برائے اصلاح : درد پہچان ہی لیا جائے

زبیر صدیقی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 25, 2020

  1. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    السلام علیکم ۔تمام صاحبان اور محترم اساتذہ۔ ایک بار پھر ایک مسلسل غزل کے لیے زحمتِ نظر دے رہا ہوں۔ برائے مہربانی اپنی رائے سے نوازیں۔
    الف عین محمد خلیل الرحمٰن سید عاطف علی محمد احسن سمیع راحل

    درد پہچان ہی لیا جائے
    اب اِسے جان ہی لیا جائے

    درد تو ہیں جُدا جُدا سب کے
    اِس طرح مان ہی لیا جائے

    درد میں دردِ یار ہے شامل
    اب چلو چھان ہی لیا جائے

    اِس کی موجودگی کو جینے پر
    ایک احسان ہی لیا جائے

    اُنسیّت ہے مگر اسے کیوں نا
    کبھی انجان ہی لیا جائے

    کم یا زیادہ کی درجہ بندی کیوں
    درد طوفان ہی لیا جائے

    درد کو سہہ رہا ہے ہر کوئی
    مان آسان ہی لیا جائے

    زندگی ہو یا موت کا مضموں
    درد عنوان ہی لیا جائے

    بڑھ چلا ہے یہ میرے قد سے بھی
    اب اِسے تان ہی لیا جائے

    والسلام
     
  2. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,318
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کوئی حرج نہیں
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,318
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے چاروں اشعار درست ہیں، لیکن ان میں کچھ نہ کچھ سقم ہے
    اُنسیّت ہے مگر اسے کیوں نا
    کبھی انجان ہی لیا جائے
    ... ایک تو 'نا' کے استعمال پر مجھے ہمیشہ اعتراض ہوتا ہے، خیر اسے تو الفاظ بدل کر درست کیا جا سکتا ہے لیکن دوسرے مصرعے میں 'انجان لینا' درست محاورہ نہیں

    کم یا زیادہ کی درجہ بندی کیوں
    درد طوفان ہی لیا جائے
    .. زیادہ فعولن کے وزن پر ہے، یعنی عوامی تلفظ فعلن کے وزن پر نہیں، پیار اور پیاز کی طرح۔ لیکن دوسرا مصرع مہمل لگتا ہے

    درد کو سہہ رہا ہے ہر کوئی
    مان آسان ہی لیا جائے
    .. یہ دوسرا مصرع بھی بے معنی ہے، یا محاورے سے میں واقف نہیں

    زندگی ہو یا موت کا مضموں
    درد عنوان ہی لیا جائے
    .. شاید مراد ہے کہ درد کو بطور عنوان سمجھا جائے۔ یہ بھی بطور کے بغیر بے معنی لگتا ہے

    بڑھ چلا ہے یہ میرے قد سے بھی
    اب اِسے تان ہی لیا جائے
    .. شاید چادر کی طرح تاننے کی بات ہے، کچھ عجز بیان محسوس ہوتا ہے اس میں ۔ شاید قبول کیا جا سکے اسے
     
    • متفق متفق × 1
  5. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    بہت شکریہ - میں ان اشعار کو دیکھتا ہوں۔ ان شااللہ دوبارہ حاضر ہوں گا۔
     
  6. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    جی اچھا - شکریہ
     
  7. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    8,562
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    پیاز کی اصل ہندی نہیں بلکہ شاید فارسی ہے بر وزن فعول۔ لہذا اسے پیار کی طرح فول باندھنا اچھا نہیں لگے گا ۔
    جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
    اب ذرا یہ بھی دیکھیے کہ میں نے پیار کو فاع کے بجائے دانستہ فول کہا اس کی داد البتہ چاہوں گا ۔ :)
    ویسے اس والی مصرع میں سے بس "یا" کو منہا کردیں ۔ "کم زیادہ" بھی ٹھیک رہے گا۔
     
    • متفق متفق × 1
  8. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    محترم !
    یہ مسلسل غزل،مسلسل کئی بار پڑھی ۔بہت اچھی لگی ۔موضوع بہت شاندار ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 26, 2020
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    [​IMG]
    درد کو جان ہی لیا جائے
    اب اِسے مان ہی لیا جائے

    درد ہے غیر کا تو آج اِس کو
    اپنا گردان ہی لیا جائے

    اور پھر دردِ یار کا مطلب
    جینا آسان ہی لیا جائے

    گویا ہر درد زندگی کے سر
    مثلِ احسان ہی لیا جائے

    اِس شناسا کو آڑے ہاتھوں کبھی
    بن کے انجان ہی لیا جائے

    ہلکا بھاری نہیں بس اِس کو بطور
    ایک طوفان ہی لیا جائے

    سانس یہ درد کا ہی قرضہ ہے
    جو کہ ہر آن ہی لیا جائے

    زندگی کا لغاتِ ہستی سے
    درد عنوان ہی لیا جائے

    درد پھیلے تو اِک رِدا کی طرح
    سر پہ بس تان ہی لیا جائے
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 26, 2020
    • زبردست زبردست × 2
  10. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    السلام علیکم۔ چند تبدیلیوں کے ساتھ حاضر ہوں۔ ان کو ذرا دیکھ لیجئے۔ آپ کو "نا" پر اعتراض تھا، سو اس شعر کو غزل سے ہی نکال دیا، بلکہ آئندہ کے لیے بھی اپنی لغت سے کھرچ کر کہیں رکھ دیا ہے۔ :bashful:ابھی غزل کے اوائل چار اشعار کے سقم پر دھیان نہیں دیا۔ اگر درج ذیل کلام کسی معیار کا ہوا اور آپ صاحبان کے منظورِ نظر ہوا تو پھر ان شااللہ دیکھوں گا۔

    درد پہچان ہی لیا جائے
    اب اِسے جان ہی لیا جائے

    درد تو ہیں جُدا جُدا سب کے
    اِس طرح مان ہی لیا جائے

    درد میں دردِ یار ہے شامل
    اب چلو چھان ہی لیا جائے

    اِس کی موجودگی کو جینے پر
    ایک احسان ہی لیا جائے

    درد کو ممکناتِ آدم کی
    حدِّ امکان ہی لیا جائے


    کم ،زیادہ کی درجہ بندی کیوں۔۔۔۔۔۔ ( جناب سید عاطف علی کی اصلاح اپنا لی)
    مثلِ طوفان ہی لیا جائے ۔۔۔۔۔۔ ( جناب شکیل احمد خان23 ترکیب لے لی)

    درد سہتے ہیں سب تو کیا اِس کو ۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔| ہر کوئی سہہ رہا ہے تو آساں
    مان، آسان ہی لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔| کیا اسے مان ہی لیا جائے ( "مان، آسان ہی لیا جائے" میں تعقید کا مسئلہ ہے اگر اس کی اجازت ہو تو یہ میری ترجیح ہے- اگر دیگر خامیاں نہ ہوں)

    درد کو آگہی کے مضموں پر ۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔| موت یا زندگی کے قصّے کا
    بہرِ عنوان ہی لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔| درد عنوان ہی لیا جائے ( میں متفق ہوں کہ "بطور" آنا چاہیے، کیا پہلے مصرعے میں "قصے کا" یہ مسئلہ حل کر رہا ہے؟)

    پھیل جائے جو آسماں کی طرح
    پھر اِسے تان ہی لیا جائے


    والسلام
     
  11. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    سبحان اللہ۔ کیا خوب کلام کہا۔ مجھے تو اب اپنے آپ سے شرم آ رہی ہے۔ کیا خوب تراکیب باندھی ہیں آپ نے۔ یہ سب واقعی میرے بس کی بات نہیں۔ ہاں آخری شعر میں پھیلنے کی بات میں نے بھی کہہ دی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے
     
    • زبردست زبردست × 1
  12. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    بہت شکریہ جناب رہنمائی کا۔ آپ اصلاح اتنی آسان تھی کہ میں نے فوراً پکڑ لی۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    زبیر صاحب!
    السلام علیکم ! واللہ باللہ ،آپ یا کسی کو بھی شرمندہ کرنا منظور نہیں ۔سیکھنے سکھانے کے اس عمل میں ایک دوسرے کی ،جہاں تک ہو سکے مدد کرنا مقصود ہے:
    درد پہچان ہی لیا جائے
    اب اِسے جان ہی لیا جائے

    درد تو ہیں جدا جدا سب کے
    اس طرح مان ہی لیا جائے

    درد میں دردِ یار ہے شامل
    جس کو اب چھان ہی لیا جائے

    ہے شناسا تو کیا ہوا اِس کو
    کبھی انجان ہی لیا جائے

    کم یا زائد یہ بے ضرر بھی نہیں۔۔۔۔یا ۔۔۔کم کہ زائد یہ بے ضرر بھی نہیں
    اِس کو طوفان ہی لیا جائے

    اِس کے ہونے کو زندگی کے لیے
    ایک احسان ہی لیا جائے

    درد سہنا ہے ہر کسی کو یہاں
    درد کو مان ہی لیا جائے

    زندگی ہو کہ موت اِس کا مگر
    درد عنوان ہی لیا جائے

    پھیل جائے تو سائباں کی طرح
    سر پہ یہ تان ہی لیا جائے

    [​IMG]
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 28, 2020
  14. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    آپ نے صحیح کہا۔ اور یقیناً میں مزید سیکھوں گا۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے ماشااللہ سے کتنی سہولت کے ساتھ مضمون باندھ دیے اور یہی آسانی کی ہی خدا تعالی سے طلب ہے۔ اللہ آپ کو اور روانی دے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  15. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت بہت شکریہ ۔اِس نئی پوسٹ پر رائے دیجیے گا ۔تمام اشعار آپ کے ہیں ،کہیں کہیں الفاظ کی ترتیب بدلی ہے اور ایک آدھ لفظ شاید اضافہ کیا ہے اور یہ سب کچھ ایک ادنی ٰ سے طالبِ علم کے طور پر کیا ۔اساتذہ کرام کی رہنمائی کا شدت سے میں بھی محتاج ہوں ۔اُن کی موجودگی اور سرپرستی ، آپ کی طرح مجھے بھی حوصلہ دیتی ہے ۔خدا اُنہیں سلامت رکھے ،آمین ،والسلام علیکم و رحمتہ اللہ!
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 28, 2020
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,318
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے زبیر میاں کے اپنے اشعار...

    کم یا زائد یہ بے ضرر بھی نہیں۔۔۔۔یا ۔۔۔کم کہ زائد یہ بے ضرر بھی نہیں
    اِس کو طوفان ہی لیا جائے
    ... کوئی صورت ماننے کو دل نہیں مان رہا!

    اِس کے ہونے کو زندگی کے لیے
    ایک احسان ہی لیا جائے
    .. درست بلکہ خوب

    درد سہتے ہیں سب تو کیا اِس کو ۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔| ہر کوئی سہہ رہا ہے تو آساں
    مان، آسان ہی لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔| کیا اسے مان ہی لیا جائے ( "مان، آسان ہی لیا جائے" میں تعقید کا مسئلہ ہے اگر اس کی اجازت ہو تو یہ میری ترجیح ہے- اگر دیگر خامیاں نہ ہوں)
    .... کوئی متبادل مجھے تو قابلِ قبول نہیں لگ رہا

    درد کو آگہی کے مضموں پر ۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔| موت یا زندگی کے قصّے کا
    بہرِ عنوان ہی لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔| درد عنوان ہی لیا جائے ( میں متفق ہوں کہ "بطور" آنا چاہیے، کیا پہلے مصرعے میں "قصے کا" یہ مسئلہ حل کر رہا ہے؟)
    .. موت یا زندگی کے قصے کا
    درد عنوان ہی.....
    بہتر ہو گا

    پھیل جائے جو آسماں کی طرح
    پھر اِسے تان ہی لیا جائے
    .. درست، شکیل کے سائبان کی بہ نسبت آسمان مجھے زیادہ پسند آیا
     
    • زبردست زبردست × 1
  17. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    محترم استاد گرامی - معلوم ہوتا ہے کہ مراسلے گڈمڈ ہو گئے ہیں۔ پہلے دو ادشعار محترم شکیل صاحب کے تھے۔ میرا ایک نیا شعر آپ سے شاید نظر انداز ہو گیا ہے۔ اخیر کے تین میری ناقص کوشش تھی۔ جو آپ کو پسند نہیں تھا، نکال دیا ہے۔ میں دوبارہ اپنی کوشش آپ کے حضور رکھ رہا ہوں۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ قیمتی وقت نکال کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ ورنہ "جنہیں جلنے کی حسرت ہو وہ پروانے کہاں جائیں"

    درد پہچان ہی لیا جائے
    اب اِسے جان ہی لیا جائے

    درد تو ہیں جُدا جُدا سب کے
    اِس طرح مان ہی لیا جائے

    درد میں دردِ یار ہے شامل
    اب چلو چھان ہی لیا جائے

    اِس کی موجودگی کو جینے پر
    ایک احسان ہی لیا جائے

    درد کو ممکناتِ آدم کی
    حدِّ امکان ہی لیا جائے

    کم ،زیادہ کی درجہ بندی کیوں
    مثلِ طوفان ہی لیا جائے

    موت یا زندگی کے قصّے کا
    درد عنوان ہی لیا جائے

    پھیل جائے جو آسماں کی طرح
    پھر اِسے تان ہی لیا جائے
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,318
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    واقعی، میں نے نصف مراسلے میں شکیل میاں کے اشعار کاپی کر دیے تھے!
    اِس کی موجودگی کو جینے پر
    ایک احسان ہی لیا جائے
    ...
    درد کو ممکناتِ آدم کی
    حدِّ امکان ہی لیا جائے
    ان دونوں اشعار میں ابلاغ کا مسئلہ بہرحال ہے

    کم ،زیادہ کی درجہ بندی کیوں
    مثلِ طوفان ہی لیا جائے
    ... عجز بیان اس میں بھی، محض اس لیے فرض کیا جا سکتا ہے کہ درد کی بات ہو رہی ہو گی، اور اسی کے بارے میں کہا جا رہا ہے ۔ مسلسل غزل میں بھی یہ نظم رکھا جاتا ہے کہ الگ الگ شعر بھی سمجھ میں آ جائے

    موت یا زندگی کے قصّے کا
    درد عنوان ہی لیا جائے
    ... ٹھیک ہے

    پھیل جائے جو آسماں کی طرح
    پھر اِسے تان ہی لیا جائے
    .. درد یہاں بھی محض فرض کیا جاتا ہے، ویسے درست ہے
     
    • زبردست زبردست × 1
  19. زبیر صدیقی

    زبیر صدیقی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    محترم استاد گرامی۔ بہت ممنون ہوں آپ کی اصلاح کا۔ کچھ اشعار ترمیم اور کچھ حذف کرنے کے بعد کی شکل ملاحظہ ہو۔

    درد پہچان ہی لیا جائے
    اب اِسے جان ہی لیا جائے

    درد تو ہیں جُدا جُدا سب کے
    اِس طرح مان ہی لیا جائے

    درد میں دردِ یار ہے شامل
    اب چلو چھان ہی لیا جائے

    درد ہونے کو زندگانی پر
    ایک احسان ہی لیا جائے

    درد میں کم ،زیادہ کیوں، اس کو
    مثلِ طوفان ہی لیا جائے

    موت یا زندگی کے قصّے کا
    درد عنوان ہی لیا جائے

    پھیل جائے جو آسماں کی طرح
    پھر اِسے تان ہی لیا جائے
    یا
    درد پھیلے جو آسماں کی طرح
    پھر اسے تان ہی لیا جائے

    و السلام۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,318
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب اشعار قابل قبول لگ رہے ہیں
    درد پھیلے جو آسماں کی طرح
    پھر اسے تان ہی لیا جائے
    یقیناً بہتر ہے
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر