محسن نقوی :::::: بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے :::::: Mohsin Naqvi

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 8, 2018

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,642
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm


    [​IMG]
    غزل
    بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
    یہ دِل، کہانی کوئی سُنائے تو نیند آئے

    بُجھی بُجھی رات کی ہتھیلی پہ مُسکرا کر!
    چراغِ وعدہ، کوئی جلائے تو نیند آئے

    ہَوا کی خواہش پہ کون آنکھیں اُجاڑتا ہے
    دِیے کی لَو خود سے تھر تھرائے تو نیند آئے

    تمام شب جاگتی خموشی نے اُس کو سوچا!
    وہ زیرِ لب گیت کوئی گنگنائے تو نیند آئے

    بَس ایک آنسو بہت ہے مُحسنؔ کے جاگنے کو
    یہ اِک سِتارہ، کوئی بُجھائے تو نیند آئے

    مُحسؔن نقوی

     
    آخری تدوین: ‏مارچ 8, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. شکیل جان

    شکیل جان محفلین

    مراسلے:
    3
    بہت عمدہ انتخاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر