منیر نیازی

  1. سیما علی

    ہمیشہ دیر کردیتا ہوں ! منیر نیازی

  2. سیما علی

    منیر نیازی ۔۔۔کلام شاعر بزبان شاعر

  3. سیما علی

    منیر نیازی بیمار گلاب

    بیمار گلاب ۔۔۔۔۔۔ لال گلاب کے پھول تجھے تو روگ لگا ہے وہ کیڑا جو شور مچاتے طوفانوں میں رات کو اڑتا پھرتا ہے اور آنکھ سے اوجھل رہتا ہے اس نے تیری خوشیوں کا رنگیلا بستر دیکھ لیا ہے اس کی بھید بھری چاہت نے تن من تیرا پھونک دیا ہے ………………….. (ولیم بلیک کی نظم
  4. سیما علی

    منیر نیازی رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا

    رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا اتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اس طرح کا جو دیکھا نہیں ہوا مشکل ہوا ہے رہنا ہمیں اس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہوا وہ کام شاہ شہر سے یا شہر سے ہوا جو کام بھی ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا ملنا تھا ایک بار...
  5. سیما علی

    منیر نیازی قرار ہجر میں اس کے شراب میں نہ ملا

    قرار ہجر میں اس کے شراب میں نہ ملا وہ رنگ اس گل رعنا کا خواب میں نہ ملا عجب کشش تھی نظر پر سراب صحرا سے گہر مگر وہ نظر کا اس آب میں نہ ملا بس ایک ہجرت دائم گھروں زمینوں سے نشان مرکز دل اضطراب میں نہ ملا سفر میں دھوپ کا منظر تھا اور سائے کا اور ملا جو مہر میں مجھ کو سحاب میں نہ ملا...
  6. فرحان محمد خان

    منیر نیازی دیکھا ہی نہیں خواب دلآراز سے آگے -منیر نیازی

    دیکھا ہی نہیں خواب دلآراز سے آگے سوچا ہی نہیں ہم نے غمِ یار سے آگے ہے مسکنِ خوباں کہ کوئی عالمِ ہُو ہے موجود ہے کیا سایہِ دیوار سے آگے اک حرفِ تاسف ہی تھا انجام مسلسل افسوس تھا آغاز کے اقرار سے آگے آتا ہی نہیں یاد جو ہے یاد سے پیچھے کچھ وہم سے ہیں ثابت و سیار سے آگے دیدارِ رخِ یار کوئی پردہ...
  7. فرخ منظور

    بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا ۔ پرویز مہدی

    بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا...
  8. فرحان محمد خان

    منیر نیازی یہ لڑکی جو اس وقت سرِ بام کھڑی ہے-منیر نیازی

    یہ لڑکی جو اس وقت سرِ بام کھڑی ہے اُڑتا ہوا بادل ہے کہ پھولوں کی لڑی ہے شرماتے ہوئے بندِ قبا کھولے ہیں اس نے یہ شب کے اندھیروں کے مہکنے کی گھڑی ہے اک پیرہنِ سُرخ کا جلوہ ہے نظر میں اک شکل نگینے کی طرح دل میں جڑی ہے کھلتا تھا کبھی جس میں تمنّا کا شگوفہ کھڑکی وہ بڑی دیر سے ویران پڑی ہے طاؤس...
  9. فرحان محمد خان

    منیر نیازی شبِ وصال میں دُوری کا خواب کیوں آیا

    شبِ وصال میں دُوری کا خواب کیوں آیا کمالِ فتح میں یہ ڈر کا باب کیوں آیا دلوں میں اب کے برس اتنے وہم کیوں جاگے بلادِ صبر میں اب اضطراب کیوں آیا ہے آب گل پہ عجیب اس بہارِ گزراں میں چمن میں اب کے گلِ بے حساب کیوں آیا اگر وہی تھا تو رخ پہ وہ بے رخی کیا تھی ذرا سے ہجر میں یہ انقلاب کیوں آیا بس...
  10. عبداللہ محمد

    منیر نیازی اُس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا

    اُس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا اک اور شہرِ یار میں آنے نہیں دیا کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں تیرے لیے تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا منزل ہے اِس مہک کی کہاں کس چمن میں ہے اِس کا پتہ سفر میں ہوا نے نہیں دیا روکا انا نے کاوشِ بے سود سے مجھے اُس بُت کو اپنا حال سنانے نہیں دیا ہے جس کے بعد...
  11. طارق شاہ

    منیر نیازی :::::: گُھپ اندھیرے میں چُھپے سُوئے بنوں کے اور سے ::::: Munir Niaz

    غزل گُھپ اندھیرے میں چُھپے سُوئے بنوں کے اور سے گیت برکھا کے سُنو ، رنگوں میں ڈُوبے مور سے شام ہوتے ہی دِلوں کی بے کلی بڑھنے لگی ڈررہی ہیں گوریاں چلتی ہَوا کے زور سے رات کے سُنسان گُنبد میں رچی ہے راس سی پہرے داروں کی صداؤں کے طلِسمی شور سے لاکھ پلکوں کو جُھکاؤ ، لاکھ گھونگھٹ میں چُھپو...
  12. طارق شاہ

    منیر نیازی :::::: کُھل گئے ہیں بہار کے رستے :::::: Munir Niaz

    غزل کُھل گئے ہیں بہار کے رستے ایک دِلکش دیار کے رستے ہم بھی پہنچے کسی حقیقت تک اِک مُسلسل خُمار کے رستے منزلِ عِشق کی حدوں پر ہیں دائمی اِنتظار کے رستے اُس کے ہونے سے یہ سفر بھی ہے سارے رستے ہیں یار کے رستے جانے کِس شہر کو مُنؔیر گئے اپنی بستی کے پار کے رستے مُنؔیر نیازی
  13. طارق شاہ

    منیر نیازی :::::: آگئی یاد، شام ڈھلتے ہی :::::: Munir Niazi

    غزل آگئی یاد، شام ڈھلتے ہی بُجھ گیا دِل چراغ جلتے ہی کُھل گئے شہرِِغم کے دروازے اِک ذرا سی ہَوا کے چلتے ہی کون تھا تُو، کہ پھر نہ دیکھا تُجھے مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے ماہِ شب تاب کے نِکلتے ہی تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے عکسِ دِیوار کے بدلتے ہی خُون سا لگ گیا ہے...
  14. طارق شاہ

    منیر نیازی :::::: قرار، ہجر میں اُس کے شراب میں نہ ملِا :::::: Munir Niazi

    غزل قرار، ہجر میں اُس کے شراب میں نہ ملِا وہ رنگ اُس گلِ رعنا کا، خواب میں نہ ملِا عجب کشش تھی نظر پر سرابِ صحرا سے گُہر مگر وہ نظر کا اُس آب میں نہ ملِا بس ایک ہجرتِ دائم گھروں، زمینوں سے نشانِ مرکزِ دِل اِضطراب میں نہ ملِا سفر میں دُھوپ کا منظر تھا اور ،سائے کا اور مِلا جو مہر میں مجھ کو،...
  15. شیزان

    منیر نیازی ہم زبان میرے تھے ، اُن کے دل مگر اچھے نہ تھے

    ہم زبان میرے تھے ، اُن کے دل مگر اچھے نہ تھے منزلیں اچھی تھیں، میرے ہم سفر اچھے نہ تھے جو خبر پہنچی یہاں تک اصل صورت میں نہ تھی تھی خبر اچھی مگر اہل خبر اچھے نہ تھے بستیوں کی زندگی میں بے زری کا ظلم تھا لوگ اچھے تھے ، وہاں کے اہلِ زر اچھے نہ تھے ہم کو خوُباں میں نظر آتی تھیں کتنی خوُبیاں جس...
  16. چوہدری لیاقت علی

    منیر نیازی راستے کی تھکن

    راستے کی تھکن آس پاس کوئی گاؤں نہ دریا اور بددیا چھائی ہے شام بھی جیسے کسی پرانے سوگ میں ڈوبی آئی ہے پل پل بجلی چمک رہی ہے اور میلوں تنہائی ہے کتنے جتن کئے ملنے کو پھر بھی کتنی دوری ہے چلتے چلتے ہار گیا میں پھر بھی راہ ادھوری ہے گھائل ہے آواز ہوا کی اور دل کی مجبوری ہے
  17. غدیر زھرا

    منیر نیازی میرا اصل وجود

    میرا تے بس ایناں ای کُجھ اے حصہ اپنے آپ دے وچ جناں رات دے سُنن والے دا بھارے پَیر دی چاپ دے وچ (منیر نیازی)
  18. سید فصیح احمد

    منیر نیازی وصال کی خواہش

    کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں جو دل میں پوشیدہ ہیں سارے روپ دکھا دے مجھ کو جو اب تک نادیدہ ہیں ایک ہی رات کے تارے ہیں ہم دونوں اس کو جانتے ہیں دوری اور مجبوری کیا ہے اس کو بھی پہچانتے ہیں کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے کیوں یہ بندھن ٹوٹا ہے یا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میں یا میرا غم جھوٹا ہے
  19. ماہی احمد

    ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔۔۔

  20. فلک شیر

    گلاں منیر نیازی دیاں ..............تنویر ظہور

    منیر نیازی اک عہد ساز تے جادو بھری شخصیت سن۔ اوہناں اپنی شاعری دے ذریعے پاکستان ہی نہیں سگوں دوجے ملکاں وچ رہن والے لوکاں دے دلاں تے حکمرانی کیتی۔ مشاعرہ ہوندا یاں ادبی محفل، منیر نیازی دی موجودگی اوس محفل نوں نویکلا بنا دیندی۔ عام تے سجناں دی محفل وچ اوہ جیہڑیاں گلاں کر دے اوہ رمز بھریاں...
Top