بہادر شاہ ظفر

  1. عبدالرزاق قادری

    بہادر شاہ ظفر لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں ...... بہادر شاہ ظفر

    لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں...
  2. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر ہمارے آپ خفا ہو کے کیا مکاں سے گئے ۔ بہادر شاہ ظفر

    ہمارے آپ خفا ہو کے کیا مکاں سے گئے تمہارے جانے سے یاں ہم بھی اپنی جاں سے گئے گئے جو کوچۂ قاتل میں آہ! حضرتِ دل مری طرف سے وہ اے ہمدمو جہاں سے گئے نہ آیا شام کے وعدے پہ تو جو ماہ لقا خدنگ آہ! گزر اپنی آسماں سے گئے گئے جو ہم سے خفا ہو کے حضرتِ ناصح بُرا بھلا ہمیں کہتے ہوئے زباں سے گئے قطعہ...
  3. رانا

    چلمن

    ایک بار بہادر شاہ ظفر موسم برسات سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک ایک مصرع ہوا ع۔ جو چلمن ڈال دی ہے آسماں نے ابر باراں کی موصوف بہت دیر تک مصرعہ ثانی کی جستجو میں اس مصرع کو گنگناتے رہے مگر دوسرا مصرع نہ ہوسکا۔ کچھ دیر بعد حضرتِ غالب ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ظفر صاحب نے انہیں دیکھتے ہی...
  4. جیہ

    بہادر شاہ ظفر غزل۔ بہادر شاہ ظفر۔ جا کہیو ان سے نسیم سحر، میرا چین گیا میری نیند گئی

    غزل بہادر شاہ ظفر جا کہیو ان سے نسیمِ سحر! میرا چین گیا، میری نیند گئی تمہیں میری، نہ مجھ کو تمہاری خبر، میرا چین گیا، میری نیند گئی نہ حرم میں تمہارے یار پتہ نہ سراغ دیر میں ہے ملتا کہاں جا کے میں جاؤں کدھر ، میرا چین گیا میری نیند گئی اے بادشہِ خوبانِ جہاں! تیری موہنی صورت پہ...
  5. کاشفی

    بہادر شاہ ظفر کہاں تک چُپ رہوں چپکے رہنے سے کچھ نہیں‌ ہوتا - بہادر شاہ ظفر

    کہاں تک چُپ رہوں چپکے رہنے سے کچھ نہیں‌ ہوتا کہوں تو کیا کہوں ان سے، کہے سے کچھ نہیں‌ ہوتا شگفتہ ہو گل و بلبل سے تجھ بن کیا چمن میں دل ہنسی سے اس کی اس کے قہقہے سے کچھ نہیں‌ ہوتا نہیں ممکن کہ آئے رحم ان کو اے ظفر مجھ پر سہوں اس کے ستم کیا میں، سہے سے کچھ نہیں ہوتا (ابوالمظفر محمد بہادر...
  6. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر اس جہاں میں آکے ہم کیا کر چلے ۔ بہادر شاہ ظفر

    اس جہاں میں آکے ہم کیا کر چلے بارِ عصیاں سر پہ اپنے دھر چلے تُو نہ آیا اے مسیحا دم یہاں ہم اسی حسرت میں آخر مر چلے اُس گلی میں ہم تو کیا خورشید بھی ڈر کے مارے کانپتا تھر تھر چلے اس قدر پیکِ صبا میں دم کہاں ساتھ اُس آوارہ کے دم بھر چلے لے چلے کیا اس چمن سے غنچہ ساں ہم تو کیسہ اپنا خالی کر...
  7. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا ۔ بہادر شاہ ظفر

    یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تُو نے کیوں خرد مند بنایا، نہ بنایا ہوتا خاکساری کے لئے گرچہ بنایا تھا مجھے کاش خاکِ درِ جانانہ بنایا ہوتا تشنہء عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا دلِ صد چاک بنایا تو بلا سے...
  8. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر پان کھا کر نہ رقیبوں سے کیا کر باتیں، بہادر شاہ ظفر

    پان کھا کر نہ رقیبوں سے کیا کر باتیں رنگ لائیں نہ تیری کرنی چبا کر باتیں دیکھو تقدیر جو ایک بار ادھر آتے ہیں جاتے ہیں لاکھوں ہی وہ ہم کو سنا کر باتیں ہمدمو انکو میری شکل سے نفرت ہی سہی سن تو جائیں میرے دو کہو آ کر باتیں کیا تماشا ہے نہیں کرتے نگاہ بھی وہ ادھر کرتے ہیں غیر سے کیا...
  9. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر اس در په جو سر بار کے روتا کوئى ہوتا،بہادر شاہ ظفر

    اس در په جو سر بار کے روتا کوئى ہوتا تو بستر راحت پہ نہ سوتا کوئی ہوتا کس کا فلک اول و ہفتم کہ مرا اشک اک آنکھ جھپکتے میں ڈبوتا کوئی ہوتا یہ دل ہی تھا ناداں کہ تیری زلف سے الجھا یوں اپنے لئے خار نہ بوتا کوئی ہوتا بلبل بھی تھی جاں باختہ پروانہ بھی جانباز پر میری طرح جان نہ کھوتا کوئی...
  10. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر تیرا گر ناخن پا تیرا مائل دھو کے پی جاتا،بہادر شاہ ظفر

    تیرا گر ناخن پا تیرا مائل دھو کے پی جاتا تو اس کے ہاتھ پاؤں مل کے کامل دھو کے پی جاتا نہ آتا ہاتھ خوں میرا اگر اس تشنہ خوں کے تو اپنی تیغ پر خوں کو وہ قاتل دھو کے پی جاتا اگلتا زہر پھر کیا کیا وہ تیرا نخت سودائی اگر کوئی تیرے رخسار کا تل دھو کے پی جاتا اگر ہوسکتا عالم میں حصول علم بے محنت تو...
  11. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر کہوں کیا رنگ اس گل کا اہا ہا ہا اہا ہا ہا، بہادر شاہ ظفر

    کہوں کیا رنگ اس گل کا اہا ہا ہا اہا ہا ہا ہوا رنگیں چمن سارا اہا ہا ہا اہا ہا ہا نمک چھڑکے ہے وہ کس کس مزے سے دل کے زخموں پر مزے لیتا ہوں میں کیا کیا اہا ہا ہا ا ہا ہا ہا خدا جانے حلاوت کیا تھی آبِ تیخ قاتل میں لبِ ہر زخم ہے گویا اہا ہا ہا ا ہا ہا ہا شرار و برق میں کیا فرق میں سمجھوں کہ...
  12. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں، کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا،بہادر شاہ ظفر

    نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں، کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا غم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا رہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشین کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر، رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر...
  13. عمر سیف

    بہادر شاہ ظفر ہم نے دُنیا میں آ کے کیا دیکھا - بہادر شاہ ظفر

    ہم نے دُنیا میں آ کے کیا دیکھا ؟؟ دیکھا جو کچھ، سو خواب سا دیکھا ہے تو انسان خاک کا پُتلا ایک پانی کا بُلبلہ دیکھا خوب دیکھا جہاں کے خوباں کو ایک تجھ سا نہ دوسرا دیکھا ایک دم پر ہوا نہ باندھ حباب دم کو دم بھر یہاں ہوا دیکھا نہ ہوئے تیری خاکِ پا، ہم نے خاک میں آپ کو ملا دیکھا اب نہ...
  14. عمار ابن ضیا

    کلیات بہادر شاہ ظفر

    بسم اللہ الرحمن الرحیم قصیدہ نعتیہ اے سرور دوکون شہنشاہ ذوالکرم سرخیل مرسلین و شفاعت گرامم موکب ترا ملائک و مرکب ترا براق مولد ہے تیرا مکہ و معبد ترا حرم رنگ ظہور سے ترے گلشن ر خ حدوث نور وجود سے ترے روشن دل قدم ہوتا کبھی نہ قالب آدم میں نفع روح بھرتا اگر خدا نہ محبت کا تیری دم...
Top