سید رافع

کوائف نامے کے مراسلے حالیہ سرگرمی مراسلے تعارف

  • جمع ضدین ایک علم ہے۔ یہ صبر کی شاخ ہے۔ اللہ ہادی اور مضل بیک وقت ہے۔ اسی کے بین بین الحکیم ہے۔ العزیز ہے۔
    افسوس محفل ویکی پیڈیا یا گٹ ہب کی طرح ادراہ نہیں بن پائے گا۔ دعا ہے کہ ان اداروں سے ٹرینگ لینا نصیب ہو۔
    علی وقار
    علی وقار
    ویسے کوئی پابندی تو ہے نہیں، جس کا جی چاہے، الگ فورم بنائے، اسی فورم پر تعمیری گفتگو کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے حصے کا کام خود بھی کر رہے ہیں؟
    سید رافع
    سید رافع
    علی وقار یہ سوچ غلط ہے کہ ہر ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے۔ اسطرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تقسیم ہوتا ہے خاندان۔ جوڑنے کے لیے اٹھے تھے اور خود ہی توڑ دیں۔
    علی وقار
    علی وقار
    سید رافع یہ سوچ غلط ہے یا درست۔ اس کے بارے میں حتمی بات کہنا میرے لیے مشکل ہے۔ میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔
    سوال علم کی کنجی ہے اگر اخلاص سے ہو، دل کا زنگ ہے اگر سمجھ نہ آنے کی بناوٹ ہو اور اختلاف کا سبب اگر غصہ میں شیطان کے وسوسے سے ہو۔
    یاسر شاہ
    یاسر شاہ
    السلام علیکم عزیزم کل کا میرا تبصرہ غصے میں نہیں تھا بلکہ مقصود آپ کو یہ سمجھانا تھا کہ جب بات اپنے خلاف ہو تو کس قدر غصہ آتا ہے خدا کے جلال سے بھی یوں ہی بچنا چاہیے ۔
    یاسر شاہ
    یاسر شاہ
    لیکن میں آپ سے یہی درخواست کروں گا کہ بزرگوں کے باب میں گستاخی سے بچیں کہ مشاہدہ ہے یہ راستہ جنون اور پاگل پن کی طرف لے جاتا ہے اور آپ اس راستے پہ چل چکے ہیں ۔پلٹ آئیے۔
    سید رافع
    سید رافع
    یاسر شاہ عزیزم اللہ اسکے رسولوں اور انکی مطابعت کرنے والے قرآن کے ہر ہر پہلو سے تبلیغ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ کہہ سکتا تھا کہ قرآن نہیں بنا سکتے لیکن کہا کہ اس جیسی دس آیات بنا کر لے آو۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ دین پر عمل کرو یہاں تک کہ لوگ بیوقوف و مجنون کہیں۔ عزیزم یاسر آپ اللہ کے دوست ہیں۔ جو دوست نہیں وہ بن سکتے ہیں۔ بے فکری سے حق بیان کریں اور صبر کریں
    اللہ کی کم از کم ایک نافرمانی معرفت کے ساتھ جان بوجھ کر کریں تاکہ اللہ کی رحمت کا یقین آئے۔
    وَ قَالَ ( امام علی علیه السلام ) : التَّوَدُّدُ نِصْفُ الْعَقْلِ . میل محبت پیدا کر نا عقل کا نصف حصہ ہے۔
    سید عمران
    سید عمران
    اصل الفاظ یہ ہیں:
    التَّوَدُّدُ الی الناسِ نِصْفُ الْعَقْلِ
    لوگوں سے محبت کا برتاؤ کرنا آدھی عقل ہے۔۔۔
    یہ حدیث ہے:
    (مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ نرمی و مہربانی حیاء اور حسن خلق کا بیان ۔ حدیث 996)
    کاش محفل کے سرورق سے ٢٠١۵ کی قدیم لڑیاں ہٹ کر تازی آجائیں! جیسا کہ فونٹ جمیل نوری نستعلیق 3 آٹو کشیدہ ریلیز!
    نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری کہہ کر کیا اقبال بھولے بھالے مسلمانوں کو اسٹیٹ سے بغاوت کا درس دے رہے ہیں؟
    تاریخ کی کوئی مووی یوٹیوب پر دیکھ لیں یا کوئی کتاب پڑھ لیں۔ ایک شخص حکومت حاصل کرنے کے لیے شہر کے شہر قتل کرتا تھا تو حکومت بنتی تھی۔
    سید رافع
    سید رافع
    میں سوچ رہا تھا کہ الحمد للہ ہم تاریخ کے عمدہ دور میں رہ رہیں ہیں جہاں محض کاغذ سے نئی حکومت بن جاتی ہے۔ الزام کسی کو پیسہ کھلانے یا انصاف نہ کرنے تک کی ہی نوبت آتی ہے۔
    لوگ مردوں عورتوں کو اللہ کے کنبے کے بجائے کچھ اور سمجھتے ہیں۔ کنبہ سمجھنا ہی خیر خواہی کی بنیاد ہے۔
    اپنی اقساط میں گزشتہ کا ربط بھی منسلک کر دیا کریں تو تلاش میں بہتری آجائے گی۔ شکریہ
    آپ کی تحریریں میں "سو لفظوں کی کہانی" ملاحظہ فرمائیں۔ اور اسلامی تعلیمات میں "عقیدت کی گرد"۔ شکریہ
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
Top