1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

کلیات بہادر شاہ ظفر

عمار ابن ضیا نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 8, 2007

  1. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    قصیدہ نعتیہ

    اے سرور دوکون شہنشاہ ذوالکرم
    سرخیل مرسلین و شفاعت گرامم
    موکب ترا ملائک و مرکب ترا براق
    مولد ہے تیرا مکہ و معبد ترا حرم
    رنگ ظہور سے ترے گلشن ر خ حدوث
    نور وجود سے ترے روشن دل قدم
    ہوتا کبھی نہ قالب آدم میں نفع روح
    بھرتا اگر خدا نہ محبت کا تیری دم
    کرتا تھا جس سے مردہ کو زندہ دم مسیح
    تھا شمہ تیرے خلق کا وہ اے علوشیم
    ٹوٹا جو کفر قوت اسلام سے ترے
    صد جائے سے شکست ہے زنار موج یم
    تو تھا سیریراوج رسالت پہ جلوہ گر
    آدم جہاں ہنوز پس پردہ عدم
    کرتا تھا تیرے اسم مبارک کو دل پہ نقش
    اس واسطے عزیز جہاں ہو گیا ورم
    اے معدن کرم تری ہمت کے روبرو
    کمتر ہے سنگریزہ سے قدر نگین جم
    جو کچھ سوائے عرش وہ سب اس کے سایہ میں
    تیرے ہوا ہے جاہ کا برپا جہان علم
    صدقے زمیں کے ہوتا نہ پھر پھر کے آسماں
    رکھتا سرمیں نہ اگر اپنا تو قدم
    محروم تیرے دست مبارک سے رہ گیا
    کیونکر نہ چاک اپنا گریباں کرے قلم
    عالم کو تیرا نور وا باعث ظہور!
    آدم ترے ظہور سے ہے مظہر اتم
    ہیں زایران روضہ اقدس ترے جہاں
    آتا ہے پائے بوس کو واں روضہ ارم
    واللیل تیرے گیسوئے مشکیں کی ہے ثنا
    ولشمس ہے ترے رخ پرنور کی قسم
    انصاف تیرا دیوے جو داد ستم کشاں
    دندان سین ارہ کشاں ہو سر ستم
    قرآں میں جبکہ خود ہو ثنا خواں ترا خدا
    کیا تاب پھر قلم کی جو کچھ کر سکے رقم
    تیری جناب پاک میں ہے یہ ظفر کی عرض
    صدقے میں اپنی آل کے اے شاہ محتشم
    صیقل سے اپنے لطف و عنایت کے دور کر
    آئینہ ضمیر سے میرے غبار غم
    پہنچا نہ آستان مقدس کو تیرے میں
    اس غم سے مثل چشمہ ہوئی میری چشم نم
    پر خاک آستاں کو تری اپنی چشم میں!
    کرتا ہوں سرمہ سیل تصور سے دم بدم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
  2. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    آغاز غزلیات

    مقدور کس کو حمد خدائے جلیل کا
    اس جا پہ بے زباں ہے دہن قال و قیل کا
    پانی میں اس نے راہبری کی کلیم کی
    آتش میں وہ ہوا چمن آرا خلیل کا
    اس کی مدد سے فوج ابابیل نے کیا
    لشکر تباہ کعبہ پہ اصحاب فیل کا
    پیدا کیا وہ اس نے بشر عوج بن عنق
    پل جس کی ساق پا سے بنارو د نیل کا
    پھرتا ہے اس کے حکم سے گردو ں یہ رات دن
    چلتا ہے یاں عمل کوئی جر ثقیل کا
    بلوایا اپنے دوست کو اس نے وہاں جہاں
    مقدور پر زدن نہ ہوا جبرئیل کا
    کیا پائے کنہ ذات کو اس کی کوئی ظفر
    واں عقل کا نہ دخل نہ ہرگز دلیل کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  3. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    کشتہ ہوں اس کے طرہ عنبر شمیم کا
    خوشبو ہے میری خاک سے دامن نسیم کا

