شعر،قافیہ،عروض وغیرہ سے متعلق متفرق معلومات

محمد اسامہ سَرسَری نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 25, 2013

  1. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,818
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آداب بجا لاتا ہوں، حضرت!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یہ پورا مضمون سید شہزاد ناصر صاحب نے یہاں سے لیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. باسم

    باسم محفلین

    مراسلے:
    1,767
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    یہ بھی استاذ محمد وارث صاحب کی تحریر ہے جو ان کے بلاگ پر یہاں موجود ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    قطعے کے بارے میں کچھ مفید باتیں:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    شعر کے ”سُپرد“ ہوجاؤ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نیز یہاں بھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    شترگربہ:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    وتد مجموع: ہجائے کوتاہ + ہجائے بلند جیسے: قلم ، سفر ، اثر ، ادا ، دعا ، عدو ، گھڑی۔
    وتد مفروق: ہجائے بلند + ہجائے کوتاہ جیسے: آم ، کار ، دور ، پیر۔
    وہ الفاظ جو اصلاً وتد مفروق ہیں، مگر انھیں وتد مجموع کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے:
     
  11. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,818
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ؟؟؟؟؟؟
    ’’وہ الفاظ جو وتد مجموع اور وتد مفروق دونوں ہیں‘‘ ۔۔۔ یوں ہم کسی غلط سمت میں بھی جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہی الفاظ جو میں نے نقل کئے تھے: صبح، شمع، طمع، طرح وغیرہ؛ وہ اصولی طور پر وتد مفروق ہیں اور ہم اُن کو وتد مجموع قرار نہیں دے سکتے، کہ ایسا خلافِ ضابطہ ہو گا۔ اُن کو کئیوں نے وتد مجموع باندھا ہے، چلئے باندھ لیا، لیکن یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ان الفاظ کی حیثیت ہی بدل دیں۔
    بہت سارے مقامات ایسے بھی ہیں کہ معانی ہی بدل جاتے ہیں۔
    ایک مثال: غزل : غ + زل (وتد مجموع ہے) یہی شاعری والی غزل؛ اور غزل : غز + ل (وتد مفروق ہے) سوت کی اٹی۔
    لہٰذا، قاعدہ اور اصول اپنی جگہ قائم رہے گا، غلط العام، غلط العوام، اجازت، اختیار، تصرف، رعایت وغیرہ اپنی جگہ۔

    محمد اسامہ سَرسَری ، محمد وارث ، مزمل شیخ بسمل ، شمشاد صاحبان۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آسی صاحب آپ نے اسامہ صاحب کی جس تحریر کا اقتباس لیا تھا اس میں اسامہ صاحب کی خواہش پر حسبِ منشا تدوین کر دی گئی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,818
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مقطع میں آ پڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ اشعار غالباً ناصر کاظمی کے ہیں:

    تمہیں ملا ہے جو کردار ، وہ نبھاتے رہو​
    پہاڑ ہو تو ہمیں راستہ دیا نہ کرو​
    تمام شہر کو ہم پیچھے چھوڑ سکتے ہیں ​
    ہمارے ساتھ اگر تم مقابلہ نہ کرو​
    تمہارے سینے میں پتھر کا دل سہی ناصر​
    یہ بزمِ یار ہے ، باتیں تو شاعرانہ کرو​

    مقطع میں قافیہ کے مزاج شناس کیا فرماتے ہیں؟

    جناب الف عین ، جناب مزمل شیخ بسمل ، جناب محمد وارث ، جناب محمد احمد، جناب التباس ، جناب محب علوی ، جناب منیر انور ، جناب فاتح اور دیگر اہلِ کرم۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    پہلے اپنی بات:
    اصولِ قافیہ یعنی علمِ قافیہ پر لکھی گئی کسی بھی مستند کتاب کو اٹھا لیجئے "مہا راجہ سر کشن پرشاد بہادر" کی "مخزن القوافی" سے لیکر نجم الغنی رامپوری کی "بحر الفصاحت" تک سب کی سب کتابیں پڑھ کر، سمجھ کر اور غور کرکے بھی کوئی اس قافیہ کو درست ثابت نہیں کر سکتا۔ کچھ ثابت کر سکتا ہے تو وہ یہ کہ یہ عیوب قافیہ میں سے ایک عیب ہے جسے اصطلاح میں "معمولِ ترکیبی" یا "معمولِ تحلیلی" کہتے ہیں۔ گویا یہ قافیہ غلط ہے۔ :)

    اب رواج کی بات:
    اصول کی بات تو اوپر کر چکا ہوں۔ مگر اب مسئلہ یہاں یہ ہے کہ یہ بات ہضم کرنا بہت مشکل ہے کہ یہ قافیہ غلط ہے۔ :) وجہ اس کی یہ ہے کہ اساتذہ کے کلام میں یہ عیب اکثر پایا جاتا رہا ہے۔ اس لئے بعد کے شعرا نے اس عیب کو اپنی کم فہمی کی بنا پر یا اپنی آسانی کی بنیاد پر اسے شعر کا حسن قرار دے دیا ہے۔ اساتذہ میں دہلی والوں کے یہاں عموماً اور لکھنو والوں کے یہاں خصوصاً اس عیب کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ پوری پوری غزلوں میں جگہ جگہ 4، 5 قوافی معمولِ ترکیبی کا شکار ہوتے ہیں۔
    اسی طرح غالب کا شعر:
    رہزنی ہے کہ دلستانی ہے
    لے کہ دل دلستاں روانہ ہوا
    جبکہ مطلع:
    درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

    یہاں اول الذکر شعر میں معمول تحلیلی واقع ہوتا ہے۔
    تو میں عرض یہ کر رہا تھا کہ رواج میں یہ بات بہت عام ہے اس لئے اصول قافیہ اس عیب میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ اصول ویسا ہی ہے جیسے "عیبِ تنافر" ہے۔ گو کہ عیب ہے مگر اس لئے خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے کہ اساتذہ کے کلام میں بہت عام ہے۔ :)
    خیر!!! خدا بچائے ان عروضیوں سے۔ :cool:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  15. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,818
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بہت شکریہ جنابِ شیخ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ضرب المثل اشعار:
     
  17. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    روزنامہ جنگ کا ایک قطعہ کچھ کچھ یاد ہے
    ڈال تو بھی گلے میں کوئی سیاسی ڈھول
    کھول نذیرا تو بھی کوئی جادوئی پٹارا کھول
    راجہ جی موتی برسایں رول فقیرا رول
    بول وزیرا کرسی کی جے بول وزیرا کرسی کی جے بول
    کچھ یوں ہی یاد ہے ممکن ہے کہ اس میں مجھ سے اغلاط ہو گئی ہوں مگر قطعے کا مضمون یہ ہی تھا اور میرے خیال میں روزنامے میں ہر روز ایک قطعہ لکھنا بہت مشکل کام ہے اور یہ کام کوئی استاد شاعر ہی کر سکتا ہے
     
