محسن نقوی

  1. سیما علی

    محسن نقوی اے شہرِ علم و عالمِ اسرارِ خشک و تر

    اے شہرِ علم و عالمِ اسرارِ خشک و تر تو بادشاہِ دیں ہے تو سلطانِ بحر و بر ادراک و آگہی کی ضمانت ترا کرم ایقان و اعتقاد کا حاصل تری نظر تیرے حروف نطقِ الٰہی کا معجزہ تیری حدیث سچ سے زیادہ ہے معتبر قرآں تری کتاب، شریعت ترا لباس تیری زرہ نماز ہے، روزہ تری سپر یہ کہکشاں ہے تیرے محلے کا راستہ...
  2. سیما علی

    محسن نقوی قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

    قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ...
  3. سید رافع

    محسن نقوی بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا

    بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا جو لوگ چاہیں تو پھر تمہیں یاد بھی نہ آئیں کبھی کبھی تم مجھے بھی ان میں شمار کرنا کسی کو الزام بے وفائی کبھی نہ دینا مری طرح اپنے آپ کو...
  4. سیما علی

    15 جنوری یومِ شہادت شہید محسن نقوی

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا ابھی تو سوئے تھے ہم مقتل کو سرخرو کر کے آج اردو کے عظیم شاعر محسن نقوی کا یوم شہادت ھے محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے...
  5. سیما علی

    محسن نقوی مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں

    مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو کچھ سوالی بہت خودار ہوا کرتے ہیں وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں ان کے سینے میں بھی شاہکار ہوا کرتے ہیں...
  6. سیما علی

    محسن نقوی کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو

    کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو کہا تھا کِس نے، کہ مسکراؤ! اُداس لوگو گُزر رہی ہیں گلی سے، پھر ماتمی ہوائیں کِواڑ کھولو ، دئیے بُجھاؤ! اُداس لوگو جو رات مقتل میں بال کھولے اُتر رہی تھی وہ رات کیسی رہی ، سناؤ! اُداس لوگو کہاں تلک، بام و در چراغاں کیے رکھو گے بِچھڑنے والوں کو، بھول جاؤ...
  7. سیما علی

    محسن نقوی راحتِ دل، متاعِ جاں ہے تُو

    راحتِ دل، متاعِ جاں ہے تُو اے غمِ دوست جاوداں ہے تُو آنسوؤں پر بھی تیرا سایا ہے دھوپ کے سر پہ سائباں ہے تُو دل تری دسترس میں کیوں نہ رہے اس زمیں پر تو آسماں ہے تُو شامِ شہرِ اُداس کے والی اے مِرے مہرباں کہاں ہے تُو؟ سایہء ابرِ رائیگاں ہوں میں موجہء بحرِ بیکراں ہے تُو میں تہی دست و گرد...
  8. سیما علی

    محسن نقوی دِیا خود سے بُجھا دینا

    دِیا خود سے بُجھا دینا ہوا کو اور کیا دینا ستارے نوچنے والو! فلک کو آسرا دینا کبھی اس طور سے ہنسنا کہ دنیا کو رُلا دینا! کبھی اس رنگ سے رونا! کہ خود پر مسکرا دینا میں تیری دسترس چاہوں مجھے ایسی دُعا دینا میں تیرا بَرملا مجرم! مجھے کھل کر سزا دینا میں تیرا منفرد ساتھی! مجھے ہٹ کر جزا دینا...
  9. سیما علی

    محسن نقوی سفر تنہا نہیں کرتے!

    سفر تنہا نہیں کرتے! سُنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو! اُسے میلا نہیں کرتے تری آنکھیں اِجازت دیں تو ہم کیا کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اُسے رُسوا نہیں کرتے چلو، تم راز ہو اپنا ۔۔۔! تمہیں اِفشا...
  10. سیما علی

    محسن نقوی پھیلے گی بہر طور شفق نیلی تہوں میں

    پھیلے گی بہر طور شفق نیلی تہوں میں قطرے کا لہو بھی ہے سمندر کی رگوں میں مقتل کی زمیں صاف تھی آئینہ کی صورت عکسِ رخِ قاتل تھا ہر اک قطرہءِ خوں میں مت پوچھ مری چشمِ تحیر سے کہ مجھ کو کیا لوگ نظر آئے ہیں دشمن کی صفوں میں کچھ وہ بھی کم آمیز تھا، تنہا تھا، حسیں تھا کچھ میں بھی مخل ہو نہ سکا اس کے...
  11. سیما علی

    محسن نقوی اب کے یوں بھی تیری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے

    اب کے یوں بھی تیری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے رنگ پھوٹے، کہیں‌ خوشبو کی رسن ٹوٹی ہے موت آئی ہے کہ تسکین کی ساعت آئی سانس ٹوٹی ہے کہ صدیوں کی تھکن ٹوٹی ہے دل شکستہ تو کئی بار ہوئے تھے لیکن اب کے یوں ہے کہ ہر شاخِ بدن ٹوٹی ہے ایک شعلہ کہ تہہِ خیمہءِ جاں لپکا تھا ایک بجلی کہ سرِ صحنِ چمن ٹوٹی ہے میرے...
  12. سیما علی

