غزل
اُس کو تو جیت دیکھنا یا ہار دیکھنا
مجھ کو مگر لڑائی کا معیار دیکھنا
آوارگی کو چھوڑے زمانہ ہوا مگر
آیا نہیں ابھی ہمیں گھر بار دیکھنا
خلوت میں آنکھ بھر کے جسے دیکھنا محال
ہر انجمن میں اس کو لگاتار دیکھنا
لوگوں کو تیرے کوچے کی رونق پہ سوچنا
ہم کو ترے مکان کی دیوار دیکھنا
حبسِ خیال و...
غزل
سب بدلتے جا رہے ہیں سر بسر اپنی جگہ
دشت اب اپنی جگہ باقی نہ گھر اپنی جگہ
نامساعد صورتِ حالات کے باوصف بھی
خود بنالیتے ہیں جنگل میں شجر اپنی جگہ
میں بھی نادم ہوں کہ سب کے ساتھ چل سکتا نہیں
اور شرمندہ ہیں میرے ہمسفر اپنی جگہ
کیوں سِمٹتی جا رہی ہیں خود بخود آبادیاں
چھوڑتے کیوں جا رہے...
غزل
تنہا بھی منہ اُٹھا کے نکلنا محال ہے
ہمراہ بھی ہجوم کے چلنا محال ہے
حرفِ دعا کا صفحہ ء دستِ بلند پر
وہ بوجھ ہے کہ ہاتھ بدلنا محال ہے
دل نے جلائی ہیں جو سرِ طاقِ انتظار
اُن موم بتیوں کا پگھلنا محال ہے
گم کیا ہوا ہے کاسہ ء درویش شہر میں
نظریں اُٹھا کے شہر کا چلنا محال ہے
میرے بھی...
غزل
وہ ہاتھ ہی تھا اور، وہ پتھر ہی اور تھا
دیکھا پلک جھپک کے تو منظر ہی اور تھا
تیرے بغیر جس میں گزاری تھی ساری عمر
تجھ سے جب آئے مل کے تو وہ گھر ہی اور تھا
سُنتا وہ کیا کہ خوف بظاہر تھا بے سبب
کہتا میں اُس سے کیا کہ مجھے ڈر کچھ اور تھا
جاتی کہاں پہ بچ کے ہوائے چراغ گیر
مجھ جیسا ایک...
غزل
جو لمحہ رائگاں گزرا وہی تو کام کا تھا
بہر نفس یہ زیاں عمرِ ناتمام کا تھا
یہ کیا ہوا کہ بھرے آسماں کے آنگن میں
بچھڑ گیا جو ستارہ ہمارے نام کا تھا
بڑھا کے اُس سے رہ و رسم اب یہ سوچتے ہیں
وہی بہت تھا جو رشتہ دعا سلام کا تھا
ہر اک کے بس میں کہاں تھا کہ سو رہے سرِ شام
یہ کام بھی ترے...
غزل
کیاری خالی خالی ہے
گہری سوچ میں مالی ہے
رنگ ہے وہ اُڑنے والا
آنکھ وہ بھولنے والی ہے
اُکتا کر تنہائی سے
اک تصویر بنالی ہے
ہات ہوا میں لہرائے
گاڑی جانے والی ہے
نامانوس لب و لہجہ
صورت دیکھی بھالی ہے
مائیں دروازوں پر ہیں
بارش ہونے والی ہے
کچھ نہیں اُس کی مُٹھی میں...
غزل
ہر قرضِ سفر چُکا دیا ہے
دشت اور نگر ملا دیا ہے
جُز عشق کسے ملی یہ توفیق
جو پایا اُسے گنوا دیا ہے
پہلے ہی بہت تھا ہجر کا رنج
اب فاصلوں نے بڑھا دیا ہے
آبادیوں سے گئے ہُوؤں کو
صحراؤں نے حوصلہ دیا ہے
دیوار بدست راہ رو تھے
کس نے کسے راستہ دیا ہے
بچھڑا تو تسلی دی ہے اس نے
کس دھند میں...
غزل
جمال وعدہ ء یک نانِ خشک پر رہنا
ہمارے واسطے آساں ہے عمر بھر رہنا
سرھانا جان کے پتھر تلک چُرا لیں گے
سفر میں جاگتے رہنا جدھر جدھر رہنا
کوئی بھی ہو اُسے لاتا ہے کم وہ خاطر میں
ہمیں بھی اپنی ہوا میں زیادہ تر رہنا
کئی دنوں سے عجب حال ہو گیا اپنا
نہ اُس گلی ہی میں جانا نہ اپنے گھر رہنا...
غزل
دلِ پژ مُردہ کو ہم رنگِ ابر و باد کردے گا
وہ جب بھی آئے گا اس شہر کو آباد کردے گا
کوئی محرابِ دل ہو، طاقِ جاں ہو یا شبِ تیرہ
جہاں چاہے گا وہ روشن چراغِ یاد کردے گا
وہ سارے رابطے توڑے گا ہم سے اور اچانک پھر
تعلق کی نئی صورت کوئی ایجاد کردے گا
گزر جائے گی یہ بھی شام پچھلی شام کی مانند...
غزل
بہت دنوں سے دکھائی نہیں دیا وہ شخص
یہ تجھ سے پوچھتے ہوں گے تری گلی والے
بس ایک حرفِ متانت سے جل کے راکھ ہوئے
وہ میرے یار مِرے قہقہوں کے متوالے
اگر وہ جان کے درپے ہیں اب تو کیا شکوہ
وہ لوگ تھے بھی بہت میرے چاہنے والے
مقدروں کی لکیروں سے مات کھا ہی گئے
ہم ایک دوسرے کا ہاتھ چومنے والے...
اطہر نفیسؔ کے نام ۔۔۔۔
ہے جس کے ہاتھ میں پتھر اُسے گماں بھی نہیں
کہ فکرِ آئینہء جسم و جاں، یہاں بھی نہیں
جو بات تیری نظر میں ہے اور مرے دل میں
اگر زباں پہ نہ آئے تو رائیگاں بھی نہیں
اب اُس نے وقت نکالا ہے حال سُننے کو
بیان کرنے کو جب کوئی داستاں بھی نہیں
وہ دل سے سرسری گزرا، کرم کیا اُس...
یہ پڑھ کر ایک بار پھر دل اُداس ہوگیا، واقعی یہ تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ عنیقہ ناز جیسی بہادر خاتون ایک دن یوں اچانک کسی کو بتائے بغیر ہی دنیا سے چلی جائیں گی۔ سچ پوچھیے تو اردو بلاگنگ کی دنیا میں ایسی قد آور شخصیت کا ملنا محال ہی ہے۔
دعا ہے اللہ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن سےپر اپنی رحمتوں...
واہ واہ واہ ۔۔۔۔! قرۃ العین کمال کر دیا آپ نے تو۔۔۔!
ماشاءاللہ اتنے بہت سارے اور اتنے خوبصورت عید کارڈز وہ بھی اس محبت سے پیش کئے ہیں آپ نے کہ دل خوش ہوگیا۔
جیتی رہیے۔ :)
میری عنیقہ ناز سے صرف ایک ملاقات ہوئی تھی بلاگرز میٹ اپ میں۔ وہ بہت ہی نفیس خاتون تھیں اور ہنس مکھ بھی ۔ عنیقہ اپنی بات کہنے کا سلیقہ جانتی تھیں، سب سے اچھی بات یہ کہ وہ ہمیشہ عقلی استدلال اور دلیل کو اہمیت دیتی تھیں۔