مصطفیٰ زیدی کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے، مصطفیٰ زیدی

شعیب خالق نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 13, 2008

  1. شعیب خالق

    شعیب خالق محفلین

    مراسلے:
    362
    کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے،
    غم دل مرے رفیقو! غم رائیگاں نہیں ہے

    کوئی ہم نفس نہیں ہے، کوئ رازداں نہیں ہے
    فقط ایک دل تھا اب تک سو و ہ مہرباں نہیں ہے

    کسی آنکھ کو صدا دو کسی زلف کو پکار و
    بڑی دھوپ پڑرہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

    انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
    مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
    مُصطفیٰ زیدی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,874
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ شعیب خالق صاحب یہ میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ہے - مصطفیٰ زیدی بہت اچھے شاعر تھے - جوش ملیح آبادی کے شاگردِ خاص تھے - مجھے آخری شعر کھٹک رہا ہے کیا یہ ایسے نہیں‌ہے؟
    انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
    مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,271
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست ہے فرخ۔ اور یہ شعر ایسا ہی ہے جو اپنے خالق کو دور چھوڑ گیا ہے۔یعنی کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگ کہ یہ شعر کس کا ہے۔
    مصطفیٰ زیدی بھی ان شعراء میں سے تھے جن کو اب لوگ بھولتے جا رہے ہیں، جیسا میں نے کسی پوسٹ میں ذکر کیا تھا عزیز حامد مدنی وغیرہ کے نام کے ساتھ۔
    شعیب اور فرخ، تمہارے پاس اور کتنا کلام ہے ان کا؟؟
    اسش پر یاد آیا کہ یہ شعر بھی اپنے شاعر کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔
    اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
    ریڈیو کے کسی پروگرام میں مرحوم مینا کماری نازؔ نے یہ شعر پڑھا تھا اور اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہو گئی ہے کہ یہ شعر مینا کماری کا ہے۔ لیکن یہ شعر بشیر بدر کا ہے۔ اور بشیر بدر کو پسند کرنے والے بھی یہ معلوم کرنے پر تعجب کرتے ہیں کہ اتنا مشہور شعر اور بشیر بدر کا!!
    بشیر بدر کی اس غزل کا مطلع ہے
    ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
    چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. شعیب خالق

    شعیب خالق محفلین

    مراسلے:
    362
    فرخ بھائی مصطفیٰ زیدی میرے بھی پسندیدہ شاعر ہے ۔ آخر ی شعر کے بارے میں مجھے بھی شک تھا اردو پوئنٹ سے جب میں نے یہ پڑھا تو ایسا ہی لکھا ہوا نظر آیا میں ٹھیک کردیتا ہوں
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. شعیب خالق

    شعیب خالق محفلین

    مراسلے:
    362
    السلام علیکم
    اعجاز صاحب
    میں نے جب یہا ں مصطفٰی زیدی کی غزلیں‌ ڈھونڈنے کی کوشش کی تو مجھے کچھ بھی نہیں‌ ملا۔ تصویر حالت میں‌ میر ے پاس کچھ کلام ہے مصطفیٰ زیدی کا ۔ انشاء اللہ کل پرسو تک انھییں لکھ کر پوسٹ کردوں گا ۔
    بشیر بدر کی یہ غزل بھی میرے ہے ۔
    بہت شکریہ
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اعجاز صاحب مصطفی زیدی کا پہلے تو میرے پاس کافی کلام تھا لیکن اب شائد صرف"شہرِ آذر" ہی ہے - لیکن انکا کلام بازار میں دستیاب ہے - آپ حکم کیجیے گا میں کتابیں خرید لوں گا لیکن برقیانے کی فرصت نہیں‌ - لیکن شائد سکین کرسکوں - خیال کیا جاتا ہے کہ مصطفیٰ زیدی نے خودکشی کر لی تھی یا قتل لیکن طبعی موت نہیں‌تھی اسی حوالےسے ان کا ایک اور مشہور شعر
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

    دستانے کی ترکیب شاعری میں شائد ہی کسی نے استعمال کی ہو - لیکن اتنی غیرشاعرانہ ترکیب کو زیدی نے بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غزل - کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے - مصطفٰی زیدی

    غزل


    کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
    غمِ دل مرے رفیقو ! غمِ رائیگاں نہیں ہے

    کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
    فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے

    مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
    مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

    کسی زلف کو صدا دو، کسی آنکھ کو پکارو
    بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

    انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
    مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

    مصطفٰی زیدی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  9. خوشی

    خوشی محفلین

    مراسلے:
    11,032
    کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
    فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے

    مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
    مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے


    واہ بہت خوب بہت اچھے

    بہت شکریہ اس شئیرنگ کے لئے صحرا جی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,176
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    لاجواب اور سدا بہار غزل ہے۔

    ہر بار لطف دیتی ہے۔

    واہ ! واہ! خوش رہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    بہت خوب جناب پیاسا صحرا عمدہ انتخاب ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بہت ہی خوب جناب۔۔۔
     
  13. عبدالرزاق قادری

    عبدالرزاق قادری معطل

    مراسلے:
    1,813
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے​
    غمِ دل مرے رفیقو ! غمِ رائیگاں نہیں ہے​
    کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے​
    فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے​
    مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو​
    مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے​
    کسی زلف کو صدا دو، کسی آنکھ کو پکارو​
    بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے​
    انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ​
    مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. عبدالرزاق قادری

    عبدالرزاق قادری معطل

    مراسلے:
    1,813
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
  15. محمدزید مصطفی

    محمدزید مصطفی محفلین

    مراسلے:
    53
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خیال کیا جاتا ہے کہ مصطفیٰ زیدی نے خودکشی کر لی تھی یا قتل لیکن طبعی موت نہیں‌تھی اسی حوالےسے ان کا ایک اور مشہور شعر
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

    معلوماتی
     
  16. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    غزل

    کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
    غمِ دل مرے رفیقو، غمِ رائیگاں نہیں ہے

    کوئی ہم نفس نہیں ہے، کوئی رازداں نہیں ہے
    فقط ایک دل تھا اب تک سووہ مہرباں نہیں ہے

    مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
    مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

    کسی آنکھ کو صدا دو، کسی زلف کو پکارو
    بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

    انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
    مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے

    (مصطفیٰ زیدی)

    شہرِ آزر​
     
    • زبردست زبردست × 2
  17. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,176
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    واہ!

    یہ غزل سدا بہار ہے۔

    لاجواب ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر