برائے اصلاح (الٹ پلٹ ہوئی دنیا - بسبب کرونا وائرس)

زبیر صدیقی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 31, 2020

  1. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    84
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    السلام علیکم ۔تمام صاحبان اور محترم اساتذہ۔ اایک تازہ غزل ہے موجودہ حالات پر۔ برائے مہربانی ایک نظر ہو۔
    الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل

    اُلٹ پُلٹ ہوئی دنیا، ہیں روز و شب بھی عجیب
    یا مل رہی ہے اِنہیں قدرتاً نئی ترتیب

    دیا گیا ہے محبت کو اِک نیا دستور
    حبیب دُور ہوا ہے مگر قریب رقیب

    تماشہ کیا ہو، کہاں ہو، تماش بیں ہی نہیں
    تماشہ گر کو بھی کرنی ہے کچھ نئی ترکیب

    تھمے جو وقت کی رفتار اور ملے موقع
    امیر دیکھے کہ رہتا رہا ہے کیسے غریب

    نمود اور نمائش ہوئی ہے یوں بے کار
    فقط ہے چند نفَس پر ہی مشتمل تقریب

    جو موج و مستی کا ہنگام تھا، نہیں ہے اب
    تو سوچنا ہے کہ وہ تھا کیا عنصرِ تہذیب

    سویرے دیر سے اٹھنا تو جاگنا شب بھر
    نہیں رہی تھی کبھی بھی سلَف کی یہ ترغیب

    محاسبہ ہو، ملا ہے یہ وقت قسمت سے
    وگرنہ کہنے کو کیا ہو ہمیں حُضورِ حسیب

    والسلام۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,534
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے بس دو اشعار میں کچھ سوال اٹھتا ہے
    تھمے جو وقت کی رفتار اور ملے موقع
    امیر دیکھے کہ رہتا رہا ہے کیسے غریب
    ....' رہتا رہا ہے' عجیب نہیں لگتا؟
    امیر دیکھے کہ رہتا ہے کس طرح سے غریب
    بہتر ہو گا

    جو موج و مستی کا ہنگام تھا، نہیں ہے اب
    تو سوچنا ہے کہ وہ تھا کیا عنصرِ تہذیب
    .. اس کا بھی ثانی مصرع یوں بہتر ہو شاید
    تو/یہ سوچنا ہے کہ کیا تھا وہ.... یا 'تھا کیا' بھی ممکن ہے
     
  3. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    84
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت نوازش۔ شکریہ آپ کا۔ بالکل میں ایسے ہی کیے دیتا ہوں۔ تصیح شدہ غزل درج ذیل ہے۔

    اُلٹ پُلٹ ہوئی دنیا، ہیں روز و شب بھی عجیب
    یا مل رہی ہے اِنہیں قدرتاً نئی ترتیب

    دیا گیا ہے محبت کو اِک نیا دستور
    حبیب دُور ہوا ہے مگر قریب رقیب

    تماشہ کیا ہو، کہاں ہو، تماش بیں ہی نہیں
    تماشہ گر کو بھی کرنی ہے کچھ نئی ترکیب

    تھمے جو وقت کی رفتار اور ملے موقع
    امیر دیکھے کہ رہتا ہے کس طرح سے غریب

    نمود اور نمائش ہوئی ہے یوں بے کار
    فقط ہے چند نفَس پر ہی مشتمل تقریب

    جو موج و مستی کا ہنگام تھا، نہیں ہے اب
    یہ سوچنا ہے کہ تھا کیا وہ عنصرِ تہذیب

    سویرے دیر سے اٹھنا تو جاگنا شب بھر
    نہیں رہی تھی کبھی بھی سلَف کی یہ ترغیب

    محاسبہ ہو، ملا ہے یہ وقت قسمت سے
    وگرنہ کہنے کو کیا ہو ہمیں حُضورِ حسیب

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    211
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    مشورہ:
    اُتھل پُتھل ہوئی دنیا میں روز و شب ہیں عجیب
    یا دے رہی ہے انہیں قدر ت اک نئی ترتیب
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 1, 2020
  5. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    84
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ماشااللہ۔زبردست روانی کر دی ہے۔
    اس میں بس ایک بات ہے کہ، دوسرا مصرعہ میں جو ترتیب دینے کی بات ہو رہی ہے، وہ روز و شب کی محدود ہو جاتی ہے، جب کہ میرا موقف تھا کہ، دنیا کے مشغولات اور روز و شب کے معمولات - ان سب کو ننی ترتیب مل رہی ہے۔ اگلے اشعار میں ان سب نئی ترتیب کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر