ظہیراحمد کی شاعری

  1. ظہیراحمدظہیر

    زندگی کے رنگوں سے بام و در سجانے میں

    زندگی کے رنگوں سے بام و در سجانے میں ایک عمر لگتی ہے گھر کو گھر بنانے میں بام و در کو حیثیت آدمی سے ملتی ہے خالی گھر نہیں ہوتے معتبر زمانے میں نفرتوں کے بدلے میں ہم کسی کو کیا دیں گے خرچ ہوگئے ہم تو چاہتیں کمانے میں پھول کھل اٹھے دل میں ، شبنمی ہوئیں آنکھیں ذکر آگیا کس کا ہجر کے فسانے...
  2. ظہیراحمدظہیر

    سر پہ رکھے گا مرے دستِ اماں کتنی دیر

    سر پہ رکھے گا مرے دستِ اماں کتنی دیر باد ِ بے درد میں تنکوں کا مکاں کتنی دیر پوچھتی ہیں مری اقدار مرے بچوں سے ساتھ رکھو گے ہمیں اور میاں کتنی دیر بجھ گئی آگ تمناؤں کی جلتے جلتے کچھ دھواں باقی ہے لیکن یہ دھواں کتنی دیر رزق برحق ہے مگر یہ کسے معلوم کہ اب رزق لکھا ہے مقدر میں کہاں کتنی دیر...
  3. ظہیراحمدظہیر

    تمام رنگ وہی ہیں ترے بگڑ کر بھی

    تمام رنگ وہی ہیں ترے بگڑ کر بھی اے میرے شہر تُو اجڑا نہیں اجڑ کر بھی ہیں آندھیاں ہی مقدر تو پھر دعا مانگو شجر زمین پر اپنی رہیں اُکھڑ کر بھی ہم ایسی خاک ہیں اس شہر ِزرگری میں جسے بدل نہ پائے گا پارس کوئی رگڑ کر بھی ملا ہے اب تو مسلسل ہی روئے جاتا ہے وہ ایک شخص جو ہنستا رہا بچھڑ کر بھی عجب...
  4. ظہیراحمدظہیر

    تری نظر نے مرے قلب و جاں کے موسم میں

    تری نظر نے مرے قلب و جاں کے موسم میں یقیں کے رنگ بھرے ہیں گماں کے موسم میں زکوٰۃِ درد ہے واجب متاعِ الفت پر حسابِ غم کرو سود وزیاں کے موسم میں نہ اب تلاشِ بہاراں ، نہ ڈر خزاؤں کا ٹھہر گیا ہے چمن درمیاں کے موسم میں وہ انتظار کا موسم بہت غنیمت تھا بڑھی ہے تشنگی ابرِ رواں کے موسم میں حلیف...
  5. ظہیراحمدظہیر

    بے نسب درہم و دینار کا ورثہ کیسا

    بے نسب درہم و دینار کا ورثہ کیسا ہم نہ اپنائیں جو میراث تو حصہ کیسا نام کی تختی لگانے سے نہ ہوگا ثابت تم جو گھر پر نہیں موجود تو قبضہ کیسا دوستی آگ سے کاغذ کی جلادےگی شہر پھول رکھئے کف قرطاس پہ شعلہ کیسا میں فقط میں ہوں مجھے نسبتِ الفاظ سے جان مسلکِ لوح و قلم میں کوئی فرقہ کیسا دو دو...
  6. ظہیراحمدظہیر

    اس خاک سےجو ربطِ وفا کاٹ رہے ہیں

    اس خاک سےجو ربطِ وفا کاٹ رہے ہیں پرواز کی خواہش میں سزا کاٹ رہے ہیں اس روزِخوش آثار کی سچائی تو یہ ہے اک رات سر ِدشتِ بلا کاٹ رہے ہیں حبس اتنا ہے سینے میں کہ لگتا ہے مسلسل ہم سانس کے آرے سے ہوا کاٹ رہے ہیں بیکار کہاں بیٹھے ہیں مصروف ہیں ہم لوگ ہم اپنی صداؤں کا گلا کاٹ رہے ہیں خیاطِ...
  7. ظہیراحمدظہیر

    زنجیر کس کی ہےکہ قدم شاد ہوگئے

    زنجیر کس کی ہےکہ قدم شاد ہوگئے بیڑی پہن کے لگتا ہے آزاد ہوگئے جتنے بھی حرفِ سادہ ہوئے اُس سے منتسب ہم رنگِ نقش ِ مانئ و بہزاد ہوگئے سنگِ سخن میں جوئے معانی کی جستجو ! گویا قلم بھی تیشئہ فرہاد ہوگئے زندہ رہے اصولِ ضرورت کے ماتحت جب چاہا زندگی نے ہم ایجاد ہوگئے خود بیتی لگتی ہے...
  8. ظہیراحمدظہیر

    تمھاری گلیوں میں پھر رہے تھے اسیرِ ِ درد و خراب ِ ہجراں

    تمھاری گلیوں میں پھر رہے تھے اسیرِ ِ درد و خراب ِ ہجراں ملی اجازت تو آگئے پھر حضورِ عشق و جناب ِ ہجراں وہ ملنے جلنے کی ساری رسمیں دراصل فرقت کے سلسلے تھے گئے دنوں کی رفاقتوں میں چھپا ہوا تھا سراب ِ ہجراں مٹے نہیں ہیں حروفِ ظلمت ، ابھی گریزاں ہے صبح ِ برات ابھی پڑھیں گے کچھ اور بھی ہم...
  9. ظہیراحمدظہیر

    نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو

    نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ ہمسفر ہے تو سفالِ کوزہء جاں ! دستِ مہر و الفت پر تجھے گدائی میں رکھوں تو معتبر ہے تو علاجِ زخمِ تمنا نے مجھ کو ماردیا کسی کو کیسے بتاؤں کہ چارہ گر ہے تو چراغِ بامِ تماشہ کو بس بجھادے اب میں جس مقام پہ بیٹھا ہوں باخبر ہے تو یہ کس...
  10. ظہیراحمدظہیر

    کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں

    کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں شکوہ کریں کہ شرحءحالات ہم کریں کچھ دیر کو سہی ، پہ ملے درد سے نجات کچھ دیر کو تو دل کی مدارات ہم کریں مانا کہ اُن کی بزم میں ہے اذنِ گفتگو اتنا بھی اب نہیں کہ سوالات ہم کریں جب تک ہیں درمیان روایات اور اصول دشمن سے کیسے ختم تضادات ہم کریں وقتِ عمل ہے دوستو ...
  11. ظہیراحمدظہیر

    سب کاروبار ِ نقد و نظر چھوڑنا پڑا

    سب کاروبار ِ نقد و نظر چھوڑنا پڑا بکِنے لگے قلم تو ہُنر چھوڑنا پڑا قربانی مانگتی تھی ہر اک شاخ ِ بے ثمر بسنے نہ پائے تھے کہ شجر چھوڑنا پڑا کرنا تھا جو سفر ہمیں ہم نے نہیں کیا بچوں کو آج اس لئے گھر چھوڑنا پڑا آ تو گئے ہو ، سوچ لو جاؤ گے پھر کہاں یہ شہر ِ بد لحاظ اگر چھوڑنا...
  12. ظہیراحمدظہیر

    ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں

    ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں دل کہ مٹی کا گھروندا تھا گرا بارش میں شادیء مرگ کو کافی تھا بس اک قطرۂ آب شہر ِتشنہ تو اجڑ سا ہی گیا بارش میں روشنی دل میں مرے ٹوٹ کے رونے سے ہوئی اک دیا مجھ میں عجب تھا کہ جلا بارش میں لاج رکھ لی مرے پندار کی اک بادل نے میرے آنسو نہ کوئی دیکھ سکا بارش...
  13. ظہیراحمدظہیر

    خیالِ خاطر ِاحباب ہمسفر رکھنا

    خیالِ خاطر ِاحباب ہمسفر رکھنا سفر کہیں کا ہو آغاز پر نظر رکھنا شعاع ِ نور ِ محبت کو رکھنا قبلہ نما جہاں یہ دل کرے سجدہ وہیں پہ سر رکھنا تمام روپ محبت کے خوبصورت ہیں کوئی بھی رشتہ کسی سے ہو معتبر رکھنا چراغ بن نہیں سکتے تو بن کے تم فانوس کسی چراغ کو موسم سے بے خطر رکھنا قلم کو رکھنا...
  14. ظہیراحمدظہیر

    لہروں پہ سفینہ جو مرا ڈول رہا ہے

    لہروں پہ سفینہ جو مرا ڈول رہا ہے شاید مری ہمت کو بھنور تول رہا ہے شیریں ہے تری یاد مگر ہجر لہو میں شوریدہ ہواؤں کا نمک گھول رہا ہے پتوار بنا کرمجھے طوفانِ حوادث قامت مری پرچم کی طرح کھول رہا ہے ساحل کی صدا ہے کہ سمندر کا بلاوا گہرائی میں سیپی کی کوئی بول رہا ہے یہ وقت مجھے موتی بنائے...
  15. ظہیراحمدظہیر

    ہم کو حصارِ حلقہء احباب چھوڑکر

    ہم کو حصارِ حلقہء احباب چھوڑکر صحرا ملا ہے گلشن ِ شاداب چھوڑ کر ملتی نہیں کہیں بھی سوائے خیال کے اٹھے ہیں ایسی صحبتِ نایاب چھوڑ کر سب کچھ بہا کے لے گئی اک موجِ اشتعال دریا اتر گیا ہمیں غرقاب چھوڑ کر اوج ِ فلک سے گرگیا تحت الثریٰ میں عشق طوفِ حریمِ ناز کے آداب چھوڑ کر مسجد کی پاسبانی پر...
  16. ظہیراحمدظہیر

    کب تلک بھیڑ میں اوروں کے سہارے چلئے

    کب تلک بھیڑ میں اوروں کے سہارے چلئے لوگ رستے میں ہوں اتنے تو کنارے چلئے اب تو مجبور یا مختار گزارے چلئے قرض جتنے ہیں محبت کے اتارے چلئے جس نے بخشی ہے مسافت وہی منزل دیگا ہوکے راضی برضا اُس کے اشارے چلئے اُن کے لائق نہیں کچھ اشکِ محبت کے سوا بھر کے دامن میں یہی چاند ستارے چلئے معتبر ہوتی...
  17. ظہیراحمدظہیر

    لب پہ شکوہ بھی نہیں ، آنکھ میں آنسو بھی نہیں

    لب پہ شکوہ بھی نہیں ، آنکھ میں آنسو بھی نہیں مجھ سے دل کھول کے لگتا ہے مِلا تو بھی نہیں اُن کی آنکھوں کے ستارے توبہت دور کی بات ہم وہاں ہیں کہ جہاں یاد کے جگنو بھی نہیں جب سے گردن میں نہیں ہے کوئی بانہوں کی کمان میرے سینے میں کوئی تیر تراز و بھی نہیں یا تو ماضی کی مہک ہے...
  18. ظہیراحمدظہیر

    سنگِ ستم سے کوئی بھی شیشہ نہیں بچا

    سنگِ ستم سے کوئی بھی شیشہ نہیں بچا محفوظ وہ رہا جو دریچہ نہیں بچا بازیگرانِ شہر ِسیاست ہوئے خموش اب دیکھنے کو کوئی تماشہ نہیں بچا کیسی چڑھی ہے دھوپ سرِ شہر ِ بد لحاظ برگد ہرے بھرے ہوئے سایا نہیں بچا پھیلاؤ کی ہوس بھرے دریا کو پی گئی پانی چڑھا تو کوئی کنارہ نہیں بچا بجھنے لگے چراغ مرے جسم...
  19. ظہیراحمدظہیر

    بجھتے بجھتے بھی اندھیروں میں کرن چھوڑ گیا

    بجھتے بجھتے بھی اندھیروں میں کرن چھوڑ گیا وہ مرا شوخ ستارہ جو گگن چھوڑ گیا خواب تو خواب مجھے نیند سے ڈر لگتا ہے جانے والا مری پلکوں پہ شکن چھوڑ گیا اُس نے بھی چھوڑدیا مجھ کو زمانے کیلئے جس کی خاطر میں زمانے کے جتن چھوڑ گیا کسی زیور کی طرح اُس نے نکھارا مجھ کو پھر کسی اور کی جھولی میں یہ...
  20. ظہیراحمدظہیر

    طوفان میں جزیرہ ملا ہے ، زمیں ملی

    طوفان میں جزیرہ ملا ہے ، زمیں ملی پانی کی قید سے تو رہائی نہیں ملی ابر ِ رواں کے پیچھے چلے آئے ہم کہاں بارش ہوئی تو مٹی کی خوشبو نہیں ملی دوزخ سمجھ کے چھوڑی جو تپتی ہوئی زمین چھالے پڑے تو پاؤں کو ٹھنڈک وہیں ملی جھوٹی انا کا تخت ، زر ِ مصلحت کا تاج جب کھو دیئے تو دولتِ...
Top