ملک عدنان احمد

  1. ملک عدنان احمد

    ہو نہیں پایا وہ جو ہونا تھا - ملک عدنان احمد

    ہو نہیں پایا، وه جو ہونا تھا اور ہوا وه، جسے نہ ہونا تھا وه تعلق بھی اب نہیں باقی جو مرا اوڑھنا بچھونا تھا سرو قامت جسے میں سمجھا تھا اصل میں وه تو ایک بونا تھا یوں ہی لکھا ہوا تھا قسمت میں تم نے ہنسنا تھا میں نے رونا تھا تو نے مہلت ہی دی نهیں ورنہ خود کو تجھ میں ابھی سمونا تھا چند لمحوں کی...
  2. ملک عدنان احمد

    میں مطمئن تھا کہ میں نے تجھ کو اب اپنے دل سے مٹادیا ہے

    میں مطمئن تھا کہ میں نے تجھ کو اب اپنے دل سے مٹادیا ہے نجانے کل رات کیوں تری یاد نے مجھے پھر رلا دیا ہے یہ ضبط ہے یا کہ ہے تغافل، میں کشمکش میں ہوں تم بتاؤ میں یاد آتا ہوں تم کو اب بھی، یا تم نے سچ مچ بھلا دیا ہے وہ خشک پتوں کی چرچراہٹ، ہوا کی سازش تھی یا کہ تم تھے وہ تم نہیں تھے تو کس کی آہٹ نے...
  3. ملک عدنان احمد

    گرچہ گھیرے ہوئے ہے گردشِ ایام ابھی

    مجھ کو گھیرے ہوئے ہے گردشِ ایام ابھی سرخرو گر میں نہیں ، تو نہیں ناکام ابھی دل کی جاگیر پہ قبضہ ہے تری یادوں کا عہدِ الفت پہ بھی باقی ہے ترا نام ابھی پھر سے بھجوادیے کیوں طعنوں کے گجرے تم نے جب کہ تازہ تھا وہ گلدستہءِ دشنام ابھی اتنی جلدی بھی کہاں درد مجھے چھوڑے گا زخم تازہ ہے کہاں آئے گا...
  4. ملک عدنان احمد

    نہیں کہ جینے کی حسرت نہیں رہی مجھ میں-ملک عدنان احمد

    نہیں کہ جینے کی حسرت نہیں رہی مجھ میں ابھی بھی شور مچاتی ہے زندگی مجھ میں ترے وجود سے ہوتی تھی روشنی مجھ میں تو کیا گیا ہے کہ اک لَو سی بجھ گئی مجھ میں خزاں رسیدہ شجر ہوں میں، تُو بہار سی آ مبادا پھوٹ پڑیں کونپلیں نئی مجھ میں تری نظر میں وہ شوخی بھی اب کہاں باقی کہاں رہا ہے بھلا بانکپن وہی...
  5. ملک عدنان احمد

    کر نہ بے رحم سمندر کےحوالے مجھ کو-ملک عدنان احمد

    کر نہ بے رحم سمندر کےحوالے مجھ کو ڈوبتا جاتا ہوں اے دوست بچالے مجھ کو یوں تو منزل سے ہے دو چار قدم کی دوری بس کہ روکے ہوئے ہیں پاؤں کے چھالے مجھ کو سر پہ چھت بھی نہیں ہے عشق بھی کرنا ہے مجھے اس غریبی میں بھی ہیں شوق نرالےمجھ کو بے وفائی کاکبھی جب بھی کہیں ذکر آیا یاد آئے تری چاہت کے حوالے مجھ...
  6. ملک عدنان احمد

    افسانچہ-زیرِ لب

    اللہ تیرا شکر ہے۔ جان بچ گئی۔۔" احمر نے بائیک سنبھالتے ہوئے دل ہی دل میں کہا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ پچھلے 5 ماہ میں یہ تیسری بار تھی جب اس کا موٹر سائیکل حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچا تھا۔ لیکن آج کا واقعہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا۔ پچھلے دونوں واقعات کو تو اس نے کسی کھاتے میں نہیں رکھا...
  7. ملک عدنان احمد

    آنکھوں والے ! آنکھیں بڑی نعمت ہیں-افسانہ

    صبح کے 6 بجے ، جب لاہور کے اس گنجان آباد علاقے میں مرغانِ سحر اور چند بندگانِ خدا کے سوا کوئی جاگا نہیں تھا، یہ صدا تقریبا" روز سنائی دیتی تھی۔ "آنکھوں والے! آنکھیں بڑی نعمت ہیں" لیکن اس روز ان جاگنے والوں میں ایک ایسا نوجوان بھی تھا جو پچھلے دو ہفتوں سے روزانہ رات باوجود نیند کی گولیاں کھانے...
  8. ملک عدنان احمد

    دیکھو تو مرا حال ذرا آنکھ اٹھا کے-ملک عدنان احمد

    دیکھو تو مرا حال ذرا آنکھ اٹھا کے کیا پاؤ گے مجھ ایسے کو مٹی میں ملا کے حیرت ہے کہ وہ موج میں آیا ہوا دریا خوش ہے مرے چھوٹے سے گھروندے کو گرا کے یہ درد و مصائب ہیں کہ آنسو ہیں کہ آہیں وہ یار مجھے دے کے گیا بدلے وفا کے تب سے دلِ تاریک منور ہے ابھی تک گذرا تھا وہ خورشید بس اک چھب سی دکھا کے...
  9. ملک عدنان احمد

    یہاں تک کیسے پہنچایا گیا ہوں-ملک عدنان احمد

    یہاں تک کیسے پہنچایا گیا ہوں میں خود آتا کہاں، لایا گیا ہوں جو اب دہکا ہوا ہوں، یہ نہ دیکھو یہ پوچھو کب سے سلگایا گیا ہوں میں سچ کہنے سے گھبرانے لگا ہوں میں اتنی بار جھٹلایا گیا ہوں وہ آئینہ ہوں، سب منہ پھیر بیٹھے میں جس جس کو بھی دکھلایا گیا ہوں کھلونے ہجر کے، فرقت کے دے کر طریقے سے میں...
  10. ملک عدنان احمد

    بانہوں میں یوں وہ حسن کا پیکر پڑا رہا-ملک عدنان احمد

    بانہوں میں یوں وہ حسن کا پیکر پڑا رہا صحرا کے بیچ جیسے سمندر پڑا رہا اسکو چھوا تھا خواب میں پل بھر کو اور پھر شب بھر مرا وجود معطر پڑا رہا خوش فہمیوں میں پڑ ہی گیا وہ بھی ایک دن ہیروں کے درمیان جو کنکر پڑا رہا مدت ہوئی تھی خود سے ہی مجھ کو ملے ہوئے کل رات خود میں اپنے ہی در پر پڑا رہا اے...
  11. ملک عدنان احمد

    نغمہءِ بے صدا-ملک عدنان احمد

    فقط ایک "نغمہءِ بے صدا" فقط ایک جذبہءِ بے ریاء کسی کان نے جو سنا نہیں کسی آنکھ کو جو دِکھا نہیں وہ تجھے سنائی بھی دے تو کیوں؟ وہ تجھے دکھائی بھی دے تو کیوں؟ مرے ہم نشیں، مرے ہم نوا! مری ذات سے تری ذات تک یہ جو ہاتھ بھر کا ہے فاصلہ یہ ہے دلدلوں سے بھرا پڑا کئی راہزن بھی ہیں گھات میں مرے رہنما...
  12. ملک عدنان احمد

    بے خود نہیں رہا ہے یہ پاگل نہیں رہا-ملک عدنان احمد

    بے خود نہیں رہا ہے یہ پاگل نہیں رہا دل جب تمہاری یاد سے بوجھل نہیں رہا رس گھولتا رہا ہے جو کانوں میں کل تلک اب کے برس وہ لہجہ بھی صندل نہیں رہا روئی ہو رات بھر، نہیں سوئی ہو رات بھر کل شام تھا جو آنکھ میں کاجل، نہیں رہا سوکھا پڑا ہوا ہے مرا دشتِ تشنگی اب مجھ پہ مہربان وہ بادل نہیں رہا قاصد...
  13. ملک عدنان احمد

    لرزہ سا اِک بدن میں سِرکتا چلا گیا-ملک عدنان احمد

    لرزہ سا اِک بدن میں سِرکتا چلا گیا دِل بھی کچھ ایسا مچلا، دھڑکتا چلا گیا آیا وہ جب تو ایسی معطّر ہوئی فضا گلشن کا کونہ کونہ مہکتا چلا گیا پھولوں میں ایسی آگ لگی اُس کے روپ سے شعلہ سا اک چمن میں بھڑکتا چلا گیا اِک ایک بل پہ قتل ہوئے درجنوں، پَہ وہ مانندِشاخِ نرم لہکتا چلا گیا اُن کی نظر سے...
  14. ملک عدنان احمد

    بے رخی کام کر گئی جاناں- ملک عدنان احمد

    بے رخی کام کر گئی جاناں تُو بھی دل سے اتر گئی جاناں میں جسے زندگی سمجھتا تھا وہ محبت بھی مر گئی جاناں زندگی، میں نے کب گزاری ہے زندگی، بس گزر گئی جاناں یاد سیلاب بن کے گزری ہے آنکھ اشکوں سے بھر گئی جاناں توُ تو بے باک تھی، نڈر تھی توُ تُو بھلا کیسے ڈر گئی جاناں؟ اُس کو دیوانہ کر کے چھوڑ دیا...
  15. ملک عدنان احمد

    بارشوں کے موسم میں

    بارشوں کے موسم میں بھیگنا یہ آنکھوں کا اور یاد آجانا بھولی بسری باتوں کا بے سبب اداسی سی ذہن و دل پہ چھا جائے ایسے پیارے موسم میں جب کسی کی یاد آئے ایسے ہی تو موسم میں جب وہ مجھ سے روٹھا تھا جاتے جاتے بس یونہی اس سے میں نے پوچھا تھا: "جانِ جاں کبھی تم کو میں بھلا نہ پاؤں گا تم بتاؤ کیا میں...
  16. ملک عدنان احمد

    دعائیہ نظم - ملک عدنان احمد

    تمہارے ہونٹوں کی مسکراہٹ کو دیکھ کر ہی میں جی رہا ہوں بس آج کہہ دوں کہ ایک مدت سے اپنے ہونٹوں کو سی رہا ہوں تمہی کو سونپی ہے یہ محبت ، تمہاری ہیں یہ وفائیں میری خدا سے میری دعا ہے لگ جائیں تم کو ساری دعائیں میری تمہارے حصے میں ہر خوشی ہو، تمہیں ملے دو جہاں کی راحت تمہارے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجی...
  17. ملک عدنان احمد

    جا کر کوئی طیبہ میں یہ آقا کو بتائے

    خالد حسنین خالد کی پڑھی گئی نعت "جا کر کوئی طیبہ میں یہ آقا کو بتائے" کی طرح پر چند اشعار: "جا کر کوئی طیبہ میں یہ آقا کو بتائے گزرے ہوئے لمحوں کی بہت یاد ستائے" جب سے سوئے بطحا کا یہ شیدائی ہوا ہے تب سے دلِ بے تاب کہیں چین نہ پائے مجھ سے کوئی یہ مال، یہ دولت سبھی لے کر لوٹا دے وہ پل جو تھے...
  18. ملک عدنان احمد

    گرتی ہوئی دیوار گرانے نہیں آیا

    گرتی ہوئی دیوار گرانے نہیں آیا اک آخری دھکا وہ لگانے نہیں آیا پہلو میں رقیبوں کو لیے میری گلی میں اس عید پہ وہ مجھ کو جلانے نہیں آیا قاتل ہے وہ ساحل پہ کھڑا شخص کہ جس نے فریاد سنی میری، بچانے نہیں آیا آؤ کہ ستم گر کا کچھ احوال تو پوچھیں کچھ روز سے کیوں دل وہ دکھانے نہیں آیا؟ مغموم ہیں کلیاں...
  19. ملک عدنان احمد

    صاحبزادہ اور لائسنس

    میں سوچ رہا تھا عمر کافی ہو گئی اب ڈرائیونگ لائسنس بنوا ہی لوں۔ کئی دن سے جانے کی تیاری کرتا ہوں لیکن کوئی نہ کوئی ایسی مصروفیت سامنے آجاتی ہے کہ جانا نہیں ہو پاتا۔ ایک دوست کی منت کی کہ یار تم ساتھ چلو کسی روز اس فرض سے سبکدوش ہو آیا جائے۔ دوست کہنے لگا یار کاش یہ صاحبزادہ کہلانے والی سہولت ہر...
  20. ملک عدنان احمد

    طویل نظم- شکوہ بنامِ محبوب

    میں نے ہر سانس کو تیری ہی امانت سمجھا اس امانت میں خیانت بھی تو کر سکتا تھا دل میں اک تیری ہی چاہت کو بسائے رکھا میں کسی اور کی چاہت بھی تو کر سکتا تھا تو سمجھتا ہے تجھے بھول چکا ہوں میں بھی تیری خوش فہمی، مری جان!مبارک ہو تجھے جس کو لے کر تُو ہواؤں میں اُڑا پھرتا ہے چاہتِ نوَ کا وہ پیمان مبارک...
Top