    گلشن ہو خلد کا کہ چمن ہو نعیم کا
    کب دل لگے ہے تیری گلی کے مقیم کا

    دولت سے عشق کی مراہر قطرہ سرشک
    تکمہ ہے میری جیب میں در یتیم کا

    تاراج یوں کیا جو مرا ملک دل تمام
    مژگاں تھی تیری پا کوئی لشکر غنیم کا

    ہو جائے کام نیم نگہ میں تری تمام
    اے شوخ تیرے شیفتہ دل دو نیم کا

    دکھلائیں سوزش دل بیتاب ہم اگر
    کانپ اٹھے شعلہ شوق سے نار حجیم کا

    حیرت نہیں کہ پرتو رخسار یار سے
    آئینہ ہو اگر ید بیضا کلیم کا

    آتی ہیں یاد ہجر کی ہم کو اذیتیں
    واعظ سے ذکر سن کے عذاب الیم کا

    آنکھوں میں اپنے نور اسی سے ہے اے ظفر
    یہ مرومک ہے سایہ محمد کے میم کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  4. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    کسی نے اس کو سمجھایا تو ہوتا
    کوئی یاں تک اسے لایا تو ہوتا
    مزہ رکھتا ہے زخم خنجر عشق
    کبھی اے بوالہوس کھایا تو ہوتا
    نہ بھیجا تو نے لکھ کر ایک پرچہ
    ہمارے دل کو پرچایا تو ہوتا
    کہا عیسیٰ نے قم کشتے کو تیرے
    کچھ اب تو نے بھی فرمایا تو ہوتا
    نہ بولا ہم نے کھرکایا بہت در
    ذرا درباں کو کھڑکایا تو ہوتا
    یہ نخل آہ ہوتا بید ہی کاش
    نہ ہوتا گو ثمر سایا تو ہوتا
    جو کچھ ہوتا سو ہوتا تو نے تقدیر
    وہاں تک مجھ کو پہنچایا تو ہوتا
    کیا کس جرم پر تو نے مجھے قتل
    ذرا تو دل میں شرمایا تو ہوتا
    کیا تھا گر مریض عشق مجھ کو
    عیادت کو کبھی آیا تو ہوتا
    دل اس کی زلف میں الجھا ہے کب سے
    ظفر اک روز سلجھایا تو ہوتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  5. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    مژدہ اے دل کہ مرے پاس وہ یارا دے گا
    خاک پا اس کی بنوں گا وہ سوار آوے گا

    اس لیے صید گہ عشق میں ہم صید بنے
    کہ کبھی صید فگن بہر شکار آوے گا

    دیکھ اے دل تو نہ پی جام محبت کی شراب
    بے مزہ ہووے گا جس وقت خمار آوے گا

    دم لبوں پر ہے مرا آ جو تجھے آنا ہے
    مجھ کو کیا گرچہ پس از مرگ ہزار آوے گا

    تو جو آئینہ صفت غیر سے ہو جائے گا صاف
    تیری جانب سے مرے دل میں غبار آوے گا

    یہ یہیں تک ہے گلہ کہنا نہیں کوئی ہمیں
    گنتیاں بھولیں گے جب روز شمار آوے گا

    لے گیا ایک ہی بار آنے میں دل اپنا ظفر
    ہو گا کیا دیکھے جب وہ کئی بار آوے گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  6. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یار دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
    ہر ستم اس کا نیا اس کا ہے ہر پیار نیا

    نئی انداز کا ہے دام بلا طرہ یار
    روز ہے ایک نہ اک اس میں گرفتار نیا

    تیری ہاں میں ہے نہیں اور نہیں میں ہے ہاں
    تیرا اقرار نیا ہے ترا انکار نیا

    کیسے بیدرد دل آزار کو دل ہم نے دیا
    روز ہے درد نیا، روز اک آزار نیا

    کیا قیامت ہے ستمگار تری طرز خرام
    فتنہ ہر گام پہ اٹھا دم رفتار نیا

    کریں وہ کس کی دوا دیکھتے ہیں رو ز طبیب
    تیرے اس نرگس بیمار کا بیمار نیا

    پھیر لے اس سے ظفر دل کا جو سودا پھر جائے
    ایک موجود ہے اور اس کا خریدار نیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    نہ پوچھو دل کہاں پہنچا کسی کو کیا کہیں پہنچا
    جہاں پہنچا نہ کوئی یہ وہیں پہنچا وہیں پہنچا

