جوش ملیح آبادی

  1. طارق شاہ

    جوش ملیح آبادی :::::پِھر سُوئے عقل، جوشِؔ سُخن داں کب آئے گا::::: Josh -Maleehabadi

    جوشؔ مَلِیح آبادی پِھر سُوئے عقل، جوشِؔ سُخن داں کب آئے گا کنعاں کی سمت، یوسفِ کنعاں کب آئے گا صُبحِ وَطن کے خیمۂ افسُردہ کی طرف وہ، پائمالِ شامِ غرِیباں کب آئے گا پِھر نجدِیوں کے دشت سے، یُونانِیوں کی سمت وہ شاعرِ مُدبِّرِ دَوراں کب آئے گا سُونی پڑی ہے سَلطَنَتِ عِلم و آگَہی پِھر اِس طرف،...
  2. منہاج علی

    جوش ملیح آبادی۔ ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو۔ (غزل)

    ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو اک آہ تو نکلے توڑ کے دل نغمے نہ سہی جھنکار تو ہو ہر سانس میں صدہا نغمے ہیں ہر ذرے میں لاکھوں جلوے ہیں جاں محوِ رموزِ ساز تو ہو دل جلوہ گہِ انوار تو ہو شاخوں کی لچک ہر فصل میں ہے ساقی کی جھلک ہر رنگ میں ہے ساغر کی کھنک ہر ظرف میں ہے مخمور تو ہو...
  3. طارق شاہ

    جوش ؐملیح آبادی:::::بہار آئی ہے کُچھ بے د،لی کا چارہ کریں:::::Josh Malihabadi

    غزل بہار آئی ہے کُچھ بے دِلی کا چارہ کریں چمن میں آؤ حریفو ! کہ اِستخارہ کریں شرابِ ناب کے قُلزُم میں غُسل فرمائیں کہ آبِ مُردۂ تسنِیم سے غرارہ کریں جُمود گاہِ یخ و زمہرِیر ہی میں رہیں کہ سیرِ دائرۂ شُعلہ و شرارہ کریں حِصارِ صومِعہ کے گِرد ، سعی فرمائیں کہ طوفِ کعبہ رِندِ شراب خوارہ...
  4. فہد اشرف

    جوش نظم: تقاضائے سرد مہری

    جوش ملیح آبادی "یادوں کی برات' میں اس نظم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ— ”اب میں اپنی انوکھی نظم پیش کر رہا ہوں جس کی دنیائے شاعری میں کوئی نظیر ہی نہیں ملتی اور میں دعوے کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ جب سے اس کرۂ ارض پر شاعری کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے لے کر آج کی تاریخ کی تاریخ تک کا ایک مصرع بھی دنیا کی...
  5. فرخ منظور

    جوش حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے ۔ جوش ملیح آبادی

    حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت، نہ فلک پر خدا سنے فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ لیکن نہ گل، نہ غنچہ، نہ بادِ صبا سنے خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورشِ حیات درد آشنا کی بات، نہ درد آشنا سنے شاہوں...
  6. فرحان محمد خان

    جوش دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھی

    دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھی ہر طرف دیکھ لیا جب تری صورت دیکھی آئے اور اک نگۂ خاص سے پھر دیکھ گئے جبکہ آتے ہوئے بیمار میں طاقت دیکھی قوتیں ضبط کی ہر چند سنبھالے تھیں مجھے پھر بھی ڈرتے ہوئے میں نے تری صورت دیکھی محفلِ حشر میں یہ کون ہے میرِ مجلس یہ تو ہم نے کوئی دیکھی ہوئی صورت...
  7. فرحان محمد خان

    جوش صبح بالیں پہ یہ کہتا ہوا غم خوار آیا

    صُبح بالِیں پہ یہ کہتا ہُوا غمخوار آیا ! اُٹھ ،کہ فریاد رَسِ عاشِقِ بیمار آیا بختِ خوابیدہ گیا ظُلمَتِ شب کے ہمراہ صُبح کا نوُر لِیے دَولَتِ بیدار آیا خیر سے باغ میں پِھر غُنچۂ گُل رنگ کھُلا شُکر ہے دَور میں پِھر ساغَر ِسرشار آیا جُھوم ،اے تشنۂ گُل بانگِ نگار ِعِشرت کہ لَبِ یار لِیے...
  8. طارق شاہ

    جوش ملیح آبادی :::::: جو بادشاہ، پُرسِشِ حالِ گدا کرے ::::::Josh Maleehabadi

    غزل جو بادشاہ، پُرسِشِ حالِ گدا کرے اُس پر کبھی زوال نہ آئے خُدا کرے حاصِل اگر ہو وحدَتِ نَوعِ بَشر کا عِلم تو پِھر عَدُوئے جاں سے بھی اِنساں وَفا کرے میرا بُرا جو چاہ رہا ہے، بہر نَفَس اللہ ہر لِحاظ سے، اُس کا بَھلا کرے ہم ساکنانِ کُوئے خرابات کی طرح یارب! کبھی فقِیہ بھی ترکِ رِیا کرے...
  9. طارق شاہ

    جوش ملیح آبادی :::::کیا رُوح فزا جلوۂ رُخسارِ سَحر ہے::::: Josh Maleehabadi

    جوؔش ملیح آبادی مناظرِ سَحَر کیا رُوح فزا جلوۂ رُخسارِ سَحر ہے کشمیر دلِ زار ہے، فِردَوس نظر ہے ہر پُھول کا چہرہ عَرَقِ حُسن سے تر ہے ہر چیز میں اِک بات ہے، ہر شے میں اَثر ہے ہر سمت بَھڑکتا ہے رُخِ حُور کا شُعلہ ہر ذرّۂ ناچِیز میں ہے طُور کا شُعلہ لرزِش وہ سِتاروں کی، وہ ذرّوں کا تبسّم...
  10. طارق شاہ

    جوش ملیح آبادی :::::یہ دُنیاذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے ::::: Josh Maleehabadi

    جوؔش ملیح آبادی یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہو تی ہے یہاں ،جس شے کو جو سمجھو ، وہی معلُوم ہوتی ہے نکلتے ہیں کبھی تو چاندنی سے دُھوپ کے لشکر! کبھی خود دُھوپ، نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے کبھی کانٹوں کی نوکوں پرلبِ گُل رنگ کی نرمی کبھی، پُھولوں کی خوشبُو میں انی معلُوم ہوتی ہے وہ آہِ صُبح...
  11. فرخ منظور

    جوش پروگرام ۔ جوش ملیح آبادی کی نظم اور اس کی پیروڈی از شوکت تھانوی

    پروگرام (جوش ملیح آبادی) اے شخص ، اگر جوش کو تو ڈھونڈھنا چاہے وہ پچھلے پہر حلقۂ عرفاں میں ملے گا اور صبح کو وہ ناظرِ نظارۂ قدرت طرفِ چمن و صحنِ بیاباں میں ملے گا اور دن کو وہ سرگشتۂ اسرار و معانی شہرِِ ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا اور شام کو وہ مردِ خدا رندِ خرابات رحمت کدۂ بادہ فروشاں میں ملے...
  12. ع

    جوش نظم ۔ بدلی کا چاند ۔ جوش ملیح آبادی

    خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ظلمت کا نشاں لہرانے لگا مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا وہ سانولے پن پر میداں کی ہلکی سی سیاہی دوڑ گئی تھوڑا سا ابھر کر بادل سے وہ چاند جبیں جھلکانے لگا لو ڈوب گیا وہ بادل میں ، بادل میں وہ خط سے دوڑ گئے لو پھر وہ گھٹائیں چاک ہوئیں، ظلمت کا قدم تھرانے...
  13. کاشفی

    جوش رُکنے لگی ہے نبضِ رفتارِ جاں نثاراں - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) رُکنے لگی ہے نبضِ رفتارِ جاں نثاراں کب تک یہ تندگامی اے میرِشہسواراں اٹھلا رہے ہیں جھونکے، بوچھار آرہی ہے ایسے میں تو بھی آجا، اے جانِ جاں نثاراں کب سے مچل رہی ہے اس زلفِ خم نہ خم میں تعبیرِ خوابِ سُنبل، تفسیرِ بادوباراں خُوبانِ شہر کیا کیا اترا کے چل رہے ہیں آ بوستاں...
  14. مہدی نقوی حجاز

    جوش تلاشی

    تلاشی جس سے ارمانوں میں بجلی آگ طوفانوں میں ہے اے حکومت! کیا وہ شے ان میز کے خانوں میں ہے؟ بند پانی میں صفینہ کھے رہی ہے کس لئے تو مرے گھر کی تلاشی لے رہی ہے کس لئے گھر میں درویشوں کے کیا رکھا ہے بدنہاد آ، میرے دل کی تلاشی لے کہ بر آئے مراد جس کے اندر دہشتیں پر ہول طوفانوں کی ہیں لرز افگن...
  15. مہدی نقوی حجاز

    جوش کچھ ادھر کا حال بھی سن لیجئے۔۔۔ (خدا خیر کرے)

    کچھ ادھر کا حال بھی سن لیجئے حسن افسردہ پریشاں ہے خدا خیر کرے نوک مژگاں پہ چراغاں ہے خدا خیر کرے سطح عارض کی دھڑکتی ہوئی رنگینی سے دل کی ہر ضرب نمایاں ہے خدا خیر کرے خیمہ زمزمۂ و حجلہ، عود و نے میں ریۂ گوشہ نشیناں ہے خدا خیر کرے بے نیازی سے مری ناز شباب نو خیز بیعت عشوہ کا ساماں ہے خدا خیر...
  16. مہدی نقوی حجاز

    جوش برسات کی ایک شام

    برسات کی ایک شام (راجپوتانہ) خنک ہواؤں میں اٹھتی جونیوں کی خرام کنارِ دشت میں برسات کی گلابی شام زمیں کے چہرۂ رنگیں پر آسماں کی ترنگ خنک ہواؤں میں بھیگی ہوئی تہوں کا رنگ فلک پہ باز کی طفلانہ ابر پاروں کی! ندی کے موڑ میں انگڑائیاں نگاروں کی ہر ایک ذرے میں ہیجان مست ہونے کا ذرا سا ریل کی پٹری...
  17. کاشفی

    جوش نہ جانے رات کو تھا کون زینتِ پہلو - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) نہ جانے رات کو تھا کون زینتِ پہلو مَچل رہی تھی ہوا میں شراب کی خوشبُو حریم صلح میں قائم تھا ایک مرکز پر مزاجِ عشق و تقاضائے حُسنِ عربدہ جُو وفا کی انجمن شوق میں تھی شِیر و شکر جراحت ِ دل صد چاک و تیغِ صاعقہ خُو مٹا چکا تھا فلک رسمِ ساغر و سنداں بھُلا چکا...
  18. کاشفی

    جوش گزر رہا ہے اِدھر سے تو مُسکراتا جا - جوش ملیح آبای

    غزل (جوش ملیح آبادی) گزر رہا ہے اِدھر سے تو مُسکراتا جا چراغِ مجلسِ رُوحانیاں جَلاتا جا اُٹھا کے ناز سے شب آفریں نگاہوں کو کسی کی سوئی ہوئی رُوح کو جگاتا جا نگاہِ مہر سے اے آفتابِ عالم پاک حقیر خاک کے ذرّوں کو جگمگاتا جا مِلا کے مجھ سے نظر، عزتِ جنوں کی قسم چراغِ محفلِ عقل و خِرد بُجھاتا...
  19. کاشفی

    جوش ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا رندوں نے کائنات کو میخانہ (1)کر دیا اے حُسن! داد دے کہ تمنائے عشق نے تیری حیا کو عشوہء تُرکانہ کر دیا قُرباں ترے کہ اک نگہ التفات نے دل کی جھِجک کو جراءت رندانہ کر دیا صد شکر درسِ حکمتِ ناحق شناس کو ہم نے رہینِ نعرہء مستانہ...
  20. کاشفی

    جوش نہ جانے رات کو کیا میکدے میں مشغلہ تھا - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی نہ جانے رات کو کیا میکدے میں مشغلہ تھا کہ ہر نفس میں قیامت کا جوش و ولولہ تھا نگاہ، یار کی یوں اُٹھ رہی تھی جُھک جُھک کر زمین رقص میں تھی، آسماں پہ زلزلہ تھا لرز رہے تھے شگوفے، تڑپ رہے تھے نُجوم چھڑا ہوا نہیں معلوم کون مسئلہ تھا کبھی ہلال چمکتا تھا اور کبھی...
Top