1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جمال احسانی غزل ۔ سب بدلتے جا رہے ہیں سر بسر اپنی جگہ ۔ جمال احسانی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 29, 2012

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل
    سب بدلتے جا رہے ہیں سر بسر اپنی جگہ
    دشت اب اپنی جگہ باقی نہ گھر اپنی جگہ
    نامساعد صورتِ حالات کے باوصف بھی
    خود بنالیتے ہیں جنگل میں شجر اپنی جگہ
    میں بھی نادم ہوں کہ سب کے ساتھ چل سکتا نہیں
    اور شرمندہ ہیں میرے ہمسفر اپنی جگہ
    کیوں سِمٹتی جا رہی ہیں خود بخود آبادیاں
    چھوڑتے کیوں جا رہے ہیں بام و در اپنی جگہ
    چاند کے ہمراہ وہ جلوہ نما ہے بام پر
    اور قدموں کو پکڑتی رہگزر اپنی جگہ
    جو کچھ اِن آنکھوں نے دیکھا ہے، میں اُس کا کیا کروں
    شہر میں پھیلی ہوئی جھوٹی خبر اپنی جگہ
    ایک اندیشہ تو اُس کی ہمرہی سے ہے مجھے
    اور پھر اُس کے بچھڑ جانے کا ڈر اپنی جگہ
    اِس نگر سے کوچ کرنا بھی مرے بس میں نہیں
    اِس نگر پر میرے دشمن کا اثر اپنی جگہ
    میں جمالؔ اپنی جگہ سے اس لئے ہٹتا نہیں
    وہ گھڑی آجائے شاید لوٹ کر اپنی جگہ
    جمال احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 4
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    زبردست انتخاب احمد بھائی

    ایک اندیشہ تو اُس کی ہمرہی سے ہے مجھے
    اور پھر اُس کے بچھڑ جانے کا ڈر اپنی جگہ
     
  3. حمیرا عدنان

    حمیرا عدنان مدیر

    مراسلے:
    6,676
    جھنڈا:
    Kuwait
    موڈ:
    Angelic
    بہت خوب عمدہ انتخاب ہے احمد بھائی
     
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,927
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت عمدہ انتخاب۔
     
  5. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    واہ واہ! کیا خوبصورت غزل ہے !
    جمال احسانی مرحوم کو اسی کے اوائلِ عشرہ میں نیشنل سینٹر حیدرآباد کے ایک مشاعرے میں سننے اور ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا ۔ ان کی شاعری ہماری زندگی کی عکاس ہے ۔
    جو کچھ اِن آنکھوں نے دیکھا ہے، میں اُس کا کیا کروں
    شہر میں پھیلی ہوئی جھوٹی خبر اپنی جگہ

    اِس نگر سے کوچ کرنا بھی مرے بس میں نہیں
    اِس نگر پر میرے دشمن کا اثر اپنی جگہ​
     
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ :)
    واہ۔۔۔! یہ تو قابلِ رشک بات ہے کہ آپ کو جمال احسانی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جمال احسانی کی شاعری مجھے بے حد پسند ہیں اور محفل میں میں نے ان کا کافی کلام شریک کیا ہے۔

    کچھ اشعار دیکھیے:

    یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
    کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے

    اُس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھیری نہیں
    وہاں بھی چند مُسافر اُترنے والے تھے

    ----

    اُس رستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
    ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑھی سیدھے پاؤں کی
    محفل پر جمال احسانی کا کلام آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  7. یوسف سلطان

    یوسف سلطان محفلین

    مراسلے:
    3,609
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    :):):)
    بہت خوبصورت!! اور ربط دینے کا بھی بہت شکریہ محمداحمد بھائی !
    نیشنل سینٹر حیدرآباد اسّی کے عشرے میں ہماری بیٹھک ہوا کرتی تھی- ساری شامیں وہیں گزرتی تھیں ۔ بہت یادیں وابستہ ہیں اس دور سے۔ ہائے حیدرآباد مرحوم!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر