غزل
(خانبہادر سید علی محمد شاد مرحوم عظیم آبادی)
کب سے پکارتا ہوں جوانی کدھر گئی
کیا زندگی کی راہ میں کمبخت مر گئی
ناحق ہے دل کو صبح شبِ غم کا انتظار
تھوڑی سی اب ہے رات بہت کچھ گذر گئی
عمررواں کی تیز روی کا بیاں کیا
اک برق کوند کر ادھر آئی اُدھر گئی
اس سے تو تھا مرے لئے بہتر کہیں...
جنونِ عشق میں احساس اتنا تیز ہوجاتا
جو چھو جاتی ہوا، دل درد سے لبریز ہوجاتا
یہ ساری لذتیں ہیں میرے شوق نامکمل تک
قیامت تھی یہ پیمانہ اگر لبریز ہوجاتا
نہ رکھا دل کو احساسِ گناہ نے مستقل ورنہ
یہی ظلمت کدہ اک دن تجلی خیز ہوجاتا
(جگر مراد آبادی)
غزل
(جناب قدرت علی صاحب ، تخلص عزت)
اس تجاہل سے مدعا کیا ہے
تیری یہ ہر گھڑی کی “کیا“ کیا ہے
اب وہ بیتابیاں نہیں مجھ میں
جانے آنکھوں سے بہ گیا کیا ہے
درد دل ہوگیا دوا آخر
ہم نہیں جانتے دوا کیا ہے
بیقراری یہ کیوں ہے حضرتِ دل
کچھ تو فرمائیے ہوا کیا ہے
ہو نہ بوئے ریا تو پھر زاہد...
[CENTER]غزل
(سید محمد ہادی دہلوی)
[SIZE="5"][COLOR="blue"]ہوگیا وجہ جنوں عشق کا چرچا مجھ کو
دیکھئے کیا کرے یہ سوزشِ سودا مجھ کو
آنکھیں پتھرا گئیں دل ہجر سے بیتاب ہوا
اب تو دکھلا دو خدارا رُخ زیبا مجھ کو
اس کی زلفوں کا بکھرنا تھا قیامت آئی
ہوگیا مجھ کو جنوں ہوگیا سودا مجھ کو...
غزل
(راج کمار قیس)
کوئی اُمید نہ تھی، پھر بھی پاس آہی گیا
اگرچہ وعدہ تھا جھوٹا مگر نبھا ہی گیا
وہ التفات پہ آیا پر احتیاط کے ساتھ
نظر ملائی مگر حالِ دل چھپا ہی گیا
دل تباہ کو زخموں سے مالا مال کیا
خزاں کا دَور تھا لیکن وہ گل کھلا ہی گیا
مرے قریب سے گزرا خیال کی صورت
سکوتِ ناز...
غزل
(راج کمار قیس)
دعا نے کام کیا ہے، یقیں نہیں آتا
وہ میرے پاس کھڑا ہے ، یقیں نہیں آتا
میں جس مقام پر آکر رُکا ہوں شام ڈھلے
وہیں پہ وہ بھی رُکا ہے، یقیں نہیں آتا
وہ جس کی ایک جھلک کو ترس گئی تھی حیات
وہ آج جلوہ نما ہے، یقیں نہیں آتا
وہ جس کی آنکھ میں دونوں جہاں دکھائی پڑیں...
غزل
(سید محمد حنیف اخگر)
پلکوں پہ دل کا رنگ فروزاں نہیں رہا
اب ایک بھی دیا سرِ مژگاں نہیں رہا
قلبِ گداز و دیدہء تر تو ہے اپنے پاس
میں شاد ہوں کہ بے سروساماں نہیں رہا
آنکھوں میں جل اُٹھے ہیں دیئے انتظار کے
احساسِ ظلمتِ شبِ ہجراں نہیں رہا
تُجھ سے بچھڑ کے آج بھی زندہ تو ہُوں مگر
وہ...
غزل
(سید محمد حنیف اخگر)
وہ سُنا رہے تھے لیکن نہ سنا گیا فسانہ
ذرا آنکھ لگ گئی تھی کہ گزر گیا زمانہ
غم نو بہ نو کی زد سے ہے محال دل بچانا
کبھی دکھ کے تازیانے کبھی درد کا فسانہ
اسی کشمکش میں الفت کا گزر گیا زمانہ
کبھی آپ ہچکچائے کبھی دل کہا نہ مانا
کہیں تم بھی ہو نہ جانا مری...
غزل
(جگر مُراد آبادی)
نیاز عاشقی کو ناز کے قابل سمجھتے ہیں
ہم اپنے دل کو بھی اب آپ ہی کا دل سمجھتے ہیں
عدم کی راہ میں رکھا ہی ہے پہلا قدم میں نے
مگر احباب اس کو آخری منزل سمجھتے ہیں
قریب آ آکے منزل تک پلٹ جاتے ہیں منزل سے
نہ جانے دل میں کیا آوارہء منزل سمجھتے ہیں
الہٰی ایک دل...