1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

بہادر شاہ ظفر نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں، کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا،بہادر شاہ ظفر

ملائکہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 21, 2009

  1. ملائکہ

    ملائکہ محفلین

    مراسلے:
    10,592
    موڈ:
    Daring
    نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں، کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
    غم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا

    دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا
    رہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشین کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا

    نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر، رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
    پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

    تیرے ُرخ کے خیال میں کون سے دن اٹھے مجھ پہ نہ فتنہ روز جزا
    تیری زلف کے دھیان میں کون سی شب میرے سر پہ ہجوم بلا نہ رہا

    ہمیں ساغرِ بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غصب
    کہ یہ عہدِ نشاط یہ دورِطرب، نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا

    کئی روز میں آج و مہر لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نما
    مجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاس حجاب و حیا نہ رہا

    تیر خنجر و تیخ کی آب رواں ہوئی جبکہ سبیل ستمزدگاں
    گئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنہ آب بقا نہ رہا

    مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خون جگر
    ملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدہ تر کف پا جو رنگ حنا نہ رہا

    اسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں میری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں
    کیے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا

    لگے یوں تو ہزاروں تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم
    ولے ناز و کرشمہ کی تیخ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا

    ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا، وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
    جیسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جیسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

    بہادر شاہ ظفر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • متفق متفق × 1
  2. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ظفر آدمی اس کو نہ جائیے گا، وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
    جیسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جیسے طیش میں خوف خدا نہ رہا​

    سبحان اللہ سبحان اللہ! بہت شکریہ ملائکہ صاحبہ۔

    ایک رہا کتابت کی غلطی سے اضافی لکھ گئی ہیں آپ۔ اسے درست کر دیجیے:
    دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا رہا نہ رہا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  3. ملائکہ

    ملائکہ محفلین

    مراسلے:
    10,592
    موڈ:
    Daring
    شکریہ،ویسے میں نے کوشش کی تھی کہ کوئی غلطی نہ رہے پھر بھی نکل ہی آئی:worried::grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہادر شاہ ظفر کی بہت بہت خوبصورت غزل پوسٹ کی آپ نے۔ بہت شکریہ ملائکہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,155
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ ملائکہ، خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    بہت ہی خوبصورت کلام ہے شامل کرنے کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. ملائکہ

    ملائکہ محفلین

    مراسلے:
    10,592
    موڈ:
    Daring
    آپ سب لوگوں کا بھی شکریہ:):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں، کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
    غمِ عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا

    دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا
    رہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشین کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا

    نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر، رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
    پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

    ترے ُرخ کے خیال میں کون سے دن اٹھے مجھ پہ نہ فتنۂ روزِ جزا
    تری زلف کے دھیان میں کون سی شب مرے سر پہ ہجومِ بلا نہ رہا

    ہمیں ساغرِ بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غصب
    کہ یہ عہدِ نشاط یہ دورِطرب، نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا

    کئی روز میں آج وہ مہر لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نما
    مجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاسِ حجاب و حیا نہ رہا

    ترے خنجر و تیغ کی آبِ رواں ہوئی جبکہ سبیلِ ستم زدگاں
    گئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنہ آبِ بقا نہ رہا

    مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خونِ جگر
    ملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کفِ پا جو رنگِ حنا نہ رہا

    اسے چاہا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں
    کیے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا

    لگے یوں تو ہزاروں ہی تیرِ ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم
    ولے ناز و کرشمہ کی تیغ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا

    ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا، وہ ہو کیسا ہی صاحب ِفہم و ذکا
    جیسے عیش میں یادِِ خدا نہ رہی جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا

    (بہادر شاہ ظفر)
     
  9. نظام الدین

    نظام الدین محفلین

    مراسلے:
    1,005
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    خوبصورت انتخاب۔۔۔۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. حبیب صادق

    حبیب صادق محفلین

    مراسلے:
    24
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy

اس صفحے کی تشہیر