زبیر صدیقی

محفلین
السلام علیکم صاحبان و اساتذہ۔ ایک تازہ غزل پیش ہے۔ برائے مہربانی اپنی رائے سے نوازیں۔ ایک لمبی ردیف نبھانے کی کوشش کی ہے۔
الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل

نشہ ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے
ترا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

ترا ہو رہا ہوں، انا کھو رہا ہوں
بجا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

گماں ہو رہا ہے کہ منظور میرا
کہا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

سفر ذات میں ہے، نظر کہہ رہی ہے
خلا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

خبر بس یہی ہے خبر کچھ نہیں ہے
کہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

دوا کی طلب تھی جسے، درد وہ خود
دوا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

بُلندی سے آ کے، یہ پستی کا آدم
خُدا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

بقا کے جتن میں محو ہو کے انساں
فنا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

ہے دھوکا یہ 'ہے' کی شُماری کہ جو ہے
وہ 'تھا' ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

والسلام
 
محو کا تلفظ ۔ ایسے نہین۔
بقا کے جتن میں ہوا محو انساں۔
یوں کہیئے۔
خلا والا شعر کچھ عجز بیان کا شکار سا ہے۔ مضمون بندھ نہیں رہا۔
پستی کا آدم سے بہتر پستی میں آدم شاید بہتر ہو۔
ردیف نے ہر شعر کو محصور کر دیا۔
 
سفر ذات میں ہے، نظر کہہ رہی ہے
خلا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے
سفر ذات میں ہے یا حق زندگی کا
ادا ہورہا ہے یہ کیا ہورہا ہے
۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔
سفر ذات میں ہے، نظر میں یہ عالم
خلا ہورہا ہے ، یہ کیا ہورہا ہے
 
آخری تدوین:
خبر بس یہی ہے خبر کچھ نہیں ہے
کہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے
خبر بس یہی ہے ،خبر کچھ نہیں ہے
کیا ہورہاہے یہ کیا ہورہا ہے(آپ نے دوسرے مصرعے میں فرمایا: کہ کیا ہورہا ہے تو یہاں قافیہ تو ساقط ہوگیا۔ازراہِ کرم اساتذہ رہنمائی فرمائیں کہ تقطیع میں تو ٹھیک ہے مگر آہنگ میں تفاوت ۔۔۔۔۔۔یہ ایک نئی صورتحال ہے )
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
شکیل میاں نے دو اشعار کے سلسلے میں اچھی رائے دی ہے، قبول کر لیں
کہ کیا ہو رہا..... میں تنافر کی کیفیت ہے، اور کوئی غلطی نہیں اگر یہاں دونوں بار ردیف دہرا دی جائے تو بہتر لگتا ہے یا اور صورت بگڑ جاتی ہے؟
گماں ہو رہا ہے کہ منظور میرا
کہا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے
بہت خوب ہے، عرفان صدیقی یاد آ گئے
تو نے کہا تھا، تیرا کہا کیوں نہیں ہوا
مطلع البتہ عجز بیان کا شکار ہے، اسے بدل دیں
 
کہ کیا ہو رہا..... میں تنافر کی کیفیت ہے، اور کوئی غلطی نہیں اگر یہاں دونوں بار ردیف دہرا دی جائے تو بہتر لگتا ہے یا اور صورت بگڑ جاتی ہے؟
نہیں استادِ محترم شعر کی صورت بگڑتی نہیں بلکہ ردیف کا حق نہایت خوبصورتی سے ادا ہوتا محسوس ہوتا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ مصرعے میں ردیف کی تکرار کا جو موقع نکل آیا ہے توشاعر کواس کا پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے ۔اِس طرح سے یہ ردیف ہی پوری غزل کاصحیح ترین جوازاور حسین ترین استدلال ہوجائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر بس یہی ہے خبر کچھ نہیں ہے
یہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(قوافی کے آہنگ کے معاملے کی استادِ محترم نے وضاحت فرمادی ہے،جو میرے علم میں اضافے کا باعث ہوئی)
 
آخری تدوین:

زبیر صدیقی

محفلین
الف عین سید عاطف علی شکیل احمد خان23 آپ تمام صاحبان کی آراء کا شکریہ۔ دیر سے جواب کی معذرت۔ ترامیم کے ساتھ غزل درج کر رہا ہوں۔ ذات والے شعر کا ایک اور متبادل دے رہا ہوں۔ بتائیے کون سا موزوں رہے گا۔ الف عین صاحب مطلع اور کوئی صورت سوجھ نہیں رہی۔ تنگی کافی ہے۔

نشہ ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے
ترا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

ترا ہو رہا ہوں، انا کھو رہا ہوں
بجا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

گماں ہو رہا ہے، کہ منظور میرا
کہا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

ٹٹولا جو من تو پتا چل رہا ہے
خلا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے
۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔
سفر ذات میں ہے، نظر میں یہ عالم
خلا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

طلب تھی دوا کی جسے، درد وہ خود
دوا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

خبر ہے یہی کہ خبر کچھ نہیں ہے
یہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

بلندی سے آ کے، یہ پستی میں آدم
خدا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

بقا کے جتن کر لیے پھر بھی انساں
فنا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

ہے دھوکا یہ “ہے” کی شماری کہ جو ہے
وہ تھا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

و السلام۔
 
غزل کی ہئیت دیکھ کر جون بھائی کی ایک غزل یاد آگئی :)
میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
اس میں ردیف "کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو" ہے.
بہت خوب!
 

الف عین

لائبریرین
مطلع کا کچھ کرو بھئی، مزا نہیں آ رہا
خلا والے شعر کو بھی نکال ہی دیں
خبر ہے یہی کہ خبر کچھ نہیں ہے
کے 'کہ' کا کچھ کیا جائے ساتھ ہی اس کا بھی 'ہے' پر ختم ہونا
خبر بس یہی ہے. خبر اب نہیں کچھ
یا اس قسم کا کوئی مصرع!
 

زبیر صدیقی

محفلین
مطلع کا کچھ کرو بھئی، مزا نہیں آ رہا
خلا والے شعر کو بھی نکال ہی دیں
خبر ہے یہی کہ خبر کچھ نہیں ہے
کے 'کہ' کا کچھ کیا جائے ساتھ ہی اس کا بھی 'ہے' پر ختم ہونا
خبر بس یہی ہے. خبر اب نہیں کچھ
یا اس قسم کا کوئی مصرع!
استادِ گرامی - میں نے خود کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خیر، آپ کے رائے کے حساب سے، خلا والا شعر نکال دیا، مگر قافیے کو مطلع میں استعمال کر لیا۔ دیکھئے کہ کچھ شکل نکل رہی ہے کیا؟ پہلے تین اشعار کی ہئیت کچھ تبدیل ہو گئی ہے۔

جدا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے
خلا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

مکمل وفا تھا کوئی، اب مکمل
انا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

کہا جا رہا ہے کہ منظور میرا
کہا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

دوا کی طلب تھی جسے، درد وہ خود
دوا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

خبر ہے یہی کہ نہیں ہے خبر کچھ
یہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

بُلندی سے آ کے، یہ پستی کا آدم
خُدا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

بقا کے جتن کر لیے پھر بھی انساں
فنا ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

ہے دھوکا یہ ‘ہے’ کی شُماری کہ جو ہے
وہ ‘تھا’ ہو رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے

والسلام۔
 
Top