طارق شاہ

  1. طارق شاہ

    احمد ندیم قاسمی :::::: کُفر نے رات کا ماحول بنا رکھّا ہے :::::: Ahmad Nadeem Qasmi

    "نعت" کُفر نے رات کا ماحول بنا رکھّا ہے میرے سینے میں محؐمد کا دِیا رکھّا ہے وؐہ جو مِل جائے، تو بے شک مجھے جنّت نہ مِلے عِشق کو اَجر کے لالچ سے بچا رکھّا ہے خواب میں وہؐ نظر آئے تو پھر آنکھیں نہ کُھلیں میں نے مُدّت سے یہ منصُوبہ بنا رکھّا ہے کوئی گُمراہ ہو، دَرماندہ ہو یا مُفلس ہو اُس نے...
  2. طارق شاہ

    ذوق شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ ::::::اُس نے مارا رُخِ روشن کی دِکھا تاب مجھے ::::: Mohammad Ibraheem Zauq

    غزل محمد ابراہیم ذوقؔ اُس نے مارا رُخِ روشن کی دِکھا تاب مجھے چاہیے بہرِ کفن چادرِ مہتاب مجھے کچھ نہیں چاہیے تجہیز کا اسباب مجھے عِشق نے کُشتہ کِیا صُورتِ سِیماب مجھے کل جہاں سے کہ اُٹھا لائے تھے احباب مجھے لے چلا آج وہیں پِھر دِلِ بے تاب مجھے چمنِ دہر میں جُوں سبزۂ شمشِیر ہُوں مَیں آب کی...
  3. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::: شیوۂ یار ہے اب دِل کو ستائے رکھنا ::::::Shafiq Khalish

    غزل شیوۂ یار ہے اب دِل کو ستائے رکھنا چاند چہرہ مِری نظروں سے چھپائے رکھنا اُس کی تصوِیر کو سینے سے لگائے رکھنا غمزدہ دِل کو کسی طور لُبھائے رکھنا چاندنی راتوں میں یاد آئے ضرُور اب اُن کا اِک قیامت سی، سرِ بام اُٹھائے رکھنا ولوَلے ہیں، نہ کِرن ہی کوئی اُمّید کی ہے ! اِس بُجھے دِل میں...
  4. طارق شاہ

    بیدؔل حیدری ::::::مِری داستانِ اَلم تو سُن ،کوئی زِلزِلہ نہیں آئے گا::::: Bedil Haidri

    غزل مِری داستانِ اَلم تو سُن ،کوئی زِلزِلہ نہیں آئے گا مِرا مُدّعا نہیں آئے گا،تِرا تذکرہ نہیں آئے گا کئی گھاٹیوں پہ مُحیط ہے،مِری زِندگی کی یہ رہگُزر تِری واپسی بھی ہُوئی اگر،تجھے راستہ نہیں آئے گا اگر آئے دشت میں جِھیل تو،مجھے احتیاط سے پھینکنا کہ میں برگِ خُشک ہُوں دوستو ! مجھے تیرنا...
  5. طارق شاہ

    منوّر رانا :::::: مٹّی میں مِلا دے، کہ جُدا ہو نہیں سکتا:::::: Munawwar Rana

    غزل مٹّی میں مِلا دے، کہ جُدا ہو نہیں سکتا اب اِس سے زیادہ ،مَیں تِرا ہو نہیں سکتا دہلیز پہ رکھ دی ہیں کسی شخص نے آنکھیں روشن کبھی اِتنا تو دِیا ہو نہیں سکتا بس تو مِری آواز میں آواز مِلا دے ! پھر دیکھ کہ اِس شہر میں کیا ہو نہیں سکتا اے موت ! مجھے تُونے مُصِیبت سے نِکالا صیّاد سمجھتا تھا...
  6. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::: عِشق کی دُھول میں جو اَٹ جائے ::::::Shafiq Khalish

    عِشق کی دُھول میں جو اَٹ جائے دو جہاں میں وہ جیسے بٹ جائے ہو زباں کو بس ایک نام کا وِرد یوں کسی کو نہ کوئی رٹ جا ئے رات کب عافیت سے ٹلتی ہے مُضطرب دِن جو ہم سے کٹ جائے خوش خیالی کہَیں وہ ساتھ اپنا ابرِ اُمِّید اب تو چَھٹ جائے پائی مُدّت سے ہےنہ خیر و خبر ذہنِ مرکوُز کُچھ تو بٹ جائے تب...
  7. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::: ہستی کو تیرے پیار نے بادل بنادِیا ::::::Shafiq Khalish

    ہستی کو تیرے پیار نے بادل بنادِیا نظروں میں لیکن اوروں کی پاگل بنادِیا اعزاز یہ ازل سے ہے تفوِیضِ وقت کہ ہر یومِ نَو کو گُذرا ہُوا کل بنادِیا اب تشنگی کا یُوں مجھے احساس تک نہ ہو دِل ہی تمھاری چاہ کا چھاگل بنادِیا جا حُسنِ پُرشباب پہ ٹھہرے وہیں نِگاہ ! نظروں کو شوقِ دِید نے ،آنچل بنادِیا...
  8. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::: اب کی چلی وطن میں ہَوا کِس طرف کی ہے ::::::Shafiq Khalish

    اب کی چلی وطن میں ہَوا کِس طرف کی ہے پھیلی نویدِ صُبحِ جزا کِس طرف کی ہے ہو احتساب اگر تو بِلا امتیاز ہو! مغرب کی گر نہیں تو وَبا کِس طرف کی ہے محفِل عدُو کے گھر سی ہے غُربت کدہ پہ بھی ! نیّت ، اے جانِ بزم! بتا کِس طرف کی ہے احساس و عقل سے جو تِری بالا تر ہے تو "مٹّی اُڑا کے دیکھ ہَوا کِس...
  9. طارق شاہ

    شاذ تمکنت شاؔذ تمکنت :::::: وہ پستیاں کہ ہمالہ تِری دُہائی ہے :::::: Shaz Tamkanat

    کُہرام وہ پستیاں کہ ہمالہ تِری دُہائی ہے تمام دیوتا خاموش، سر جُھکائے ہُوئے ہزار راکھشسوں کی ہنسی کا ہے کُہرام ہزار ناگ نِکل آئے ، پَھن اُٹھائے ہُوئے شاؔذ تمکنت 1985- 1933 حیدرآباد دکن، انڈیا
  10. طارق شاہ

    صبا اکبر آبادی صبؔا اکبر آبادی :::::: کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم:::::: Saba Akbarabadi

    غزل کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم اُلجھے ہُوئے ہیں آج بھی دُنیا و دِیں سے ہم یُوں بیٹھتے ہیں بزم میں خلوت گزِیں سے ہم لے جائیں اپنے اشک بھی چُن کر زمِیں سے ہم ہر روز اُن کے نام کے سَو پُھول کِھلتے ہیں چُن کر قَفس میں لائے ہیں کلیاں کہیں سے ہم جب تک تمھارے قدموں کی آہٹ نہیں سُنیں...
  11. طارق شاہ

    پروین شاکر :::::: دُنیا کو تو حالات سے اُمّید بڑی تھی :::::: Parveen Shakir

    غزل دُنیا کو تو حالات سے اُمّید بڑی تھی پر چاہنے والوں کو جُدائی کی پڑی تھی کِس جانِ گُلِستاں سے یہ ملِنے کی گھڑی تھی خوشبوُ میں نہائی ہُوئی اِک شام کھڑی تھی میں اُس سے ملی تھی کہ خُود اپنے سے مِلی تھی وہ جیسے مِری ذات کی گُم گشتہ کڑی تھی یُوں دیکھنا اُس کو کہ کوئی اور نہ دیکھے ! انعام تو...
  12. طارق شاہ

    راجیندر منچندا ،بانؔی :::::: اِک گُلِ تر بھی شَرر سے نِکلا :::::: Rajinder Manchanda, Bani

    غزل اِک گُلِ تر بھی شَرر سے نِکلا بسکہ ہر کام ہُنر سے نِکلا میں تِرے بعد پھر اے گُم شدگی خیمۂ گردِ سفر سے نکِلا غم نِکلتا نہ کبھی سینے سے ! اِک محّبت کی نظر سے نِکلا اے صفِ ابرِ رَواں! تیرے بعد اِک گھنا سایہ شجر سے نِکلا راستے میں کوئی دِیوار بھی تھی وہ اِسی ڈر سے، نہ گھر سے نِکلا...
  13. طارق شاہ

    ناصر کاظمی :::::: رقم کریں گے تِرا نام اِنتسابوں میں :::::: Nasir Kazmi

    غزل رقم کریں گے تِرا نام اِنتسابوں میں کہ اِنتخابِ سُخن ہے یہ اِنتخابوں میں مِری بَھری ہُوئی آنکھوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ کہ آسمان مُقیّد ہیں، اِن حبابوں میں ہر آن دِل سے اُلجھتے ہیں دو جہان کے غم گِھرا ہے ایک کبُوتر کئی عقابوں میں ذرا سُنو تو سہی کان دھر کے نالۂ دِل یہ داستاں نہ ملے گی...
  14. طارق شاہ

    محسن زیدی ::::::کوئی پیکر ہے، نہ خوشبو ہے، نہ آواز ہے وہ :::::: Mohsin Zaidi

    غزل کوئی پیکر ہے، نہ خوشبُو ہے، نہ آواز ہے وہ ہاتھ لگتا ہی نہیں، ایسا کوئی راز ہے وہ ایک صُورت ہے جو مِٹتی ہے، بَنا کرتی ہے کبھی انجام ہے میرا ،کبھی آغاز ہے وہ اُس کو دُنیا سے مِری طرح ضَرر کیوں پُہنچے میں زمانے کا مُخالِف ہُوں، جہاں ساز ہے وہ لوگ اُس کے ہی اِشاروں پہ اُڑے پِھرتے ہیں بال...
  15. طارق شاہ

    ڈاکٹر حنیف فوقؔ :::::: آہ و فریاد سے معمُور چمن ہے ،کہ جو تھا :::::: Dr. Hanif Fauq

    غزل آہ و فریاد سے معمُور چمن ہے ،کہ جو تھا مائلِ جَور ، وہی چرخ ِکُہن ہے، کہ جو تھا حُسن پابندیٔ آدابِ جَفا پر مجبُور عِشق ، آوارہ سَر ِکوہ و دَمن ہے،کہ جو تھا لاکھ بدلا سہی منصوُر کا آئینِ حیات ! آج بھی سِلسِلۂ دار و رَسن ہے، کہ جو تھا ڈر کے چونک اُٹھتی ہیں خوابوں سے نَویلی کلیاں خندۂ گُل...
  16. طارق شاہ

    فراق فراق گورکھپوری :::::: یہ قول تِرا، یاد ہے اے ساقئ دَوراں :::::: Firaq Gorakhpuri

    غزل یہ قول تِرا، یاد ہے اے ساقئ دَوراں ! انگوُر کے اِک بِیج میں سو میکدے پنہاں انگڑائیاں صُبحوں کی سَرِ عارضِ تاباں وہ کروَٹیں شاموں کی سرِ کاکُلِ پیچاں اِن پُتلیوں میں جیسے ہرن مائلِ رَم ہوں وحشت بھری آنکھیں ہیں کہ اِک دشتِ غزالاں ہے دار و مدار اہلِ زمانہ کا تجھی پر تُو قطبِ جہاں، کعبہ...
  17. طارق شاہ

    بشیر بدر ::::::ہر بات میں مہکے ہُوئے جذبات کی خوشبو:::::: Dr. Bashir Badr

    غزل ہر بات میں مہکے ہُوئے جذبات کی خوشبوُ یاد آئی بہت، پہلی مُلاقات کی خوشبوُ چُھپ چُھپ کے نئی صُبح کا مُنہ چُوم رہی ہے اُن ریشمی زُلفوں میں بَسی، رات کی خوشبوُ موسم بھی ، حَسِینوں کی ادا سِیکھ گئے ہیں بادل ہیں چھپائے ہُوئے برسات کی خوشبوُ گھر کتنے ہی چھوٹے ہوں ، گھنے پیڑ ملیں گے ! شہروں سے...
  18. طارق شاہ

    بشیر بدر ::::::جگنو کوئی سِتاروں کی محِفل میں کھو گیا :::::: Dr. Bashir Badr

    غزل جگنو کوئی سِتاروں کی محِفل میں کھو گیا اِتنا نہ کر ملال ، جو ہونا تھا، ہوگیا پروَردِگار جانتا ہے تُو دِلوں کا حال مَیں جی نہ پاؤں گا، جو اُسے کُچھ بھی ہوگیا اب اُس کو دیکھ کر، نہیں دھڑکے گا میرا دِل کہنا کہ، مجھ کو یہ بھی سبق یاد ہو گیا بادل اُٹھا تھا سب کو رُلانے کے واسطے آنچل...
  19. طارق شاہ

    مخدُوم مُحی الدِّین :::::یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لیِے :::::: Makhdoom Mohiuddin

    غزل یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لیِے جلو میں چاندنی راتوں کا اہتمام لیِے چٹک رہی ہے کسی یاد کی کلی دِل میں نظر میں رقصِ بہاراں کی صُبح و شام لیِے ہجومِ بادۂ و گُل میں ہجُومِ یاراں میں کسی نِگاہ نے جُھک کر مِرے سلام لیِے مہک مہک کے جگاتی رہی نسیمِ سَحر لبوں پہ یارِ مسیحا نفس کا نام لیِے...
  20. طارق شاہ

    حسرت موہانی :::::: اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کرکے :::::: Hasrat Mohani

    غزل اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ، غفلت کرکے آزمایا جو اُنھیں ، ضبطِ محبّت کرکے دِل نے چھوڑا ہے، نہ چھوڑے تِرے مِلنے کا خیال بارہا دیکھ لِیا ، ہم نے ملامت کرکے دیکھنے آئے تھے وہ، اپنی محبّت کا اثر کہنے کو یہ کہ، آئے ہیں عیادت کرنے پستیِ حوصلۂ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہیے غَمِ ہجراں پہ قناعت...
Top