہ کیوں ہے حضرتِ دل کچھ تو فرمائیے ہوا کیا ہے ہو نہ بوئے ریا تو پھر زاہد...
  5. کاشفی

    ہوگیا وجہ جنوں عشق کا چرچا مجھ کو - سید محمد ہادی دہلوی

    [CENTER]غزل (سید محمد ہادی دہلوی) [SIZE="5"][COLOR="blue"]ہوگیا وجہ جنوں عشق کا چرچا مجھ کو دیکھئے کیا کرے یہ سوزشِ سودا مجھ کو آنکھیں پتھرا گئیں دل ہجر سے بیتاب ہوا اب تو دکھلا دو خدارا رُخ زیبا مجھ کو اس کی زلفوں کا بکھرنا تھا قیامت آئی ہوگیا مجھ کو جنوں ہوگیا سودا مجھ کو...
  6. کاشفی

    جگر نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں - جگر مُراد آبادی

    شکریہ جناب سخنور صاحب! شکریہ جناب فاتح صاحب! شکریہ محترمہ جیاراؤ صاحبہ!
  7. کاشفی

    دعا نے کام کیا ہے، یقیں نہیں آتا - راج کمار قیس

    شکریہ سخنور صاحب! شکریہ جیاراؤ صاحبہ! شکریہ ناعمہ عزیز صاحبہ!
  8. کاشفی

    پلکوں پہ دل کا رنگ فروزاں نہیں رہا - سید محمد حنیف اخگر

    سخنور صاحب - فاتح صاحب - جیاراؤ صاحبہ اور ناعمہ عزیز صاحبہ آپ تمام کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔
  9. کاشفی

    کوئی اُمید نہ تھی، پھر بھی پاس آہی گیا - راج کمار قیس

    سخنور صاحب - فاتح صاحب - جیاراؤ صاحبہ اور علی فاروقی صاحب آپ تمام کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔
  10. کاشفی

    ہیمنت کمار بیقرار کر کےہمیں یوں نہ جائیے

    بیقرار کر کےہمیں یوں نہ جائیے آپ کو ہماری قسم لوٹ آئیے
  11. کاشفی

    کوئی اُمید نہ تھی، پھر بھی پاس آہی گیا - راج کمار قیس

    غزل (راج کمار قیس) کوئی اُمید نہ تھی، پھر بھی پاس آہی گیا اگرچہ وعدہ تھا جھوٹا مگر نبھا ہی گیا وہ التفات پہ آیا پر احتیاط کے ساتھ نظر ملائی مگر حالِ دل چھپا ہی گیا دل تباہ کو زخموں سے مالا مال کیا خزاں کا دَور تھا لیکن وہ گل کھلا ہی گیا مرے قریب سے گزرا خیال کی صورت سکوتِ ناز...
  12. کاشفی

    حصارِ ذات سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں - راج کمار قیس

    محمد وارث صاحب - م۔م۔مغل صاحب - شاہ حسین صاحب - زرقا مفتی صاحبہ - سخنور صاحب اور الف عین صاحب آپ تمام کا بیحد شکریہ خوش رہیں
  13. کاشفی

    دعا نے کام کیا ہے، یقیں نہیں آتا - راج کمار قیس

    غزل (راج کمار قیس) دعا نے کام کیا ہے، یقیں نہیں آتا وہ میرے پاس کھڑا ہے ، یقیں نہیں آتا میں جس مقام پر آکر رُکا ہوں شام ڈھلے وہیں پہ وہ بھی رُکا ہے، یقیں نہیں آتا وہ جس کی ایک جھلک کو ترس گئی تھی حیات وہ آج جلوہ نما ہے، یقیں نہیں آتا وہ جس کی آنکھ میں دونوں جہاں دکھائی پڑیں...
  14. کاشفی

    پلکوں پہ دل کا رنگ فروزاں نہیں رہا - سید محمد حنیف اخگر

    غزل (سید محمد حنیف اخگر) پلکوں پہ دل کا رنگ فروزاں نہیں رہا اب ایک بھی دیا سرِ مژگاں نہیں رہا قلبِ گداز و دیدہء تر تو ہے اپنے پاس میں شاد ہوں کہ بے سروساماں نہیں رہا آنکھوں میں جل اُٹھے ہیں دیئے انتظار کے احساسِ ظلمتِ شبِ ہجراں نہیں رہا تُجھ سے بچھڑ کے آج بھی زندہ تو ہُوں مگر وہ...
  15. کاشفی

    وہ سُنا رہے تھے لیکن نہ سنا گیا فسانہ - سید محمد حنیف اخگر

    غزل (سید محمد حنیف اخگر) وہ سُنا رہے تھے لیکن نہ سنا گیا فسانہ ذرا آنکھ لگ گئی تھی کہ گزر گیا زمانہ غم نو بہ نو کی زد سے ہے محال دل بچانا کبھی دکھ کے تازیانے کبھی درد کا فسانہ اسی کشمکش میں الفت کا گزر گیا زمانہ کبھی آپ ہچکچائے کبھی دل کہا نہ مانا کہیں تم بھی ہو نہ جانا مری...
  16. کاشفی

    ذوق وقتِ پیری شباب کی باتیں - ذوق

    بہت شکریہ جناب سخنور صاحب مکمل غزل شریک ِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
  17. کاشفی

    جگر نیاز عاشقی کو ناز کے قابل سمجھتے ہیں - جگر مُراد آبادی

    غزل (جگر مُراد آبادی) نیاز عاشقی کو ناز کے قابل سمجھتے ہیں ہم اپنے دل کو بھی اب آپ ہی کا دل سمجھتے ہیں عدم کی راہ میں رکھا ہی ہے پہلا قدم میں نے مگر احباب اس کو آخری منزل سمجھتے ہیں قریب آ آکے منزل تک پلٹ جاتے ہیں منزل سے نہ جانے دل میں کیا آوارہء منزل سمجھتے ہیں الہٰی ایک دل...
Top