    کہاں پہنچا ہے دیکھو ہمدموپیک خیال اپنا
    کہ اب تک اس جگہ کوئی فرشتہ بھی نہیں پہنچا

    زمیں لرزی ترپنے سے ترے بسمل کے یہ قاتل
    کہ آخر اس کا اک صدمہ سر گاوز میں پہنچا

    نہ پہنچا تو نہ پہنچا طالب دیدار تک اپنے
    تری تکتے ہی تکتے راہ وقت واپسیں پہنچا

    چھپا خورشید تاباں شرم سے زیر زمیں جا کر
    مری جو آہ کا شعلہ سر چرخ بریں پہنچا

    مجھے ڈر ہے نہ پہنچے پہچیوں کے بوجھ سے صدمہ
    کہ نازک ہے نہایت ہی ترا اے نازنیں پہنچا

    ظفر دامان مژگاں سے ٹپکا چاہے تھا آنسو
    اگر پہنچا سکے آنکھوں تلک تو آستیں پہنچا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  8. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ہاں فرو سوز دل اک دم نہ ہوا پر نہ ہوا
    اور گریہ سے بڑھا کم نہ ہوا پر نہ ہوا

    سن کر احوال جگر سوز غریب عشق کا
    ہائے افسوس تجھے غم نہ ہوا پر نہ ہوا

    کشتہ از کے افسوس جنازے پہ ذرا
    چشم پر آب تو اک دم نہ ہوا پر نہ ہوا

    چارہ گر کی نہیں تقصیر بہت کی تدبیر
    کارگر زخم پہ مرہم نہ ہوا پر نہ ہوا

    سن کے نالوں کو مرے ہو گئے پتھر پانی
    سر مژگاں کبھی ترا نم نہ ہوا پر نہ ہوا

    ہے مثل آ گیا دم ناک میں اپنا لیکن
    یار اپنا کبھی ہمدم نہ ہوا پر نہ ہوا

    میری جانب سے پڑی سخت گرہ دل میں ترے
    سست پیماں ترا محکم نہ ہوا پر نہ ہوا

    ہوں وہ آزاد کہ جوں سرو کسی کی خاطر
    قد تعظیم مرا خم نہ ہوا پر نہ ہوا

    رات ہمسایوں نے اٹھ اٹھ کے دعائیں مانگیں
    سوز نالہ مرا مدھم نہ ہوا پر نہ ہوا

    جہد کی صنع قدرت نے دلے تیرا سا
    کسی مخلوق پہ عالم نہ ہوا پر نہ ہوا

    اے ظفر دیکھئے عقبے میں ہو کیا حال اپنا
    چین دنیا میں تو اک دم نہ ہوا پر نہ ہوا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  9. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    آیا نہ اگر نامہ و پیغام کسی کا
    آخر ہے کوئی روز میں یاں کام کسی کا
    دیں جان تو ہم غیر کو دو بوسہ ہستم ہے
    لے جائے کوئی اور ، ہوا نام کسی کا
    اس چشم کی گردش سے ہو دل کیونکر نہ برباد
    گھر چھوڑے ہے کب گردش ایام کسی کا
    وہ کرتے ہیں آرام سدا غیر کے گھر میں
    کیا کام انہیں جائے ہو آرام کسی کا
    شب ہالہ مہ رشک سے گردوں پر نہ نکلا
    چھلا جو پڑا دیکھا لب بام کسی کا
    ساقی نہ کھلا بھید کہ اوندھا ہے فلک کیوں
    مدت سے ہے اوندھا ہوا بس جام کسی کا
    جو ہے وہ مرے نام سے ہے عشق میں آگاہ
    بدنام ظفر نہ ہو غرض نام کسی کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ہم نے دنیا میں آ کے کیا دیکھا
    دیکھا جو کچھ سو خواب سا دیکھا

