یاز

محفلین
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
غلام مصطفیٰ تبسم
 
آخری تدوین:

زارا آریان

محفلین
صراحی خم کرے گردن اٹھیں تعظیم کو ساغر
افق مسجد میں سجدہ کر کے میخانہ میں آتا ہے

افق لکھنوی ( منشی دوارکا پرشاد )
لکھنؤ | ۱۸۶۴ – ۱۹۱۳
کتاب : ملک الشعراء منشی دوارکا پرشاد افق لکھنوی
 

فرقان احمد

محفلین
ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے
اُسی میں وقت کا ۔۔۔ سارا حِساب لکھا ہے!

کُچھ اورکام تو ہم سے نہ ہوسکا، لیکن
تمہارے ہجر کا اِک اِک عذاب لکھا ہے!

منظر بھوپالی
 
Top