طارق شاہ

  1. طارق شاہ

    بشیر بدر ::::::ہر بات میں مہکے ہُوئے جذبات کی خوشبو:::::: Dr. Bashir Badr

    غزل ہر بات میں مہکے ہُوئے جذبات کی خوشبوُ یاد آئی بہت، پہلی مُلاقات کی خوشبوُ چُھپ چُھپ کے نئی صُبح کا مُنہ چُوم رہی ہے اُن ریشمی زُلفوں میں بَسی، رات کی خوشبوُ موسم بھی ، حَسِینوں کی ادا سِیکھ گئے ہیں بادل ہیں چھپائے ہُوئے برسات کی خوشبوُ گھر کتنے ہی چھوٹے ہوں ، گھنے پیڑ ملیں گے ! شہروں سے...
  2. طارق شاہ

    بشیر بدر ::::::جگنو کوئی سِتاروں کی محِفل میں کھو گیا :::::: Dr. Bashir Badr

    غزل جگنو کوئی سِتاروں کی محِفل میں کھو گیا اِتنا نہ کر ملال ، جو ہونا تھا، ہوگیا پروَردِگار جانتا ہے تُو دِلوں کا حال مَیں جی نہ پاؤں گا، جو اُسے کُچھ بھی ہوگیا اب اُس کو دیکھ کر، نہیں دھڑکے گا میرا دِل کہنا کہ، مجھ کو یہ بھی سبق یاد ہو گیا بادل اُٹھا تھا سب کو رُلانے کے واسطے آنچل...
  3. طارق شاہ

    مخدُوم مُحی الدِّین :::::یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لیِے :::::: Makhdoom Mohiuddin

    غزل یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لیِے جلو میں چاندنی راتوں کا اہتمام لیِے چٹک رہی ہے کسی یاد کی کلی دِل میں نظر میں رقصِ بہاراں کی صُبح و شام لیِے ہجومِ بادۂ و گُل میں ہجُومِ یاراں میں کسی نِگاہ نے جُھک کر مِرے سلام لیِے مہک مہک کے جگاتی رہی نسیمِ سَحر لبوں پہ یارِ مسیحا نفس کا نام لیِے...
  4. طارق شاہ

    حسرت موہانی :::::: اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کرکے :::::: Hasrat Mohani

    غزل اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ، غفلت کرکے آزمایا جو اُنھیں ، ضبطِ محبّت کرکے دِل نے چھوڑا ہے، نہ چھوڑے تِرے مِلنے کا خیال بارہا دیکھ لِیا ، ہم نے ملامت کرکے دیکھنے آئے تھے وہ، اپنی محبّت کا اثر کہنے کو یہ کہ، آئے ہیں عیادت کرنے پستیِ حوصلۂ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہیے غَمِ ہجراں پہ قناعت...
  5. طارق شاہ

    اختر انصاری :::::: سینہ خُوں سے بھرا ہُوا میرا ::::::Akhtar Ansari

    غزل سینہ خُوں سے بھرا ہُوا میرا اُف یہ بدمست مے کدہ میرا نا رسائی پہ ناز ہے جس کو ہائے وہ شوقِ نارَسا میرا عِشق کو مُنہ دِکھاؤں گا کیونکر ہجر میں رنگ اُڑ گیا میرا دلِ غم دِیدہ پر خُدا کی مار سینہ آہوں سے چِھل گیا میرا یاد کے تُند و تیز جھونکے سے آج ہر داغ جَل اُٹھا میرا یادِ ماضی عذاب...
  6. طارق شاہ

    ناصر کاظمی :::::: یہ ستم اور کہ ہم پُھول کہیں خاروں کو :::::: Nasir Kazmi

    غزل یہ سِتَم اور ، کہ ہم پُھول کہیں خاروں کو اِس سے تو آگ ہی لگ جائے سمن زاروں کو ہے عبث فکرِ تلافی تجھے، اے جانِ وفا ! دُھن ہے اب اور ہی کُچھ ،تیرے طلبگاروں کو تنِ تنہا ہی گُذاری ہیں اندھیری راتیں ہم نے گبھراکے، پُکارا نہ کبھی تاروں کو ناگہاں پُھوٹ پڑےروشنیوں کے جھرنے ایک جھونکا ہی اُڑا...
  7. طارق شاہ

    قمر جلالوی :::::: تاثیر پسِ مرگ دِکھائی ہے وفا نے:::::: Qamar Jalalvi

    غزل تاثیر پسِ مرگ دِکھائی ہے وفا نے جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے، روتے ہیں سرہانے کیا کہہ دیا چُپ کے سے، نہ معلوُم قضا نے کروَٹ بھی نہ بدلی تِرے بیمارِ جفا نے ہستی مِری، کیا جاؤں مَیں اُس بُت کو منانے وہ ضِد پہ جو آئے تو فَرِشتوں کی نہ مانے اَوراقِ گُلِ تر، جو کبھی کھولے صبا نے تحرِیر تھے...
  8. طارق شاہ

    حفیظؔ احمد :::::: چند افسانے سے لوحِ دِل پہ کندہ کرگیا :::::: Hafeez Ahmed

    غزل چند افسانے سے لَوحِ دِل پہ کندہ کرگیا مصلحت اندیش تھا، رُسوائیوں سے ڈر گیا کتنی یخ بستہ فِضا ہے، کتنے پتّھر دِل ہیں لوگ ایک اِک شُعلہ تمنّا کا ، ٹھٹھر کر مر گیا ذہن میں میرے رَچا ہے اب نئے موسم کا زہر ! سوچ کے پردے سے، رنگوں کا ہر اِک منظر گیا ایک مُدّت سے کھڑا ہُوں آنکھ کی دہلیز پر...
  9. طارق شاہ

    امیر امام :::::: جو اَب جہانِ بَرَہنہ کا اِستعارہ ہُوا ::::: Ameer Imam

    غزل جو اَب جہانِ بَرَہنہ کا اِستعارہ ہُوا مَیں زندگی تِرا اِک پیرَہَن اُتارا ہُوا سِیاہ خُون ٹپکتا ہے لمحے لمحے سے ! نہ جانے رات پہ شب خُوں ہے کِس نے مارا ہُوا جکڑ کے سانسوں میں تشہیر ہو رہی ہے مِری میں ایک قید سپاہی ہُوں جنگ ہارا ہُوا پھر اُس کے بعد وہ آنسو اُتر گیا دِل میں ذرا سی دیر...
  10. طارق شاہ

    اسؔد بھوپالی :::::: کچھ بھی ہو، وہ اب دِل سے جُدا ہو نہیں سکتے :::::Asad Bhopali

    غزل کچھ بھی ہو، وہ اب دِل سے جُدا ہو نہیں سکتے ہم مُجرم ِتوہِین وفا ہو نہیں سکتے اے موجِ حوادِث ! تجھے معلوُم نہیں کیا ہم اہلِ محبّت ہیں، فنا ہو نہیں سکتے اِتنا تو بتا جاؤ، خفا ہونے سے پہلے وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے اِک آپ کا در ہے مِری دُنیائے عقِیدت یہ سجدے کہِیں اور ادا ہو...
  11. فرقان احمد

    مبارکباد محترم طارق شاہ کو دس ہزار مراسلوں کی تکمیل پر خصوصی مبارک باد

    صد شکر، یہ سعادت ہماری قسمت میں آئی کہ محترم طارق شاہ کو دس ہزار مراسلوں کی تکمیل پر مبارک باد پیش کرنے کا شرف حاصل کر سکیں۔ بلا شک و شبہ، شاہ صاحب نے اردو شاعری کے حوالے سے منتخب کردہ کلام کی اِس خوب صورت محفل میں باقاعدگی کے ساتھ شراکت کے ذریعے اردو ادب کی ایسی خاموش خدمت کی ہے کہ اس خاص...
  12. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز :::::جب سب کے دِلوں میں گھر کرے تُو ::::::Ahmad Faraz

    غزل جب سب کے دِلوں میں گھر کرے تُو پِھر کیوں ہَمَیں در بَدر کرے تُو یہ حال ہے شام سے تو اے دِل! مُشکِل ہے کہ اب سَحر کرے تُو آنکھوں میں نِشان تک نہ چھوڑے خوابوں کی طرح سفر کرے تُو اِتنا بھی گُریز اہلِ دِل سے کوئی نہ کرے، مگر کرے تُو خوشبُو ہو ، کہ نغمہ ہو، کہ تارا ہر ایک کو، نامہ بر...
  13. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::::اِسم تبدیلی سے کیا ہوتا ہے::::::Shafiq Khalish

    غزل. اِسم تبدیلی سے کیا ہوتا ہے عیب کب اِس سے چھپا ہوتا ہے اچھے اوصاف ہوں سب پر ظاہر جُھوٹ بھی سب پہ کُھلا ہوتا ہے بات بے بات ہو تقرار جہاں جہل پہ جہل ڈٹا ہو تا ہے باز گشت اپنی سماعت پہ گراں دہنِ جاہل کا رَٹا ہوتا ہے وہ بھی کیا شخص ہے محِفل میں، خلؔش ! مَیں ہی قابل ، پہ ڈٹا ہوتا ہے...
  14. طارق شاہ

