جمال احسانی غزل ۔ تنہا بھی منہ اُٹھا کے نکلنا محال ہے ۔ جمال احسانی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 29, 2012

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,907
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غزل
    تنہا بھی منہ اُٹھا کے نکلنا محال ہے
    ہمراہ بھی ہجوم کے چلنا محال ہے
    حرفِ دعا کا صفحہ ء دستِ بلند پر
    وہ بوجھ ہے کہ ہاتھ بدلنا محال ہے
    دل نے جلائی ہیں جو سرِ طاقِ انتظار
    اُن موم بتیوں کا پگھلنا محال ہے
    گم کیا ہوا ہے کاسہ ء درویش شہر میں
    نظریں اُٹھا کے شہر کا چلنا محال ہے
    میرے بھی دستخط ہیں سرِ محضرِ شکست
    میرے لئے بھی بچ کے نکلنا محال ہے
    جمالؔ احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  2. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,235
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    میرے لئے بھی بچ کے نکلنا محال ہے
    شاعر یقیناََ پاکستانی نہیں۔۔:D
     
  3. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,907
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    :)

    شاعر ہیں تو پاکستانی ہی ۔ لیکن شاعرانہ مزاج رکھتے ہیں سو خود بچ بھی نکلے تو ضمیر بھیا نہیں چھوڑیں گے۔ :)
     
  4. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,612
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    گم کیا ہوا ہے کاسہ ء درویش شہر میں
    نظریں اُٹھا کے شہر کا چلنا محال ہے
    واہ
     
  5. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,907
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    انتخاب کی پسندیدگی کا شکریہ۔۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فرخ انیق

    فرخ انیق محفلین

    مراسلے:
    43
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    اُن موم بتیوں کا پگھلنا محال ہے ۔۔۔۔ کیا اچھا کہا ہے۔۔ بھئی بہت خوب
     

اس صفحے کی تشہیر