    ہے تو انسان خاک کا پتلا
    ایک پانی کا بلبلا دیکھا

    خوب دیکھا جہاں کے خوباں کو
    ایک تجھ سا نہ دوسرا دیکھا

    ایک دم پر ہوا نہ باندھ حباب
    دم کو دم بھر میں یاں ہوا دیکھا

    سامنے اس نگاہ کے دل کو
    ہدف ناوک قضا دیکھا

    نہ ہوئے تیری خاک پا ہم نے
    خاک میں آپ کو ملا دیکھا

    اب نہ دیجئے ظفر کسی کو دل
    کہ جسے دیکھا بے وفا دیکھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  11. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اٹھا دے پردہ نہیں، پردہ میں اٹھا دوں گا
    طپش سے دل کی ابھی عرش تک ہلا دوں گا

    نہ ہوتا عشق کا میکش اگر خبر ہوتی
    کہ ایک جام میں دونوں جہاں بھلا دوں گا

    کہے ہے مجھ سے وہ قاتل کہ میرے کوچے میں
    رکھا جو تو نے قدم سر ترا اڑا دوں گا

    میں اس کو دیکھ کے یہ محو ہوں کہ حیران ہوں
    جو کچھ وہ پوچھے گا مجھ سے جواب کیا دوں گا

    اگر تو آوے گا تو جائے فرش پا انداز
    میں اپنی آنکھیں ترے زیر پا بچھا دوں گا

    دم خرام وہ بولا کہ ایک ٹھوکر میں
    ہزار فتنہ خوابیدہ کو جگا دوں گا

    جو پوچھا میں نے لب زخم تو کہے گا کیا
    کہا کہ خنجر قاتل کو میں دع دوں گا

    یہ دے کے دم مجھے لایا تھا کھینچ جوش ظہور
    کہ چل جہاں کا تماشا تجھے دکھا دوں گا

    نہ پوچھ مجھ سے ظفر میری تو حقیقت حال
    اگر کہوں گا ابھی تجھ کو میں رلا دوں گا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  12. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ڈالے ہوئے گردن جو مرا نامہ بر آیا
    کچھ مطلب دل یار کا معلوم کر آیا

    صورت ہے بتوں کی عجب اللہ کی قدرت
    ہر جلوے میں اک اور ہی جلوہ نظر آیا

    گر فکر میں ہو، راہ کے توشے کا کروفکر
    اے غافلو نزدیک ہے روز سفر آیا

    باندھی ترے ہاتھوں میں جو کل عیر نے مہندی
    آنکھوں میں مری دیکھ کے لو ہوا تر آیا

    لوٹے گا پڑا خاک کے بستر پہ وہ تا حشر
    آرام کی گٹھڑی کو جو ہستی میں دھر آیا

    کیا حرف زباں پر ترے آیا تھا کہ اے شمع
    گل گیر ترے سر پہ جو منہ کھول کر آیا

    کیا جانے بنی قیس پہ کیا دشت جنوں میں
    جو خاک بسر آج بگولا نظر آیا

    اک ہم ہی نہیں بے خبر آئے ہیں جہاں میں
    جو آیا جہاں میں ہے سو وہ بے خبر آیا

    میں شرم سے عصیاں کے ہوا سر بگریباں
    جس وقت خیال آہ ادھر کا ظفر آیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  13. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اس در پہ جو سر بار کے روتا کوئی ہوتا
    تو بستر راحت پہ نہ سوتا کوئی ہوتا

    کس کا فلک اول و ہفتم کہ مرا اشک
    اک آنکھ جھپکتے میں ڈبوتا کوئی ہوتا

    یہ دل ہی تھا ناداں کہ تری زلف سے الجھا
    یوں اپنے لیے خار نہ بوتا کوئی ہوتا

    بلبل بھی تھی جاں باختہ پروانہ بھی جانباز
    پر میری طرح جان نہ کھوتا کوئی ہوتا

    لالہ کے بھی کام آتا صبا گریہ شبنم
    گر داغ جگر اشک سے دھوتا کوئی ہوتا

    ہم بھی گل لخت جگر اپنے اسے دیتے
    یہ پھول جو بالوں میں پروتا کوئی ہوتا

    تنہائی میں اتنا تو نہ گھبراتا ظفر میں
    دل گرچہ مرے پاس نہ ہوتا کوئی ہوتا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    خط و رخ اس سیمبر کا سیہ ایسا سفید ایسا
    ورق کب ماہ انور کا سیہ ایسا سفید ایسا

    ڈزلف اور مانگ ہے اس کی کہ کوئی سانپ عالم میں
    نہیں اس کے برابر کا سیہ ایسا سفید ایسا

    مرے مژگان اشک آلودہ کو دیکھو کہ برسے ہے
    یہ بادل دیدہ تر کا سیہ ایسا سفید ایسا

    مسی زیب اس کے دنداں دیکھ حیراں ہوں کہ ہے کیونکر
    یہ رنگ اس سلک گوہر کا سیہ ایسا سفید ایسا

    نہ دیکھوں نرگس شہلا کا گل کیونکر کہ ہے نقشہ
    بعینہ چشم دلبر کا سیہ ایسا سفید ایسا

    خجالت کش سواد شام و نور صبح ہیں دونوں
    دوشالہ ہے ترے سر کا سیہ ایسا سفید ایسا

    سرشک سرمہ آلود اپنا دکھلا کر وہ کہتے ہیں
    کہ ہے رنگ میں اس کبوتر کا سیہ ایسا سفید ایسا

    نہ ہوویں سوسن و نسریں خجل کیونکر کہ ہے زیبا
    لباس اس ماہ پیکر کا سیہ ایسا سفید ایسا

    ظفر ہیں نیلم و الماس پتھر ایک صانع نے
    کیا ہے رنگ پتھر کا سیہ ایسا سفید ایسا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  15. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ترا گر ناخن پا تیرا مائل دھو کے پی جاتا
    تو اس کے ہاتھ پاؤں مل کے کامل دھوکے پی جاتا

    نہ آتا ہاتھ خوں میرا اگر اس تشنہ خوں کے
    تو اپنی تیغ پرخون کو وہ قاتل دھوکے پی جاتا

    اگلتا زہر پھر کیا کیا وہ تیرہ بخت سودائی
    اگر کوئی ترے رخسار کا تل دھو کے پی جاتا

    اگر ہو سکتا عالم میں حصول علم بے محنت
    تو پھر ساری کتابیں ایک جاہل دھو کے پی جاتا

    اٹھا سکتا جو مجنوں نقش پائے ناقہ لیلیٰ
    تو جوں تعویذ ہول دل وہ بیدل دھو کے پی جاتا

    حلاوت یاد کر کر تیری آب تیغ کی قاتل
    بدن کے زخم اپنے آپ گھائل دھو کے پی جاتا

    ظفر بے شغل ہی ہو جاتا سب کچھ منکشف اس پر
    در فخر جہاں گر کوئی شاغل دھو کے پی جاتا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  16. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اپنی جانب کو جسے تو نے لبھایا ہو گا
    کوئی اور اس کو سوا تیرے نہ بھایا ہو گا

    در تلک جس کو رسائی ترے ہو گی اس نے
    سنگ در چوم کے آنکھوں سے لگایا ہو گا

    دے گا وہ حرص و ہوس کو نہ کبھی دل میں جگہ
    دل میں جس شخص کے تو آپ سمایا ہو گا

    منہ تھا کیا ماہ کا کوٹھے پہ ترے منہ چڑھتا
    مہر پرنور نے بھی منہ نہ دکھایا ہو گا

    درد سر تم جو بتاتے ہو نصیب اعدا
    درد دل آپ کو عاشق نے سنایا ہو گا

    درپئے قتل نہیں میرے وہ قاتل اے دل
    تیغ ابرو کو جو کھینچا تو ڈرایا ہو گا

    بے خطا تو نہیں ہوتے ہیں ظفر وہ برہم
    زلف کو ہاتھ کہیں تو نے لگایا ہو گا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    زلف میں بل اور کاکل پرخم پیچ کے اوپر پیچ پڑا
    وہ ہوئی سرکش یہ ہوئی برہم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    دل کو ہے پیچ و تاب الم سے دود جگر پیچیدہ دم سے
    دیکھ تو کیسا عشق میں ہمدم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    پیچ سے وہ کرتا ہے یاری باتیں اس کی پیچ کی ساری
    نکلیں اس کے پیچ سے کیا ہم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    دل تو کمند غم میں پھنسا ہے جان اسیر دام بلا ہے
    عشق کے ہاتھوں ناک میں ہے دم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    یار نے جب یکہ پیچہ سج کر باندھا پھر سر پیچ کو سر پر
    ہو گیا اپنا اور ہی عالم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    دونوں طرف کو تار نظر کے کھینچتے ہیں دل دونوں طرف سے
    خوب پتنگوں میں ہے باہم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    موت نے آ کر ٹھونکا جب خم بھول گیا تو کشتی اس دم
    یوں تو بڑا تھا سب پر رستم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    زلف نے کھل کر پیچ پہ مارے پیچ میں لائے دل کو ہمارے
    چوٹی کھلی تو اور بھی اس دم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    جبکہ فتح پیچ اس نے سر پہ گوندھ کے باندھا جوڑا کافر
    دل نے جانا آج مسلم پیچ کے اوپر پیچ پڑا

    عشق ظفر ہے گورک دھندا اس کے کھولے پیچ کوئی کیا
    ایک کھلا تو دوسرا محکم پیچ کے اوپر پیچ پڑا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  18. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اشک کا قطرہ فقط کیا صاف گوہر سا بنا
    بلکہ لخت دل بھی ہے یاقوت احمر سا بنا

    صبحدم گلشن میں آیا میکشی کو کیا وہ گل
    ہر گل لالہ جو ہے یکدست ساعر سا بنا

    گل سے بھی نازک بدن اس کا ہے لیکن دوستو
    یہ غضب کیا ہے کہ دل پہلو میں پتھر سا بنا

    دشت میں بھی تیرے مجنوں کی مگر تدبیر ہے
    خار وادی جنوں جو تیر و نشتر سا بنا

    کیا گریباں ہے بنا اس ماہ کا ہیکل ہلال
    بلکہ تکمہ بھی گریباں کا ہے اختر سا بنا

    در پر اس پردہ نشیں کے آہ وقت انتظار
    چشم کا حلقہ ہمارے حلقہ در سا بنا

    کیا عجب حال سوید اگر جلے مثل سپند
    سوزش الفت سے دل اپنا ہے مجمر سا بنا

    عشق نے کیا جانیے کیا دل میں بھڑکائی ہے آگ
    اب جو سینے میں مرے ہر داغ اخگر سا بنا

    اے ظفر منظور تھا اس چشم کو عاشق کا قتل
    اس لیے ہرموئے مژگاں اس کا خنجر سا بنا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  19. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    منہ نظر آوے نہ کیوں کر آنکھ میں اس یار کا
    آنکھ اپنی بن گئی ہے آئنہ دیدار کا

    صفحہ قرآن پر کھینچی ہے اک جدول سیاہ
    مصحف رخ پر وہ سایہ زلف کے ہر تار کا

    پاس ابرو کے مرصع کارٹیکاہے کہاں
    ہے میاں قبضہ جڑاؤ یار کی تلوار کا

    زحم دل کو صاف کرتا ہے خیال خط سبز
    چارہ گر مرہم نہ رکھ بے فائدہ زنگار کا

    گرمری مژگان تر برسائے موتی ایک بار
    نام دھو ڈالے جہاں سے ابر گوہر بار کا

    دیکھا جھانکا کہیں وہ مہروش شاید کہ ہے
    اختر صبح قیامت روزن اس دیوار کا

    محو حیرت کیوں نہ ہو وہ اے ظفر آئینہ دار
    دیکھنے والا جو ہو اس آئینہ رخسارکا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر