کہیں نہیں ہے، کییں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ دست وناخن قاتل، نہ آستیں پہ نشاں
نہ سرخئ لب خنجر، نہ رنگ نوک سناں
نہ رزم گاہ میں میں برسا کہ معتبر ہوتا
کسی علم پہ رقم ہوکے مشتہر ہوتا
تڑپتا رہا بے آسرا یتیم لہو
کسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک یوا
فیض احمد فیض
 
کیا قدر ترے مصحف عارض کی کرے غیر
کافر نے کبھی آنکھ سے قرآن نہیں دیکھا

ابرو جو دکھایا ہے تو رخ کو بھی دکھا دو
میں نے مہ نو دیکھ کے قرآن نہیں دیکھا

سید ڈاکٹر اصغر حسین فاخرؔ
1851-1909لکھنؤ
✍دیوان فاخرؔ
 
Top