    محسن نقوی موجِ خُوشبو کی طرح بات اُڑانے والے

    موجِ خُوشبو کی طرح بات اُڑانے والے تُجھ میں پہلے تو نہ تھے رَنگ زمانے والے کِتنے ہیرے میری آنکھوں سے چُرائے تُو نے چند پتّھر مِری جھولی میں گِرانے والے خُوں بہا اَگلی بہاروں کا تِرے سَر تو نہیں؟ خُشک ٹہنی پہ نیا پُھول کِھلانے والے آ تُجھے نذر کروں اپنی ہی شہ رگ کا لہُو میرے دُشمن، میری توقیر...
  13. سیما علی

    محسن نقوی فراقِ یار کی بارش، ملال کا موسم

    فراقِ یار کی بارش، ملال کا موسم ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم وہ اک دعا میری ، جو نامراد لوٹ آئی زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم بہت دنوں سے میرے نیم وا دریچوں میں ٹھہر گیا ھے....... تمہارے خیال کا موسم جو بے یقیں ھو بہاریں اجڑ بھی سکتی ھیں تو آ کے دیکھ لے........ میرے زوال کا موسم...
  14. سیما علی

    محسن نقوی معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

    معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا...
  15. محمد تابش صدیقی

    محسن نقوی غزل: دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب

    دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب خوفِ شب خوں سے شب کو خواب، عذاب اور کیا ہے متاعِ تشنہ لبی؟ دھوپ، صحرا، تھکن، سراب، عذاب کس کو چاہیں، کسے بھلا ڈالیں؟ دوستی میں ہے انتخاب، عذاب حسرتِ دید کی جزا، ہجرت! خواہشِ وصل کا ثواب، عذاب لمحہ بھر کی محبتوں کے لیے زندگی بھر کا اضطراب، عذاب شکریہ، اے خیالِ...
  16. محمد تابش صدیقی

    محسن نقوی غزل: سایۂ گل سے بہر طور جدا ہو جانا

    سایۂ گل سے بہر طور جدا ہو جانا راس آیا نہ مجھے موجِ صبا ہو جانا اپنا ہی جسم مجھے تیشۂ فرہاد لگا میں نے چاہا تھا پہاڑوں کی صدا ہو جانا موسمِ گل کے تقاضوں سے بغاوت ٹھہرا قفسِ غنچہ سے خوشبو کا رہا ہو جانا قصرِ آواز میں اک حشر جگا دیتا ہے اس حسیں شخص کا تصویر نما ہو جانا راہ کی گرد سہی، مائلِ...
  17. محمد تابش صدیقی

    محسن نقوی غزل: نئی طرح سے نبھانے کی دل نے ٹھانی ہے

    نئی طرح سے نبھانے کی دل نے ٹھانی ہے وگرنہ اس سے محبت بہت پرانی ہے خدا وہ دن نہ دکھائے کہ میں کسی سے سنوں کہ تو نے بھی غمِ دنیا سے ہار مانی ہے زمیں پہ رہ کے ستارے شکار کرتے ہیں مزاج اہلِ محبت کا آسمانی ہے ہمیں عزیز ہو کیونکر نہ شامِ غم کہ یہی بچھڑنے والے، تری آخری نشانی ہے اتر پڑے ہو تو...
  18. طارق شاہ

    محسن نقوی :::::: بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے :::::: Mohsin Naqvi

    غزل بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے یہ دِل، کہانی کوئی سُنائے تو نیند آئے بُجھی بُجھی رات کی ہتھیلی پہ مُسکرا کر! چراغِ وعدہ، کوئی جلائے تو نیند آئے ہَوا کی خواہش پہ کون آنکھیں اُجاڑتا ہے دِیے کی لَو خود سے تھر تھرائے تو نیند آئے تمام شب جاگتی خموشی نے اُس کو سوچا! وہ زیرِ لب گیت...
  19. محمد تابش صدیقی

    محسن نقوی غزل: طلوعِ صبحِ درخشاں، فروغِ حسنِ بہار

    طلوعِ صبحِ درخشاں، فروغِ حسنِ بہار ترے لبوں کا تبسم، تری نظر کا خمار نہ تیرے درد کی آہٹ، نہ میرے وہم کا شور بہت دنوں سے ہے ویراں غزل کی راہ گزار مزاجِ وقت کی تالیف عین ممکن ہے گراں نہ گزرے تو ان کاکلوں کو اور سنوار خوشی سے چھین لے میری متاعِ فکر مگر مرے بدن سے یہ ملبوسِ عافیت نہ اتار خود...
  20. محمد تابش صدیقی

    محسن نقوی غزل: دل جلا کر بھی دلربا نکلے

    دل جلا کر بھی دلربا نکلے میرے احباب کیا سے کیا نکلے آپ کی جستجو میں دیوانے چاند کی رہگزر پہ جا نکلے سوزِ مستی ہی جب نہیں باقی سازِ ہستی سے کیا صدا نکلے دیکھیے کارواں کی خوش بختی چند رہزن بھی رہنما نکلے یوں تو پتھر ہزار تھے لیکن چند گوہر ہی بے بہا نکلے دل بھی گستاخ ہو چلا تھا بہت شکر ہے...
Top