    حفیظؔ احمد :::::: کبھی کسی سے، کبھی خود سے برسَرِ پیکار :::::: Hafeez Ahmed

    غزل کبھی کسی سے، کبھی خود سے برسر ِپیکار مِرا وجُود ہےتفہیمِ جُستجُو کا شِکار مَیں جِس کی کھَوج میں اِک عُمر سے ہُوں سرگرداں وہ میرا چاند رہا دُھند میں پَسِ دِیوار غرُورِ شوق کی مشعل اُٹھا کے نِکلا تھا ہُوا ہُوں رات کی سنگِنیوں میں تِیرہ فِشار نجانے کِتنے زمانوں سے ہُوں یہاں محصُور ہے...
  15. طارق شاہ

    جوش ملیح آبادی :::::: جو بادشاہ، پُرسِشِ حالِ گدا کرے ::::::Josh Maleehabadi

    غزل جو بادشاہ، پُرسِشِ حالِ گدا کرے اُس پر کبھی زوال نہ آئے خُدا کرے حاصِل اگر ہو وحدَتِ نَوعِ بَشر کا عِلم تو پِھر عَدُوئے جاں سے بھی اِنساں وَفا کرے میرا بُرا جو چاہ رہا ہے، بہر نَفَس اللہ ہر لِحاظ سے، اُس کا بَھلا کرے ہم ساکنانِ کُوئے خرابات کی طرح یارب! کبھی فقِیہ بھی ترکِ رِیا کرے...
  16. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز :::::: حیران ہُوں خود کو دیکھ کر مَیں :::::Ahmad Faraz

    غزل حیران ہُوں خود کو دیکھ کر مَیں ایسا تو نہیں تھا عمر بھر مَیں وہ زِندہ دِلی کہاں گئی ہے ہنستا تھا اپنے حال پر جب مَیں آدابِ جُنونِ عاشقی سے ایسا بھی نہیں تھا بے خبر مَیں واسوخت کبھی نہ مَیں نے لِکھّی رویا بھی کبھی جو ٹُوٹ کر مَیں صیّاد پرست جو بھی سمجھیں زنداں کو سمجھ سکا نہ گھر مَیں...
  17. طارق شاہ

    آس محمد محسن :::::مَیں ہُوں حیراں یہ سِلسِلہ کیا ہے ::::::Aas Mohammad Mohsin

    آس محمد محسن غزل مَیں ہُوں حیراں یہ سِلسِلہ کیا ہے آئنہ مجھ میں ڈُھونڈھتا کیا ہے خود سے بیتاب ہُوں نکلنے کو کوئی بتلائے راستہ کیا ہے میں حبابوں کو دیکھ کر سمجھا اِبتدا کیا ہے، اِنتہا کیا ہے میں ہُوں یکجا ،تو پھر مِرے اندر ایک مُدّت سے ٹُوٹتا کیا ہے خود ہی تنہائیوں میں چِلّاؤں خود ہی...
  18. طارق شاہ

    احمد اقبال ::::: لفظ خالی ہیں معانی سے پریشاں ہیں خیال :::::: Ahmed Iqbal

    گُل کرو شمعیں! لفظ خالی ہیں معانی سے پریشاں ہیں خیال ایک زنجیرِ شکستہ ہیں دماغوں میں سوال آخرِش خواہشِ پروازسے محرُوم ہُوئی فکر جو منتظرِ حرفِ اجازت ہی رہی ہمسفر اپنے رہے صِرف اُمیدوں کے سراب سوگئے جاگتی آنکھوں میں نئی صُبح کے خواب خواب شرمندۂ تعبیر بھی ہو سکتے تھے ہم سِیہ بخت سہی، سُرخ...
  19. طارق شاہ

    احمد مشتاق ::::::اُداس کر کے دَرِیچے نئے مکانوں کے:::::: Ahmed Mushtaq

    غزل اُداس کر کے دَرِیچے نئے مکانوں کے سِتارے ڈُوب گئے سبز آسمانوں کے گئی وہ شب، جو کبھی ختم ہی نہ ہوتی تھی ہوائیں لے گئیں اَوراق داستانوں کے ہر آن برق چمکتی ہے، دِل دھڑکتا ہے مِری قمیص پہ تِنکے ہیں آشیانوں کے تِرے سکُوت سے وہ راز بھی ہُوئے افشا کہ جِن کو کان ترستے تھے راز دانوں کے یہ بات...
  20. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::: مُمکن ہے اِلتجا میں ہماری اثر نہ ہو :::::: Shafiq Khalish

    غزل. مُمکن ہے اِلتجا میں ہماری اثر نہ ہو ایسا نہیں کہ اُس کو ہماری خبر نہ ہو خاک ایسی زندگی پہ کہ جس میں وہ بُت، مِرے خواب و خیال میں بھی اگر جلوہ گر نہ ہو وہ حُسن ہے سوار کُچھ ایسا حواس پر! خود سے توکیا، اب اوروں سے ذکرِ دِگر نہ ہو ہو پیش رفت خاک، مُلاقات پر ہی جب! کھٹکا رہے یہ دِل میں...
Top