زبیر صدیقی

محفلین
السلام علیکم صاحبان و اساتذہ۔ ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوں، مدعا وہی اصلاح کا ہے۔ برائے مہربانی ایک نظر کریں
الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل

مقدّر کا شغل جاری ہے اب تک
مکافاتِ عمل جاری ہے اب تک

کبھی تم تھے، تمھاری یاد ہے اب
سو خلوت میں خلل جاری ہے اب تک

وہ اِک پل تھا کہ جب بچھڑے تھے ہم تم
مگر وہ ایک پل جاری ہے اب تک

رویّوں نے، نہ رت نے، طرز بدلی
وہی ردّ و بدل جاری ہے اب تک

بنا حسرت کے جینا، اس جہاں میں
یہ حسرت، از ازل جاری ہے اب تک

یہاں پھر ’آج‘، ’کل‘ میں ڈھل رہا ہے
وہاں وعدوں میں ’کل‘ جاری ہے اب تک

ہے زلفِ یار جیسی زندگی تو
گرہ و پیچ و بل جاری ہے اب تک


والسلام۔
 
شغل کا وزن ۔ عمل نہیں فعل ہے۔ تحقیق کیجیئے
پیچ و بل کی ترتیب درست نہیں ۔ تحقیق کریں ۔ شاید مصرع دوبارہ کہنا ہو گا۔
از ازل ۔ کے بجائے کچھ اور لائیں ۔اس سے چھوٹی بحر میں کچھ ثقالت کا باعث لگ رہا ہے۔
غزل اچھی ہے ویسے۔
 
آخری تدوین:

زبیر صدیقی

محفلین
شغل کا وزن ۔ عمل نہیں فعل ہے۔ تحقیق کیجیئے
پیچ و بل کی ترتیب درست نہیں ۔ تحقیق کریں ۔ شاید مصرع دوبارہ کہنا ہو گا۔
از ازل ۔ کے بجائے کچھ اور لائیں ۔اس سے چھوٹی بحر میں کچھ ثقالت کا باعث لگ رہا ہے۔
غزل اچھی ہے ویسے۔
جی بہت شکریہ۔ میں ان خامیوں کو دیکھتا ہوں۔
 

زبیر صدیقی

محفلین
شغل کا وزن ۔ عمل نہیں فعل ہے۔ تحقیق کیجیئے
پیچ و بل کی ترتیب درست نہیں ۔ تحقیق کریں ۔ شاید مصرع دوبارہ کہنا ہو گا۔
از ازل ۔ کے بجائے کچھ اور لائیں ۔اس سے چھوٹی بحر میں کچھ ثقالت کا باعث لگ رہا ہے۔
غزل اچھی ہے ویسے۔
یہ تو آپ لوگوں کا ظرف ہے کہ ڈانٹتے نہیں ہیں ورنہ “شغل” جیسی فاش غلطی پر تو کان سے پکڑ کے باہر نکال دیں۔
 
ڈانٹتے نہیں ہیں ورنہ “شغل” جیسی فاش غلطی پر تو کان سے پکڑ کے باہر نکال دیں۔
ارے صدیقی صاحب یہ محض آپ کی محبت ہے ۔
انسان اپنی خطا سے کچھ سیکھ جائے تو اس کی خطا بھی اس کے لیے قیمتی ہو جاتی ہے ۔
محبت اور ادب انسان کو ودیعت کیے گئے جواہر ہیں ۔ ان کے اکتساب و تعلّم میں کچھ حائل نہیں ہو نا چاہیئے ۔
مجھے خود اپنی تصحیح سے، خواہ کسی طرح بھی ہوئی ہو ، جتنا اطمینان ہوتا ہے شاید ہی کسی چیز سے ہوتا ہو ۔
 

زبیر صدیقی

محفلین
ارے صدیقی صاحب یہ محض آپ کی محبت ہے ۔
انسان اپنی خطا سے کچھ سیکھ جائے تو اس کی خطا بھی اس کے لیے قیمتی ہو جاتی ہے ۔
محبت اور ادب انسان کو ودیعت کیے گئے جواہر ہیں ۔ ان کے اکتساب و تعلّم میں کچھ حائل نہیں ہو نا چاہیئے ۔
مجھے خود اپنی تصحیح سے، خواہ کسی طرح بھی ہوئی ہو ، جتنا اطمینان ہوتا ہے شاید ہی کسی چیز سے ہوتا ہو ۔
کیا بات ہے۔ بہت اچھی بات کہی۔ مجھے یقیناً فخر ہے کہ میں اس محفل میں ہوں۔ ہر پل کچھ آگے ہی بڑھتا ہوں۔ بہرحال، کچھ ترامیم کے ساتھ غزل دوبارہ پیشِ خدمت ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

حسابِ لم یزل جاری ہے اب تک
مکافاتِ عمل جاری ہے اب تک

کبھی تم تھے، تمھاری یاد ہے اب
سو خلوت میں خلل جاری ہے اب تک

وہ اِک پل تھا کہ جب بچھڑے تھے ہم تم
مگر وہ ایک پل جاری ہے اب تک

رویّوں نے، نہ رت نے طرز بدلی
وہی ردّ و بدل جاری ہے اب تک

بنا حسرت کے جی جائیں، یہ حسرت
ازل سے ہے اٹل، جاری ہے اب تک

یہاں پھر ’آج‘، ’کل‘ میں ڈھل رہا ہے
وہاں وعدوں میں ’کل‘ جاری ہے اب تک

ہے زلفِ یار جیسی زندگی تو
گرہ جاری ہے، بل جاری ہے اب تک

---( مطلع میں "یہ نقشِ لم یزل" استعمال کرنا چاہ رہا تھا، مگر، روانی "حساب" میں محسوس ہو رہی تھی، مشورہ دیجئے)

والسلام
 
بنا حسرت کے جی جائیں، یہ حسرت
بنا حسرت جب کہیں تو کے کی چنداں ضرورت نہیں (شاید کہہ بھی سکتے ہوں ) ۔ ایسے کہیں کہ بنا حسرت جیئے جائیں تو بہتر ہے ۔ (اس میں اپنے اعجاز بھائی الف عین کی رائے بھی لے لیتے ہیں ،مجھے تو بغیر کے کے زبان کا ذائقہ اچھا لگا ) ۔
گرہ اور بل میں جاری کی تکرار نہ ہو تو بہتر ہو۔
نقش اور حساب دونوں مکافاتعمل سے موافق ہیں ،جو چاہیں برتیں ۔
 

زبیر صدیقی

محفلین
بنا حسرت جب کہیں تو کے کی چنداں ضرورت نہیں (شاید کہہ بھی سکتے ہوں ) ۔ ایسے کہیں کہ بنا حسرت جیئے جائیں تو بہتر ہے ۔ (اس میں اپنے اعجاز بھائی الف عین کی رائے بھی لے لیتے ہیں ،مجھے تو بغیر کے کے زبان کا ذائقہ اچھا لگا ) ۔
گرہ اور بل میں جاری کی تکرار نہ ہو تو بہتر ہو۔
نقش اور حساب دونوں مکافاتعمل سے موافق ہیں ،جو چاہیں برتیں ۔
جی اچھا، بہتر۔ استاد محترم کی رائے کا انتظار کر لیتے ہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
بنا حسرت کے... بھی برا تو نہیں لگ رہا۔ البتہ مجھے 'جی جائیں' اتنا اچھا نہیں لگ رہا اگرچہ خیال بہت خوب ہے۔ 'جی پائیں' بھی اتنا رواں نہیں
بل والے شعر میں
وہ پیچ و خم، وہ بل...
کہیں تو؟ سید عاطف علی
 

زبیر صدیقی

محفلین
بنا حسرت کے... بھی برا تو نہیں لگ رہا۔ البتہ مجھے 'جی جائیں' اتنا اچھا نہیں لگ رہا اگرچہ خیال بہت خوب ہے۔ 'جی پائیں' بھی اتنا رواں نہیں
بل والے شعر میں
وہ پیچ و خم، وہ بل...
کہیں تو؟ سید عاطف علی
بہت شکریہ محترم۔ مجھے آخری مصرعے میں آپ کی ترکیب (وہ پیچ و خم، وہ بل…) اچھی لگی۔ جیسے آپ نے کہا، سید عاطف علی کی رائے کا انتظار کر لیتے ہیں۔

دوئم - حسرت والے مصرعہ کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے (آپ کی اور عاطف صاحب کی رائے ملا کر)

بنا حسرت یہاں جی لیں، یہ حسرت ---- یا -------بنا حسرت جئیے جائیں، یہ حسرت

والسلام
 
بنا حسرت کے... بھی برا تو نہیں لگ رہا۔ البتہ مجھے 'جی جائیں' اتنا اچھا نہیں لگ رہا اگرچہ خیال بہت خوب ہے۔ 'جی پائیں' بھی اتنا رواں نہیں
بل والے شعر میں
وہ پیچ و خم، وہ بل...
کہیں تو؟ سید عاطف علی
جی جانا اور جی پانا مجھے بھی شعری اسلوب میں موقر نہیں لگا ۔ البتہ جئے جانا بہتر لگا۔ جیسے جگر مراد آبادی کا شعر ۔
بے کیف زندگی ہے جئے جا رہا ہوں میں۔
خالی ہے شیشہ اور پیئے جارہا ہوں میں۔

پیچ اور بل والی ترکیب بہت اچھی ہے۔
 

زبیر صدیقی

محفلین
جی جانا اور جی پانا مجھے بھی شعری اسلوب میں موقر نہیں لگا ۔ البتہ جئے جانا بہتر لگا۔ جیسے جگر مراد آبادی کا شعر ۔
بے کیف زندگی ہے جئے جا رہا ہوں میں۔
خالی ہے شیشہ اور پیئے جارہا ہوں میں۔

پیچ اور بل والی ترکیب بہت اچھی ہے۔
محترم الف عین صاحب “جئے جائیں” پر آپ اپنی رائے سے نوازیں پھر ہم اس غزل کو فائنل کر لیں گے۔
 
محترم الف عین صاحب “جئے جائیں” پر آپ اپنی رائے سے نوازیں پھر ہم اس غزل کو فائنل کر لیں گے۔
جی جانا یا جی پانا اور جئے جانا ،یہ دو الگ سٹائل ہیں ۔ اعجاز بھائی کی طرح جی جانا اور جی پانا تو مجھے بھی کچھ اچھے نہیں لگے ۔ جئے جانا البتہ کچھ مناسب لگا جیسا کہ میں نے مثال دی ۔ اب جو آپ کا مزاج چاہے اپنانے کے لیے منتخب کر لیں ۔
 

زبیر صدیقی

محفلین
جی جانا یا جی پانا اور جئے جانا ،یہ دو الگ سٹائل ہیں ۔ اعجاز بھائی کی طرح جی جانا اور جی پانا تو مجھے بھی کچھ اچھے نہیں لگے ۔ جئے جانا البتہ کچھ مناسب لگا جیسا کہ میں نے مثال دی ۔ اب جو آپ کا مزاج چاہے اپنانے کے لیے منتخب کر لیں ۔
جی اچھا۔ میں پھر “جئیے جائیں” ہی اختیار کرتا ہوں۔ مکمل غزل نیچے درج کرتا ہوں۔


حسابِ لم یزل جاری ہے اب تک
مکافاتِ عمل جاری ہے اب تک

کبھی تم تھے، تمھاری یاد ہے اب
سو خلوت میں خلل جاری ہے اب تک

وہ اِک پل تھا کہ جب بچھڑے تھے ہم تم
مگر وہ ایک پل جاری ہے اب تک

رویّوں نے، نہ رت نے طرز بدلی
وہی ردّ و بدل جاری ہے اب تک

بنا حسرت جئیے جائیں، یہ حسرت
ازل سے ہے اٹل، جاری ہے اب تک

یہاں پھر ’آج‘، ’کل‘ میں ڈھل رہا ہے
وہاں وعدوں میں ’کل‘ جاری ہے اب تک

ہے زلفِ یار جیسی زندگی تو
وہ پیچ و خم، وہ بل جاری ہے اب تک

و السلام۔ تمام احباب کا شکریہ۔
 
Top