بافقیہ

محفلین
لہو میں گھل گھل کے بہہ رہے تھے رگوں کے اندر
ہم اپنی مٹی میں کچھ روانی بچا رہے تھے

اسے خبر بھی نہیں ہم اس شب خاموش رہ کر
بچی ہوئی ہے جو اک کہانی بچا رہے تھے

پلومشرا

آپی جان! اگر خاموش کو ’’خموش‘‘ کردیں۔ تو کلام موزوں ہوگا۔ ظن غالب ہے کہ ٹائپنگ کی غلطی سے ہوا ہوگا۔
 

فرقان احمد

محفلین

فرقان احمد

محفلین
شہرِ جمال کے خس و خاشاک ہوگئے
اب آئے ہو جب آگ سے ہم خاک ہوگئے

اے ابرِ خاص، ہم پہ برسنے کا اب خیال
جل کر تِرے فراق میں جَب راکھ ہو گئے

پروین شاکر
 

رباب واسطی

محفلین
وہ آگئے ہیں بغض کا جذبہ لیئے ہوئے
ہم سے مصالحت کا ارادہ لیئے ہوئے
ہے سامنے فقیر کے شاہوں کا ایسا حال
ثروت کھڑی ہے ہاتھ میں کاسہ لیئے ہوئے
 

سحر کائنات

محفلین
قابلِ غور نہیں ہوسکتا
آپ سا اور نہیں ہو سکتا
فیصلہ دل یہ سنائے جب جب
مشورہ اور نہیں ہو سکتا
سبھی گرگٹ کی طرح ملتے ہیں
جو مرا طور نہیں ہو سکتا
کون سمجھا ہے جو میں سمجھوں گا
پھر وہی دور نہیں ہو سکتا
لاکھ وسعت ہے مرے دل میں مگر
دل یہ لاہور نہیں ہو سکتا
جو تعلق تھا مرا خود سے کبھی
پھر کسی طور نہیں ہو سکتا
ہے وفا میں یہ سہولت ابرک
غم نیا اور نہیں ہو سکتا
.............. اتباف ابرک
 
Top