محمد احسن سمیع

  1. محمد فخر سعید

    اصلاح طلب غزل

    کبھی جھگڑہ، کبھی غصہ، روایت توڑ دی ہم نے اسے ملتے نہیں ہیں اب محبت چھوڑ دی ہم نے طبیعت اب ہے یوں اپنی کہ سب چپ چاپ سنتا ہوں مسلسل بحث کرنے کی وہ عادت چھوڑ دی ہم نے گیا بچپن، گئے وہ دن کہ جب ہم کُھل کے ہنستے تھے مسلسل حادثوں سے اب شرارت چھوڑ دی ہم نے یہاں کہتا کوئی کچھ ہے، عمل ہوتا کوئی کچھ ہے...
  2. زبیر صدیقی

    غزل برائے اصلاح : اِک یہی کاروبار ہی ہے فقط

    السلام علیکم اساتذہ صاحبان۔ ایک غزل پیشِ خدمت ہے، اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ (میری بیٹی ہانگ کانگ میں پڑھ رہی ہے مگر کرونا کی وجہ سے چین کا ویزہ نہیں مل رہا تو ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ یہی مضمون ہے) الف عین محمّد احسن سمیع :راحل: سید عاطف علی محمد خلیل الرحمٰن اِک یہی کاروبار ہی ہے فقط بس ترا...
  3. زبیر صدیقی

    غزل برائے اصلاح : کیسی یہ عجب شکل ہے تنہائی کی

    السلام علیکم : کافی دن کی غیر حاضری کے بعد حاضر ہوں۔ ایک غزل پر اساتذہ کی رائے کی درخواست ہے۔ برائے مہربانی اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ الف عین محمّد احسن سمیع :راحل: ، سید عاطف علی کیسی یہ عجب شکل ہے تنہائی کی ساحل کو خبر ہی نہیں گہرائی کی رُخ پر ہے، مسلسل ہے، رواں ہے دریا اپنائی روِش اِس نے...
  4. محمد احسن سمیع راحلؔ

    غزل: ایسا نہیں کسی نے تقاضا نہیں کیا (غزل)

    عزیزانِ من، آداب! بڑے دن بعد کسی تازہ غزل کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔۔۔ امید ہے کہ احباب اپنی گراں قدر آرا سے ضرور نوازیں گے۔ دعاگو، راحلؔ۔ ایسا نہیں کسی نے تقاضا نہیں کیا بس لَوٹنا انا نے گوارا نہیں کیا ہم ’’دل سے دل کو راہ‘‘ پہ تکیہ کیے رہے اور ان کو غم یہ، ہم نے اشارہ نہیں کیا...
  5. Muhammad Ishfaq

    غزل برائے اصلاح

    غموں کے اندھیروں کو ٹالا ہے میں نے کیا ظلمتوں میں اجالا ہے میں نے نہ مجبور ہو جاؤں کہیں کھولنے پر زباں پر لگایا جو تالا ہے میں نے مصیبت بھی آئی اذیت بھی آئی کسی کو نہ گھر سے نکالا ہے میں نے مرے حق میں تو فیصلہ پھر نہ آیا ہوا میں بھی سکہ...
  6. Muhammad Ishfaq

    غزل برائے اصلاح

    غزل برائے اصلاح مناسب یہ ہوتا کہ تم جان جاتے کیا ہے حقیقت یہ پہچان جاتے ذرا بات کو سن جو لیتے ہماری نہ حالات سے یوں ہی انجان جاتے اذیت نہ ہوتی ملامت نہ ہوتی اگر بات ناصح کی تم مان جاتے نہ ہوتی ندامت تمہیں روز محشر جو...
  7. A

    برائے اصلاح: خوف اک پیش و پس میں رہتا ہے

    خوف اک پیش و پس میں رہتا ہے جانے کیا دُکھ نفس میں رہتا ہے جان کا کچھ نہیں بھروسہ پر دل مُسلسل ہوس میں رہتا ہے روح رہتی ہے جسم میں جیسے اک پرندہ قفس میں رہتا ہے سلطنت لاکھ سُکھ میں جیتی ہو ایک نالہ جرس میں رہتا ہے ہو جو اک بار آنکھ سے اوجھل کون پھر دسترس میں رہتا ہے کب مچل جائے کیا کہیں دل...
  8. Muhammad Ishfaq

    غزل برا

    تمام اساتذہ اکرام اور محفلین کو السلام علیکم ! غزل اصلاح کے لیے پیش کر رہا ہوں اصلاح فرمادیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔ غزل فعولن فعولن فعولن فعولن حوادث زمانہ سکھاتے ہیں ہم کو سبق یہ نیا اک بتاتے ہیں ہم کو کہیں خوف سے بھاگ جانا نہیں ہے نئے راستے یہ دکھاتے ہیں ہم کو...
  9. زبیر صدیقی

    غزل برائے اصلاح : علم کا بوجھ ہے اضافی اب

    السلام علیکم صاحبان : ایک تازہ غزل(مسلسل) ہے، اور ہمیشہ کی طرح رہنمائی درکار ہے۔ ایک وضاحت عرض ہے کہ، میں کوشش کرتا ہوں کہ غیر اردو الفاظ سے گریز کیا جائے۔ ذیر درج غزل میں ایک لفظ "ڈگری" آ رہا ہے جس کا متبادل سند استعمال ہو سکتا تھا، مگر اس سے بات صحیح بیان نہیں ہو رہی تھی۔ اس لیے ڈگری ہی...
  10. زبیر صدیقی

    غزل برائے اصلاح - ہوئے مصروفِ کار، آخرکار

    السلام علیکم صاحبان۔ غیر حاضری کی معذرت۔ اولاً چین میں یہ ویبسائٹ کافی دیر سے لوڈ ہوتی ہے اور پچھلے دنوں بہت ہی سست تھی۔ دوئم یہ کہ دفتری مصروفیات بڑھ گئیں ہیں جس نے ارتکازِ آمد پہ پہرے بٹھا دیے ہیں۔ بلکہ تازہ درج ذیل غزل بھی اسی الجھن کو بیان کر رہی ہے۔ خیر اِنَّ مع العسر یسراً کے حساب سے حل...
  11. A

    برائے اصلاح: نہیں مِل رہا بڑی دیر سے مِری ذات کا ہی پتا مجھے

    الف عین ڈاکٹر عظیم سہارنپوری محمد خلیل الرحمٰن محمّد احسن سمیع :راحل: ----------- نہیں مِل رہا بڑی دیر سے مِری ذات کا ہی پتا مجھے میں کسے کہوں کہ خبر کرے، میں کسے کہوں کہ بتا مجھے وہ سبق میں پڑھ کے بُھلا چُکا کہ اُصول تھامے رہو صدا کوئی منتقی سی دلیل دے، یہ مُحاورے نہ سُنا مجھے میں تو شاد...
  12. محمد ابراہیم کوثر

    اشعار کی اصلاح

    میں نے کتبہ لے لیا ہے اب کفن درکار ہے زندگی کی نظم میں مجھ کو سخن درکار ہے ہم سفر کی روح سے ہموار ہوں راہیں تری کون احمق تجھ سے سے گویا ہے بدن درکار ہے تھی جفا کش طبقے کی تعطیل لیکن وہ وہاں کام پر مجبور تھے کہ آمدن درکار ہے تیری باتوں سے نکھار آتا ہے خدو خال میں جس طرح شعروں میں ندرت کو خبن...
  13. زبیر صدیقی

    غزل برائے اصلاح : برسوں

    السلام علیکم صاحبان و اساتذہ۔ رمضان کی مبارکباد قبول فرمائیے۔ اللہ ہم سب کو اس کی برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک تازہ غزل پیش ہے۔ برائے مہربانی اپنی رائے سے نوازیں۔ پہلا شعر رمضان کی آمد پر ہی کہا ہے۔ الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف محمد احسن سمیع راحل حُسن...
  14. ام عبدالوھاب

    میرے قلم سے

    سر زمیں پہ رکھتا ہوں،اٹھا لیتا ہوں، نشان ماتھے پہ ،یونہی بنا لیتا ہوں۔ وہ کام ہوتا ہی نہیں ،جسے کہتے ہیں سجدہ، مسجد آ جا کے،لوگوں کو دکھا لیتا ہوں۔ ام عبدالوھاب
  15. زبیر صدیقی

    برائے اصلاح : یہ کیا ہو رہا ہے

    السلام علیکم صاحبان و اساتذہ۔ ایک تازہ غزل پیش ہے۔ برائے مہربانی اپنی رائے سے نوازیں۔ ایک لمبی ردیف نبھانے کی کوشش کی ہے۔ الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل نشہ ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے ترا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے ترا ہو رہا ہوں، انا کھو رہا ہوں بجا...
  16. زبیر صدیقی

    برائے اصلاح : جاری ہے اب تک

    السلام علیکم صاحبان و اساتذہ۔ ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوں، مدعا وہی اصلاح کا ہے۔ برائے مہربانی ایک نظر کریں الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل مقدّر کا شغل جاری ہے اب تک مکافاتِ عمل جاری ہے اب تک کبھی تم تھے، تمھاری یاد ہے اب سو خلوت میں خلل جاری ہے اب تک وہ اِک...
  17. زبیر صدیقی

    برائے اصلاح (الٹ پلٹ ہوئی دنیا - بسبب کرونا وائرس)

    السلام علیکم ۔تمام صاحبان اور محترم اساتذہ۔ اایک تازہ غزل ہے موجودہ حالات پر۔ برائے مہربانی ایک نظر ہو۔ الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل اُلٹ پُلٹ ہوئی دنیا، ہیں روز و شب بھی عجیب یا مل رہی ہے اِنہیں قدرتاً نئی ترتیب دیا گیا ہے محبت کو اِک نیا دستور حبیب دُور...
  18. زبیر صدیقی

    برائے اصلاح : درد پہچان ہی لیا جائے

    السلام علیکم ۔تمام صاحبان اور محترم اساتذہ۔ ایک بار پھر ایک مسلسل غزل کے لیے زحمتِ نظر دے رہا ہوں۔ برائے مہربانی اپنی رائے سے نوازیں۔ الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل درد پہچان ہی لیا جائے اب اِسے جان ہی لیا جائے درد تو ہیں جُدا جُدا سب کے اِس طرح مان ہی لیا جائے درد...
  19. بدر القادری

    برائے اصلاح

    اسّلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ ایک نئی غزل اصلاح کی متمنی ہے، تمام اساتذۂ کرام و دیگر اہلِ ذوق حضرات احسن سمیع راحل صاحب، شکیل احمد خان صاحب سے گزارش ہے کہ میری اس حقیر کاوش کو ایک بار دیکھ لیں۔ غزل غیر طعنے بھی دے تم کو مدحت لگے شکر بھی ہم کریں تو شکا یت لگے سر بچا لائے ہم کوئے دلدار سے سر کٹے پر...
  20. زبیر صدیقی

    برائے اصلاح : موسم ہے (کرونا وائرس کا دور)

    تمام احباب و اساتذہ کو سلام۔ ایک تازہ غزل پیش ہے جو کہ کرونا وائرس کے حالات کی مناسبت سے کہی۔ برائے مہربانی اصلاح فرمائیں۔ الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل رہِ عدم پہ رواں قافلوں کا موسم ہے میانِ خلق ابھی فاصلوں کا موسم ہے ذرا سا اور مؤخّر کرو سفر اپنا تمھارے پاؤں...
Top