  18. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک اقتباس حاضر ہے
    ۔( علمِ عروض )۔
    علمِ عروض شعر کے وزن کی موزونیت کی جان پہچان کے لیئے وجود میں آیا ۔ اور اس کے ذریعہ وزن میں کسی خلل کی شناخت
    ہوسکتی ہے ۔ اس علم کے اول موجد خلیل ابن احمد الفراھیدی کہلائے جن کی کتاب کا نام(العروض ) ہے جو ۱۵ بحروں پر
    مشتمل ہے لیکن ان کے شاگرد اخفش نے ایک اور بحر کا اضافہ کیا جس کا نام ’’ خبب’’ رکھا جو ‘‘متدارک‘‘ کہلاتی ہے
    خلیل ابن الفراھیدی کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کا نام ،خلیل ابن احمد الفراھیدی الازدی ہے جو عمان میں ۱۰۰ ھجری =
    ۷۱۸ ء میں پیدا ہوے اور ان کا انتقال ۱۷۵ ھجری = ۷۹۱ ء میں ہوا
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
    ۔۔(شعر کا مفہوم )۔۔
    وہ منظوم کلام جس میں عام طور پر عمودِ کلام یعنی وزن و قافیہ ہو ورنہ وہ نثر کہلائے گا جس کو منتخب حسین الفاظ
    کی صورت میں آج کل نثری نظم کہا جارہا ہے جس کی اس تعریف سے اکثر دانشوروں کو اختلاف ہے البتہ آزاد نظم کو
    عام طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے جس میں وزن تو ہوتا ہے لیکن کسی مصرع میں مکمل وزن کسی میں وزن کے ایک جزو کے اضافہ کے ساتھ یا کمی کے ساتھ
    ۔۔۔ ( ارکان یا تفاعیل )۔۔۔
    ارکان یا تفاعیل کی تعریف یہ ہے کہ وہ اسباب اور اوتاد کے مجموعے ہوتے ہیں ۰ سبب اس کو کہتے ہیں جو ایک متحرک حرف
    اور ایک ساکن سے بنتا ہے جیسے فا ، لن ، تن ، مس ، تف ، اور وتد وہ ہیں جو عام ظور پر دو یا دو سے زیادہ متحرک اور
    ایک ساکن حرف سے بنتا ہے جیسے عِلا ، عِلن ، فعِلن ، متَفا وغیرہ
    جب شعر کی صوتی تحلیل یا تقطیع کی جاتی ہے تو حرکات اور سکنات کے مجموعات کا تقابل لفظ اور رکن سے کیا جاتا ہے
    جس کو وزن کہتے ہیں ۰

    اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۵۵۲ اور ۶۵۲ پر خاص اور عام زحافوں کا ذکر ہے جو ترتیب وا ر ۴ اور
    ۱۱ ہیں یعنی جملہ ۱۵ ۰ اس کتاب کی مندچۂ بالا عبارات پڑھنے کے بعد اس کے ذمہّ دار افراد
    کی اور مجھ جیسے نقل نویس کی اہمیت پر اعتماد کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۰
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
    کتابِ آہنگ اور عروض
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔
    اس کے صفحۂ نمبر ۱۹۵ پر لکھا ہے :
    ۱۵ ۔ کامل مربّع مرفّل ( متفاعلن متفاعلاتن ۔ دو بار ) ۰
    میں بھی اس سے متّفق ہوں کہ ترفیل کی وجہ سے متفاعلن سے متفاعلاتن صحیح ہے َ ۰
    جب ۱۵ زحاف میں ترفیل کا کوئی ذکر نہیں ہے تو پھر یہ ‘‘ترفیل ‘‘ جس سے بحر کے ارکان
    پر اثر پڑتا ہے ؟
    اسی کتاب کے صفحۂ نمبر ۱۰ اور ۱۱ پر یہ پڑھیئے :
    ‘‘ اگر آپ سے ہم یہ کہیں کہ سب زحافوں کی مجموعی تعداد اڑتالیس (۴۸ ) ہے تو آپ میں
    سے ،،،،،، ( وغیرہ ) ۰
    مندرجہ‘ بالا سے یہ انکشاف ہورہا ہے کہ زحافوں کو ۱۵ تک محدود سمجھنا بھی ہمارے علم کا
    نقص ہے ۰
    صفحۂ نمبر ۵۳ پر عنوان ہے ‘‘ عروض اور ضرب کے لیئے مخصوص زحاف ‘‘۰ یہاں ۲۴ زحافوں
    کا ذکر ہے جن میں ‘‘ ترفیل ‘‘ بھی شامل ہے ۰
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
    اب ہم عربی میں عروض کی کتابوں پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں زحاف کے عِلاوہ ایک اور شئے
    بھی ہے جس کو ( علّت ) کہتے ہیں ( شاید اردو میں اس کو بھی زحاف میں شامل سمجھا گیا ہے)۰
    (علّت ) صرف عروض اور ضرب پر اثر انداز ہوتی ہے ۰ وہ علّتیں جو کسی رکن میں ایک یا ایک
    سے زیادہ حرف کا اضافہ کرتی ہیں وہ تین (۳ ) ہیں تذئیل، ترفیل ، اور تسبیغ ، ۰ وہ علّتیں
    جن کی وجہ سے رکن میں کمی کی جاتی ہے وہ دس (۱۰ ) ہیں : بتر ، تشعشث ، حذذ ، حذف ،
    صلم ، قصر ، قطع ، قطف ، کسف اور وقف ۰

    مزید تفصیلات کو چھوڑتے ہوے ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ‘‘ ترفیل ‘‘ سے رکن پر کیا
    اثر پڑتا ہے ۰ ایسی تفعیلہ جس کے آخر میں وتدِ مجموع ہوتا ہے ( جیسے ’’ عِلُن ‘‘) اس میں
    ‘‘ ترفیل ‘‘ کی علّت سببِ خفیف کا اِضافہ کرتی ہے جیسے متفاعلُن کو متفاعِلاتن بنادیتی ہے ۰
    متفاعلاتن بحرِ کامل مجزوء میں واقع ہوتی ہے ‘‘ ترفیل ‘‘ کے اثر سے ِ اس بنیاد پر اگر ہم ایک
    تفعیلہ کو ‘‘ متفاعلَتُن ‘‘ ثابت کرنا چاہیں تو ضروری ہوگا کہ کسی زحاف یا علّت کا نام لیں
    جس کی وجہ سے ایسا ہوا ہو ۰
    میں اس مقام پر عاجز آتے ہوے صرف مولوی عبدالحق کی کتاب کے صفحۂ نمبر ۲۵۳ پر مذکور
    مندرجۂ ذیل قول کی تصدیق اہلِ علم و فن سے چاہوں گا :
    ‘‘خلیل ( یعنی موجدِ علمِ عروض خلیل ابنِ احمد الفراھیدی ) کا خیال ہے کہ انہیں بحروں پر تمام
    عروض منحصر ہے ، لیکن یہ صحیح نہیں ہے ، بحروں میں بہت اضافہ ہوا اور ہوسکتا ہے ، افاعیلِ
    ہفتگانہ کے عِلاوہ ایک اور مشہور رکن مفاعِلَتُن ہے مگر مروّج نہیں ۰ ‘‘
    خلاصہ :
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
    جب کہ اس اِضافی وزن کو بحرِ متدارک مخبون محدوف مضاعف کہنا عروض کا ایک صحیح حل ہے
    تو پھر عروض کی کتابوں کے گیسوئے پیچاں کی مشّاطگی کرنے میں کیوں اپنا وقت برباد کریں ۰
    خدا عروضیوں کو نیک توفیق دے اور ہم کو صبر و حلم اور علم عطا فرمائے ۰


    آپ کا مخلص
    ناظرؔ

    ربط
    http://www.abdullahnazir.com/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
  20. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اللہ مرحوم کو راحت بخشیں۔ مگر ایک بات جو میں کم از کم کہے بنا نہیں رہ سکتا۔
    وہ یہ ہے کہ میں نے محترم کی کافی تحریریں عروض کے موضوع پر پڑھی ہیں۔ اور نتیجہ یہ اخذ کیا کہ موصوف مرحوم عروض کے چکر میں خود اتنا الجھے ہوئے تھے کہ اکثر باتوں کو سمجھ نہ پائے ہیں۔ بہت زیادہ تردد تھا طبیعت میں عروضی حوالے سے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر